Daily Roshni News

ابو لہب اور ابو جہل — وہ دل جنہوں نے حق کو سامنے دیکھ کر بھی قبول نہ کیا

ابو لہب اور ابو جہل — وہ دل جنہوں نے حق کو سامنے دیکھ کر بھی قبول نہ کیا

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )تمہید:تاریخِ اسلام میں کچھ نام ایسے ہیں جنہیں سنتے ہی دل کے اندر عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ صرف دو انسانوں کے نام نہیں، بلکہ تکبر، حسد، اقتدار کی ہوس، قبائلی غرور، اور روحانی اندھے پن کی علامت بن چکے ہیں۔

ایک وہ تھا جو رسول اللہ ﷺ کا سگا چچا تھا۔ گھر کا فرد۔ خون کا رشتہ۔ بچپن سے آپ ﷺ کو جاننے والا۔ مگر اُس کے دل میں ایسا اندھیرا پیدا ہوا کہ وہ قرآن میں ہمیشہ کے لیے مذمت کا نشان بن گیا۔

اور دوسرا وہ تھا جو مکہ کی طاقت، سیاست، غرور، اور سرداری کا نمائندہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ محمد ﷺ جھوٹے نہیں ہیں، مگر اُس کی انا یہ برداشت نہ کر سکی کہ نبوت بنو ہاشم کو مل جائے۔

یہ تحریر صرف تاریخ نہیں۔ یہ انسانی نفس کی تشریح ہے۔ یہ اُن دلوں کی کہانی ہے جنہوں نے سچ کو پہچانا مگر جھکنے سے انکار کر دیا۔ یہ اُن آنکھوں کی داستان ہے جنہوں نے معجزات دیکھے مگر ایمان نہ لائیں۔ یہ اُن زبانوں کی حقیقت ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جادوگر، شاعر، مجنون کہا… حالانکہ اندر سے جانتے تھے کہ یہ کلام انسان کا نہیں ہو سکتا۔

مکہ کا ماحول — جہاں سے مخالفت نے جنم لیا

تاریخِ اسلام میں کچھ نام ایسے ہیں جنہیں سنتے ہی دل کے اندر عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ صرف دو انسانوں کے نام نہیں، بلکہ تکبر، حسد، اقتدار کی ہوس، قبائلی غرور، اور روحانی اندھے پن کی علامت بن چکے ہیں۔ ایک وہ تھا جو رسول اللہ ﷺ کا سگا چچا تھا۔ گھر کا فرد۔ خون کا رشتہ۔ بچپن سے آپ ﷺ کو جاننے والا۔ مگر اُس کے دل میں ایسا اندھیرا پیدا ہوا کہ وہ قرآن میں ہمیشہ کے لیے مذمت کا نشان بن گیا۔

اور دوسرا وہ تھا جو مکہ کی طاقت، سیاست، غرور، اور سرداری کا نمائندہ تھا۔ وہ جانتا تھا کہ محمد ﷺ جھوٹے نہیں ہیں، مگر اُس کی انا یہ برداشت نہ کر سکی کہ نبوت بنو ہاشم کو مل جائے۔ یہ تحریر صرف تاریخ نہیں۔ یہ انسانی نفس کی تشریح ہے۔ یہ اُن دلوں کی کہانی ہے جنہوں نے سچ کو پہچانا مگر جھکنے سے انکار کر دیا۔ یہ اُن آنکھوں کی داستان ہے جنہوں نے معجزات دیکھے مگر ایمان نہ لائیں۔ یہ اُن زبانوں کی حقیقت ہے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کو جادوگر، شاعر، مجنون کہا… حالانکہ اندر سے جانتے تھے کہ یہ کلام انسان کا نہیں ہو سکتا۔

مکہ کا ماحول — جہاں سے مخالفت نے جنم لیا

رسول اللہ ﷺ کی بعثت کے وقت مکہ صرف ایک شہر نہیں تھا۔ وہ عرب کی مذہبی، معاشی، اور سیاسی طاقت کا مرکز تھا۔ کعبہ موجود تھا۔ عرب کے قبائل حج کے لیے آتے تھے۔ تجارت چلتی تھی۔ قریش کو عزت حاصل تھی۔ یہ صرف عبادت کا مسئلہ نہیں تھا۔ یہ اقتدار کا مسئلہ بھی تھا۔

