ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ابو لہب کے بیٹے عتیبہ(لعنتی گستاخ) نے ایک سفر پر روانہ ہونے سے پہلے بارگاہِ نبوت میں انتہائی گستاخی کی۔ یہاں تک کہ بدزبانی کرتے ہوئے حضور رحمۃٌ للعالمین صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم پر جھپٹ پڑا اور آپ کی شان میں گستاخی کی اپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو رنج و صدمہ گزرا اورجوش غم میں آپ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکل پڑے کہ ’’یا اﷲ! اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو اس پر مسلط فرما دے۔‘‘
اس دعاء نبوی کا یہ اثر ہواکہ ابولہب اورعتیبہ دونوں تجارت کے لیے ایک قافلہ کے ساتھ ملک شام گئے اور مقامِ ’’زرقا‘‘ میں ایک راہب کے پاس رات میں ٹھہرے راہب نے قافلہ والوں کو بتایا کہ یہاں درندے بہت ہیں ۔ آپ لوگ ذرا ہوشیار ہو کر سوئیں ۔ یہ سن کر ابولہب نے قافلہ والوں سے کہا کہ اے لوگو!محمد (صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم ) نے میرے بیٹے عتیبہ کے لیے ہلاکت کی دعا کر دی ہے۔ لہٰذا تم لوگ تمام تجارتی سامانوں کو اکٹھا کرکے اس کے اوپرعتیبہ کا بستر لگادو اور سب لوگ اس کے ارد گرد چاروں طرف سو رہو تاکہ میرا بیٹا درندوں کے حملہ سے محفوظ رہے۔ چنانچہ قافلہ والوں نے عتیبہ کی حفاظت کا پورا پورا بندوبست کیا لیکن رات میں بالکل ناگہاں ایک شیر آیا اور سب کو سونگھتے ہوئے کود کر عتیبہ کے بستر پرپہنچا اور اس کے سر کو چبا ڈالا۔ لوگوں نے ہر چند شیر کو تلاش کیا مگر کچھ بھی پتا نہیں چل سکا کہ یہ شیر کہاں سے آیا تھا؟ اور کدھر چلا گیا۔ 1
(زرقانی جلد ۳ ص ۱۹۷ تا۱۹۸)
خدا کی شان دیکھئے کہ ابولہب کے دونوں بیٹوں عتبہ اور عتیبہ نے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم کی دونوں شہزادیوں کو اپنے باپ کے مجبور کرنے سے طلاق دے دی مگر عتبہ نے چونکہ بارگاہِ نبوت میں کوئی گستاخی اور بے ادبی نہیں کی تھی۔ اس لیے وہ قہرالٰہی میں مبتلا نہیں ہوابلکہ فتح مکہ کے دن اس نے اور اس کے ایک دوسرے بھائی ’’معتب‘‘ دونوں نے اسلام قبول کرلیا اور دست ِاقدس پر بیعت کرکے شرف صحابیت سے سرفراز ہوگئے۔ اور ’’عتیبہ‘‘ نے اپنی خباثت سے چونکہ بارگاہِ اقدس میں گستاخی و بے ادبی کی تھی اس لیے وہ قہر قہار و غضب جبار میں گرفتار ہو کر کفرکی حالت میں ایک خونخوار شیر کے حملہ کا شکار بن گیا۔(والعیا ذ باﷲ تعالٰی منہ)
میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ کچھ لوگوں کو شائد کوئی غلط فہمی نے اندھا کر دیا ہے کہ پتا نہیں صرف انسان ہی گستاخوں اور بے ادبوں کا بدلا لے سکتے ہیں۔ایسا بلکل نہیں یہ اس بندے کی خوش نصیبی ہے جس سے اللہ پاک کوئی کام لے ورنہ کائنات کا زرہ زرہ اس کے حکم کا پابند وہ جس سے چاہے جو چاہے کام لے لے۔۔میرے آقا کا ذکر ہمیشہ بلند رہے گا اِن شاء اللہ کتنے ہی منہ کالے مٹ گئے۔
(زرقانی جلد۳ ص۲۰۰)
1 المواہب اللدنیۃ وشرح الزرقانی، باب فی ذکر اولادہ الکرام، ج۴، ص ۳۲۵، ۳۲۶
2 شرح الزرقانی علی المواہب ، باب فی اولاد ہ الکرام ، ج۴، ص ۳۲۷
![]()

