اسوہ رسول ﷺ
خواجہ شمس الدین عظیمی /ادارہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ اسوہ رسول ﷺ۔۔۔ خواجہ شمس الدین عظیمی /ادارہ)رسول اللہ ﷺ کی طرز فکر، سنت یا اسوہ حسنہ کو سمجھنے کے لیے جوامع الکلم سید نا حضور علیہ صلوۃ والسلام نے خود ر ہنمائی فرمائی ہے۔ ان فرمودات پر یکسوئی کے ساتھ تفکر کیا جائے تو آپ ﷺ کے اسوۂ حسنہ کو واضح طور سے سمجھا جا سکتا ہے۔
ایک زمانہ ایسا بھی گزرا ہے جب ہر طرف سکوت وانجہاد تھا۔ مشیت خداوندی نے چاہا کہ تنہائی ختم ہو اور سکوت حرکت میں تبدیل ہو جائے۔ مخلوقات کا ظہور ہوتا کہ اللہ کی قدرت اور ربوبیت کا مظاہرہ ہو۔ مشیت کا ارادہ صدائے ”کن“ بن کر گونجا۔ زندگی
نے انگڑائی لی اور حرکت کا آغاز ہوا۔
مشیت الہی کی اس چاہت اور خواہش کو حدیث نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
كنتُ كنزا مخفياً فأحببت أن أعرف فخلقت الخلق لكي أعرف كشف التقاء ]
ترجمہ : ” میں چھپا ہوا خزانہ تھا پس میں نے مخلوق کو محبت کے ساتھ تخلیق کیا تا کہ میں پہچانا جاؤں“۔
اللہ تعالی نے اس نظام کو قائم رکھنے کے لئے اپنے اور مخلوق کے درمیان ایک ایسی ہستی کو پردہ، واسطہ یا میڈیم بنایا جو خالق سے قریب ترین مخلوق ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد عالی مقام ہے۔
اول ما خلق الله نوری
اللہ نے سب سے پہلے میر انور تخلیق کیا۔
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ایک لاکھ چو میں ہزار پیغمبر بیجے۔ پیغمبروں نے اپنی تعلیمات کے ساتھ ساتھ کسی نہ کسی عنوان سے ایک اور بات یہ بھی کہی کہ آخر میں ایک نجات دہندہ آئے گا۔ کسی نے نجات دہندہ کہا اور کسی نے فارقلیط کہا۔ سب کا مقصد نبی آخر حضرت محمد ﷺ کی بعثت کی بشارت تھی۔
اللہ کے آخری نبی حضرت محمد رسول اللہ ﷺنے توحید کی دعوت دی اور اچھائی اور برائی سے واقفیت عطا فرمائی۔ بت پرستی، جھوٹ، لڑائی و فساد سے منع فرمایا۔
حضور ﷺ نے اپنے سے پہلے آنے والے انبیاء کی دعوت کا اعادہ فرمایا لیکن اپنے بعد کسی اور نبی کی بشارت نہیں دی، کیونکہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اللہ نے قرآن میں واشگاف انداز میں فرمادیا کہ محمد ﷺ خاتم النیین ہیں۔
اللہ تعالی نے اپنے محبوب بندے حضرت محمد مصطفی ﷺ کو جو مقام عطا کیا ہے وہ ازل تا ابد تک قائم رہے گا۔ اللہ تعالی نے نعتیں اپنے حبیب حضرت محمد مصطفی ﷺ پر تمام کی ہیں۔
ہم مسلمان اللہ کے حبیب محمد ﷺ کے امتی ہیں۔ سیدنا حضور علیہ الصلواۃ والسلام ہمارے آقاء ہمارے ہادی ہیں اور ہمارا وسیلہ ہیں۔ آج کے مسلمانوں نے اس نسبت اور نعمت کا کتنا احترام کیا ہے…. اور ہم نے اس نعمت اور قرآن سے کتنا فائدہ اٹھایا ہے …. ؟ ہم سب کو اس کا خود جائزہ لینا چاہیے۔ ہر سال ربیع الاول کا مہینہ آتا ہے ۔ زمین سے آسمانی رفعتوں تک محمد ﷺ کے نام کی صدا بلند ہوتی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ امتیوں کی جانب سے حضور کی تعلیمات پر عملدرآمد کا حال کیا ہے….؟ ماہ ربیع الاول بے شک اللہ تعالی کی اس نعمت عظیم کی یاد گار ہے ، یہ مہینہ ہمیں اس طرف بھی متوجہ کرتا ہے کہ ہم اپنے اندر جھانک کر دیکھیں۔ اپنے باطن کا تجزیہ کریں۔
اسود رسول اور قرآنی تعلیمات
قرآنی تعلیمات کے مطابق اسوار سول اللہ ﷺ کی قیم کے اتباع کے بغیر کوئی مسلمان دنیا و آخرت میں کامیابی نہیں پا سکتا۔
قرآن حکیم نے اللہ کی اطاعت اور رسول کی اطاعت کے بارے میں رہنمائی فرمائی ہے کئی مقامات پر اللہ نے اپنی اطاعت کے ساتھ رسول اللہ کی اطاعت کو ضروری قرار دیا ہے اور کہیں صرف رسول ﷺ کی اطاعت و پیروی ہی کا ذکر کیا ہے۔
ترجمہ : جو شخص رسولﷺ کی پیروی کرے گا تو بے شک اس نے اللہ کی پیروی کی۔“ [سورہ نساء]
ترجمہ : اور ہم نے جو بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے۔ “ [سورہ نساء]
ترجمہ : ”لوگوں سے کہہ دیجئے اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔ خدا تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ اللہ بڑا بخشنے والا رحم کرنے والا ہے۔ ” [ سورہ آل عمران] اللہ اور اس کے رسول ﷺپر ایمان کے تقاضے اسی وقت پورے ہو سکتے ہیں جب رسول الله من با نام کی اطاعت کو حرز جاں بنا لیا جائے۔
اتباع رسول کیسے ؟؟؟
رسول الله ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری سے نوع انسان کی شعوری سکت کو معراج ملی۔ رسول الله ﷺ کی زندگی پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہو گا کہ رسول اللہ ﷺنے اللہ کی آیات اور نشانیوں پر غور و فکر کیا اور مسلمانوں کو بھی اللہ کی نشانیوں میں غور و فکر کا درس دیا ہے۔
اللہ کی نشانیوں میں تفکر انبیاء کرام علیہ السلام کی سنت ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالی نے اولی الالباب لوگوں کی نشانی یہ بتائی ہے کہ وہ اللہ کی آیات، انسان کی پیدائش، مخلوقات کو زندگی قائم رکھنے کیلئے زمین پر موجود اللہ کے عطا کردہ وسائل اور الہامی کتب پر غور و فکر کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺکی سیرت پر عمل کرتے ہیں۔
امت مسلمہ دین اور دنیا میں سرخرو ہونا چاہتی ہے تو اسے حضور علیہ الصلواۃ والسلام کی سنت پر عمل کر کے اللہ کی نشانیوں پر غور و فکر کرنا ہو گا۔
بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ ستمبر 2024
![]()