اگر لوگ بت چھوڑ دیتے…

اگر سب انسان برابر ہو جاتے…

اگر غلام اور سردار ایک صف میں کھڑے ہو جاتے…

اگر تقویٰ کو نسب پر فوقیت مل جاتی…

تو قریش کی وہ پوری طاقت ہل جاتی جس پر اُنہوں نے اپنی سرداری قائم کی ہوئی تھی۔ اسی لیے اسلام صرف ایک مذہب نہیں لگ رہا تھا۔ وہ پورا نظام بدلنے آیا تھا۔اور یہی بات ابو جہل اور ابو لہب جیسے لوگوں کو اندر سے ہلا رہی تھی۔

ابو لہب — خون کا رشتہ، مگر دل کا اندھیرا

 رسول اللہ ﷺ کے سگے چچا تھے۔ اُن کا اصل نام عبدالعزیٰ بن عبدالمطلب تھا۔ وہ خوبصورت چہرے والے شخص تھے، اسی لیے اُنہیں “ابو لہب” کہا جاتا تھا، یعنی آگ جیسا چہرہ یا چمک والا انسان۔ مگر عجیب irony یہ ہے کہ جس شخص کا چہرہ آگ جیسا روشن کہا جاتا تھا، اُس کا دل اندر سے اندھیرا بن چکا تھا۔ وہ خاندان کا فرد تھا۔ اُس نے رسول اللہ ﷺ کو بچپن سے دیکھا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ محمد ﷺ جھوٹ نہیں بولتے۔

مگر جب نبوت آئی… اُس کا نفس بغاوت کر گیا۔ کیوں؟ کیونکہ بہت سے لوگ سچ کو اس لیے نہیں جھٹلاتے کہ وہ سچ نہیں ہوتا… بلکہ اس لیے جھٹلاتے ہیں کہ وہ سچ اُن کی انا توڑ دیتا ہے۔

پہلی کھلی مخالفت

جب رسول اللہ ﷺ نے صفا پہاڑی پر قریش کو جمع کیا اور فرمایا کہ اگر میں کہوں کہ پہاڑ کے پیچھے دشمن کا لشکر موجود ہے تو کیا تم یقین کرو گے؟ سب نے کہا: ہم نے آپ کو ہمیشہ سچا پایا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اللہ کی طرف بلایا۔ یہاں ابو لہب کا نفس بھڑک اٹھا۔ اُس نے کہا: “تباً لک… ألہذا جمعتنا؟” یعنی: تباہی ہو تمہارے لیے، کیا اسی لیے ہمیں جمع کیا تھا؟ یہ وہ لمحہ تھا جہاں قرآن نے جواب دیا:

“تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ”

یہ صرف ایک انسان کی مذمت نہیں تھی۔ یہ تکبر کے پورے نظام پر اعلانِ جنگ تھا۔

سورۂ لہب — ایک زندہ انسان کے خلاف نازل ہونے والی سورت

کتنی حیرت انگیز بات ہے کہ قرآن میں مکمل سورت نازل ہوئی، اور اُس میں ابو لہب اور اُس کی بیوی دونوں کا ذکر آیا۔ یہ تاریخ میں ایک عجیب واقعہ ہے۔ ایک زندہ انسان کے بارے میں اعلان ہو گیا کہ وہ ایمان نہیں لائے گا۔ اور واقعی وہ آخر تک ایمان نہ لا سکا۔ حالانکہ اگر وہ صرف ظاہری طور پر بھی اسلام قبول کر لیتا، تو لوگ کہتے کہ قرآن کا بیان غلط ہو گیا۔ مگر اُس کے دل کی ضد اُسے وہاں تک لے گئی جہاں اُس نے اپنی آخرت برباد کر لی۔

