Daily Roshni News

اللہ تعالی کی محبت کا جذبہ بیدار کیا جائے

اللہ تعالی کی محبت

کا جذبہ بیدار کیا جائے

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اے طالبِ حق اور راہِ محبت کے پیاسے مسافر! اللہ تعالیٰ تمہارے باطن کو اپنے نور سے منور فرمائے۔ تمہارے دل کو اپنے جلال کے ادب اور اپنے جمال کی محبت سے مالامال کرے، اور تمہیں ان باخبر لوگوں میں شامل فرمائے جو ہر حال میں رب کی رضا پر قائم رہتے ہیں۔

آئیں، حضور سیدنا غوثِ اعظم، قطبِ ربانی، شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتاب فتوح الغیب کی نویں مجلس کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔ سرکار کا یہ وعظ مبارک اللہ تعالیٰ کی صفاتِ جلالی و جمالی اور بندے پر ان کے باطنی اثرات کے رازوں پر مبنی ہے۔

مقالہ نہم (نویں مجلس)

صفاتِ جلالی و جمالی کا باطنی اثر

اپنے شفیق مرشد کی اس بات پر غور کرو۔ حضور غوثِ پاکؒ فرماتے ہیں کہ پروردگارِ عالم اپنے اسماء و صفات کے ذریعے اپنے بندوں کی تربیت فرماتا ہے۔ جب اس کی صفتِ جلال ظاہر ہوتی ہے تو دل ہیبت سے کانپ اٹھتا ہے اور انسان کا غرور فنا ہو جاتا ہے۔ اور جب اس کی صفتِ جمال ظاہر ہوتی ہے تو باطن کو سرور، سکون اور محبّت کی شادابی نصیب ہوتی ہے۔

اس مبارک معرفت کو سمجھنے کے لیے سرکارؒ نے تین اہم باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔

  1. صفتِ جلال کی تجلی اور ہیبتِ الٰہی

یاد رکھو کہ جب بندے کے دل پر اللہ تعالیٰ کے جلال، عظمت اور کبریائی کی تجلی پڑتی ہے، تو اس کے نفس کا غرور اور برائیاں بالکل فنا ہو جاتی ہیں۔

ایک ایسے شخص کا تصور کرو جو ایک ہیبت ناک اور طاقتور بادشاہ کے دربار میں کھڑا ہو۔ کیا وہ وہاں کوئی غفلت یا بے ادبی کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! اس پر ایک عجیب رعب اور ہیبت طاری ہوتی ہے۔ اسی طرح جب ذاتِ باری تعالیٰ کے جلال کا ظہور ہوتا ہے، تو سالک کا وجود کانپ اٹھتا ہے اور اس کے دل پر خدا کا خوف اور ادب غالب آ جاتا ہے۔

قرآنِ پاک میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ وہ غیرتِ دینی اور جلالِ الٰہی کے تحت اپنے بھائی کی داڑھی پکڑ لیتے تھے۔ اسی طرح حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا مزاج بھی حفظِ توحید اور جلالِ الٰہی کا مظہر تھا۔

حضرت علی ہجویری داتا گنج بخشؒ اپنی کتاب کشف المحجوب میں فرماتے ہیں کہ جلالِ الٰہی کا غلبہ بندے سے اس کے نفس کا وجود مٹا دیتا ہے اور اسے بارگاہِ حق میں عاجز بنا دیتا ہے۔

حضور غوثِ اعظمؒ اپنی کتاب الفتح الربانی میں فرماتے ہیں کہ جب رب کا جلال ظاہر ہو تو بندے کا کام یہ ہے کہ وہ اپنی عقل اور تدبیر کو چھوڑ کر صرف رب کی عظمت کے سامنے جھک جائے۔

  1. صفتِ جمال کی تجلی اور باطنی سرور

جلال کے بعد جب بندے پر صفاتِ جمال، یعنی رحمانیت، لطف، معافی اور کرم کا ظہور ہوتا ہے، تو اس کے دل کو باطنی سکون اور قربت نصیب ہوتی ہے۔

ایک ایسی تپتی ہوئی زمین کو دیکھو جو شدید گرمی سے خشک ہو چکی ہو۔ جب اس پر رحمت کی ٹھنڈی بارش برستی ہے، تو وہ زمین دوبارہ سبزہ زار بن جاتی ہے۔ اسی طرح جلال کی ہیبت سے گھبرائے ہوئے دل پر جب جمالِ الٰہی کی رحمت برستی ہے، تو اسے باطنی راحت اور رب کی محبت کا جام نصیب ہوتا ہے۔

نبی کریم ﷺ صفاتِ جمال کے عظیم ترین مظہر تھے۔ آپ ﷺ نے فتحِ مکہ کے موقع پر اپنے سخت ترین دشمنوں کو بھی معاف فرما دیا۔ آپ ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرماتے تھے:

“یا بلالُ! أَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ”

ترجمہ: اے بلال! اذان دو تاکہ ہم نماز کے ذریعے راحت حاصل کریں۔

حضرت سلطان باہوؒ اپنی کتاب کلید التوحید میں فرماتے ہیں کہ جمالِ الٰہی کا مشاہدہ وہ نعمت ہے جو عاشق کے دل کو جلا بخشتی ہے اور اسے وصلِ الٰہی کا سرور عطا کرتی ہے۔

حضرت خواجہ معین الدین اجمیری چشتیؒ اپنے ارشادات دلیل العارفین میں فرماتے ہیں کہ جب بندے پر جمالِ خداوندی کا انکشاف ہوتا ہے تو وہ مخلوق کے شر سے بے نیاز ہو کر صرف رب کے کرم میں مگن ہو جاتا ہے۔

  1. جلال و جمال میں توازن اور کامل رضا

ایک سچا عارف وہی ہے جو جلال کے وقت ادب اور صبر کو ہاتھ سے نہ جانے دے، اور جمال کے وقت شکر اور عاجزی کا پیکر بن جائے۔

ایک ایسے پرندے کو دیکھو جو دو پروں کے بغیر اڑ نہیں سکتا۔ مومن کے لیے جلال (خوف) اور جمال (امید) وہی دو پر ہیں۔ سالک کو چاہیے کہ جلال میں رب کی حکمت دیکھے اور جمال میں اس کا احسان، اور دونوں حالوں میں رب کے فیصلے پر راضی رہے۔

حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کاکیؒ کے ارشادات فوائد السالکین میں درج ہے کہ سچا سالک وہ ہے جو جلال و جمال دونوں حالتوں میں اپنے رب سے راضی رہے اور اپنے قدم کو جادۂ شریعت سے نہ ہٹنے دے۔

حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے اس حسین توازن کو یوں بیان فرمایا ہے:

ہو حلقہِ یاراں تو بریشم کی طرح نرم

رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن

حضور غوثِ پاکؒ اس نویں مجلس کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان فرماتے ہیں:

اے انسان! اللہ تعالیٰ کی ذات جلال اور جمال دونوں صفات کی جامع ہے۔ جب تجھ پر جلال کی حالت آئے تو توبہ اور عاجزی اختیار کر، اور جب جمال کی تجلی ہو تو شکر اور محبت سے اس کا قرب حاصل کر۔ جو ان دونوں حالتوں میں رب کی رضا پر راضی رہتا ہے، وہی سچّی معرفت حاصل کرتا ہے۔

اے پیارے مسافر! یہ تھی نویں مجلس کی روح پرور تاثیر۔ کیا اس تحریر نے تمہارے اندر جلالِ الٰہی کے ادب اور جمالِ الٰہی کی محبت کا جذبہ بیدار کیا؟

Loading