ابو لہب کی بیوی — کانٹے بچھانے والی عورت

ابو لہب کی بیوی اُم جمیل بھی اسلام کی شدید دشمن تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے راستے میں کانٹے بچھاتی تھی۔ سوچیے… کائنات کے سب سے رحیم انسان ﷺ، جنہوں نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں دی… اُن کے راستے میں کانٹے بچھائے جاتے تھے۔ اور وہ صبر کرتے تھے۔ یہ صرف جسمانی اذیت نہیں تھی۔ یہ نفسیاتی جنگ تھی۔ ہر روز تذلیل۔ ہر روز مذاق۔ ہر روز نفرت۔ مگر رسول اللہ ﷺ کا صبر پہاڑوں سے زیادہ مضبوط تھا۔

ابو جہل — غرور کا فرعون

اصل نام عمرو بن ہشام تھا۔ اسلام آنے سے پہلے اُسے “ابو الحکم” کہا جاتا تھا، کیونکہ لوگ اُسے عقل مند سمجھتے تھے۔ مگر اسلام نے اُسے “ابو جہل” کہا۔ جہالت کا باپ۔ کیونکہ اصل عقل وہ نہیں جو دنیا جیت لے۔ اصل عقل وہ ہے جو حق کے سامنے جھک جائے۔ ابو جہل مکہ کی طاقت تھا۔ سیاست اُس کے پاس تھی۔ قبیلے اُس سے متاثر تھے۔ اور یہی طاقت اُس کے ایمان کی سب سے بڑی دیوار بن گئی۔

وہ جانتا تھا کہ محمد ﷺ سچے ہیں

بعض روایات میں آتا ہے کہ ابو جہل نے خود اعتراف کیا کہ ہم جانتے ہیں محمد ﷺ جھوٹے نہیں۔ مگر اُس نے کہا: بنو ہاشم کہتے ہیں ہمارے پاس نبوت ہے… پھر ہمارے پاس کیا بچے گا؟ یہ حسد تھا۔ یہ اقتدار کی جنگ تھی۔ یہ وہ لمحہ ہے جہاں انسان سچ کو اس لیے رد کرتا ہے کیونکہ اُس کا نفس شکست قبول نہیں کرتا۔ # کمزور مسلمانوں پر ظلم اسلام کے ابتدائی دنوں میں جن لوگوں نے ایمان قبول کیا، اُن میں غلام، غریب، کمزور، اور سماج کے دبے ہوئے لوگ زیادہ تھے۔ اور یہی لوگ ظلم کا سب سے بڑا نشانہ بنے۔ ابو جہل اُنہیں تپتی ریت پر گھسیٹتا تھا۔ مارا جاتا تھا۔ بھوک دی جاتی تھی۔ لوہے سے جلایا جاتا تھا۔ صرف اس لیے کہ وہ “اللہ ایک ہے” کہتے تھے۔ حضرت سمیہؓ کو شہید کرنے والا بھی یہی شخص تھا۔ اسلام کی پہلی شہیدہ۔

سوچیے… ایک بوڑھی عورت۔ کمزور جسم۔ مگر ایمان پہاڑ سے مضبوط۔ اور سامنے ابو جہل جیسا ظالم۔ یہ تاریخ صرف واقعات نہیں… یہ روحوں کی جنگ تھی۔

رسول اللہ ﷺ کا گلا دبانے کی کوشش

ایک روایت میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے تو ابو جہل نے آپ ﷺ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ کبھی اونٹ کی اوجھڑی لا کر سجدے میں ڈال دی گئی۔ کبھی گلا دبانے کی کوشش کی گئی۔ کبھی جادوگر کہا گیا۔ کبھی شاعر۔ کبھی مجنون۔ مگر حیرت یہ ہے کہ وہ سب لوگ ایک بات پر متفق تھے: محمد ﷺ جھوٹے نہیں ہیں۔ وہ صرف یہ نہیں چاہتے تھے کہ لوگ اُن پر ایمان لے آئیں۔

شعبِ ابی طالب — تین سال کی قید

جب قریش اسلام روک نہ سکے، تو انہوں نے بنو ہاشم کا بائیکاٹ کر دیا۔ شعبِ ابی طالب میں محصور کر دیا گیا۔ تین سال۔ بھوک۔ پیاس۔ بچوں کے رونے کی آوازیں۔ درختوں کے پتے کھائے گئے۔

سوچیے… یہ وہ رسول ﷺ تھے جن کے لیے آسمان کے دروازے کھلتے تھے، مگر زمین پر اُنہیں بھوکا رکھا جا رہا تھا۔ اور ابو جہل و ابو لہب جیسے لوگ اس ظلم میں شامل تھے۔

طائف کے بعد مکہ

جب طائف والوں نے پتھر مارے، جسم مبارک خون سے بھر گیا، تب بھی رسول اللہ ﷺ نے بددعا نہیں دی۔ یہی فرق تھا۔ ایک طرف نفرت تھی۔ دوسری طرف رحمت۔ ایک طرف انا تھی۔ دوسری طرف معافی۔ یہی وہ چیز ہے جو اسلام کو صرف تاریخ نہیں بلکہ نور بناتی ہے۔

# بدر — غرور کا خاتمہ

ابو جہل اپنی پوری طاقت کے ساتھ نکلا۔ اُسے یقین تھا کہ مسلمان ختم ہو جائیں گے۔ مگر تاریخ بدل گئی۔ وہ شخص جو خود کو مکہ کا سب سے بڑا طاقتور سمجھتا تھا… زمین پر گرا پڑا تھا۔ اور اُس کا غرور اُس کے ساتھ دفن ہو گیا۔ جب اُس سے آخری لمحات میں پوچھا گیا، تب بھی اُس کی انا باقی تھی۔ یہی تکبر کا انجام ہے۔ انسان مرتے وقت بھی جھکنا نہیں چاہتا۔

ابو لہب کی موت

روایات میں آتا ہے کہ بدر کے بعد ابو لہب کو مسلمانوں کی فتح کی خبر ملی۔ وہ اندر سے ٹوٹ گیا۔ پھر بیماری میں مبتلا ہوا۔ اور اُس کی موت ایسی حالت میں ہوئی کہ لوگ اُس کے قریب جانے سے بھی ڈرتے تھے۔ یہ دنیاوی طاقت کا انجام تھا۔ جس شخص نے رسول اللہ ﷺ کو کمزور سمجھا… وقت نے اُسے تنہا چھوڑ دیا۔

اصل سوال — وہ ایمان کیوں نہ لائے؟

یہی سب سے اہم سوال ہے۔ کیونکہ معجزات انہوں نے دیکھے۔ رسول اللہ ﷺ کی سچائی جانتے تھے۔ قرآن سنتے تھے۔ پھر کیوں نہیں مانے؟ جواب صرف ایک لفظ میں ہے: “انا”

انسان کا نفس کبھی کبھی اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیتا ہے۔ پھر وہ حق دیکھ کر بھی انکار کرتا ہے۔ ابو لہب خون کے رشتے میں قریب تھا، مگر دل سے دور تھا۔ ابو جہل عقل مند تھا، مگر روحانی طور پر اندھا تھا۔ یہی قرآن کا سب سے بڑا سبق ہے: ہدایت صرف علم سے نہیں ملتی۔ ہدایت کے لیے جھکنا پڑتا ہے۔

آج کا ابو لہب اور ابو جہل

یہ صرف تاریخ کے کردار نہیں۔ ہر دور میں ابو لہب پیدا ہوتے ہیں۔ ہر دور میں ابو جہل پیدا ہوتے ہیں۔ کبھی وہ خاندان کے اندر ہوتے ہیں۔ کبھی اقتدار میں۔ کبھی میڈیا میں۔ کبھی انسان کے اپنے نفس کے اندر۔ جب انسان سچ جان کر بھی انا کی وجہ سے نہ مانے… وہ ابو جہل کے راستے پر ہوتا ہے۔ جب انسان رشتہ ہونے کے باوجود حق کا دشمن بن جائے… وہ ابو لہب کے راستے پر ہوتا ہے۔ یہ تحریر صرف دو انسانوں کی تاریخ نہیں۔ یہ ہر اُس دل کے لیے آئینہ ہے جو سچ کے سامنے کھڑا ہے۔

Loading