Daily Roshni News

شاہجہاں اور ممتاز محل کی دختر جہاں آراء بیگم جو کہ ایک عالمہ، عابدہ، زاہدہ، مصنفہ اور شاعرہ تھیں۔۔ ✍️

شاہجہاں اور ممتاز محل کی دختر جہاں آراء بیگم جو کہ ایک عالمہ، عابدہ، زاہدہ، مصنفہ اور شاعرہ تھیں۔۔ ✍️

​ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مغلیہ تاریخ عظمت، شان و شوکت اور سیاسی داؤ پیچ کی داستانوں سے بھری پڑی ہے۔ اس تاریخ میں جہاں جہاں گیر، شاہجہاں اور اورنگزیب جیسے عظیم الشان بادشاہوں کے نام درخشاں ہیں، وہاں مغلیہ حرم کی چند بااثر خواتین نے بھی سیاست، ثقافت، ادب اور تصوف کے میدان میں وہ نقوش چھوڑے جو تاریخ کے اوراق پر ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان بااثر خواتین میں سب سے نمایاں اور ممتاز نام شاہجہاں کی سب سے چہیتی بیٹی جہاں آرا بیگم کا ہے۔ جہاں آرا محض ایک شہزادی نہیں تھیں، بلکہ وہ ایک بیدار مغز سیاست دان، سخی، فن پرور، معمار، اور اونچے درجے کی صوفیہ و شاعرہ تھیں۔

​ولادت اور ابتدائی تربيت

​جہاں آرا بیگم کی ولادت 23 مارچ 1614ء کو اجمیر میں ہوئی۔ وہ مغلیہ شہنشاہ شاہجہاں اور ملکہ ممتاز محل کی سب سے بڑی بیٹی تھیں۔ ان کی پیدائش کے وقت مغلیہ سلطنت پر ان کے دادا جہانگیر کی حکومت تھی۔ جہاں آرا کی تربیت مغلیہ دربار کے بہترین اساتذہ اور عالمانہ ماحول میں ہوئی۔ ان کی والدہ ممتاز محل اور دادی نور جہاں نے ان کی شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کیا۔ جہاں آرا کو بچپن ہی سے فارسی اور عربی زبان پر عبور حاصل تھا، اور ان کا ذوقِ مطالعہ نہایت اعلیٰ تھا۔

​پادشاہ بیگم کا لقب اور سیاسی و معاشی اقتدار:

​1631ء میں ممتا ز محل کے انتقال کے بعد شاہجہاں غم سے نڈھال ہو گئے۔ اس مشکل وقت میں 17 سالہ جہاں آرا نے نہ صرف اپنے والد کو سنبھالا بلکہ حرم اور سلطنت کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی اپنے سر لی۔ شاہجہاں نے انہیں “پادشاہ بیگم” (سلطنت کی پہلی خاتون/ملکہ) کا اعلیٰ ترین لقب عطا کیا۔

​مغلیہ دربار میں جہاں آرا کا مقام کسی بھی شہزادے سے کم نہ تھا۔ انہیں سلطنت کے اہم فیصلوں میں مشاورتی حق حاصل تھا۔ شاہجہاں اپنی اس بیٹی کی رائے کو بے حد اہمیت دیتے تھے۔ جہاں آرا کو سلطنت کی طرف سے بھاری وظائف اور جائیدادیں عطا کی گئی تھیں۔ وہ اپنے دور کی امیر ترین خواتین میں سے تھیں۔ ان کا اپنا تجارتی بحری جہاز تھا جس کا نام “صاحبی” تھا، جو سورت کی بندرگاہ سے عرب اور دیگر ممالک کے ساتھ تجارت کرتا تھا۔ اس تجارت سے حاصل ہونے والی آمدنی کا بڑا حصہ وہ غریبوں، یتیموں اور مسافروں کی بہبود پر خرچ کرتی تھیں۔

​تعمیراتی ذوق اور شاہجہاں آباد (دہلی):

​اپنے والد شاہجہاں کی طرح جہاں آرا بیگم کو بھی فنِ تعمیر سے گہرا لگاؤ تھا۔ جب شاہجہاں نے شاہجہاں آباد (موجودہ پرانی دہلی) کی بنیاد رکھی، تو جہاں آرا نے اس شہر کی آرائش و زیبائش میں مرکزی کردار ادا کیا۔

​چاندنی چوک: پرانی دہلی کا مشہورِ زمانہ بازار “چاندنی چوک” جہاں آرا بیگم ہی کی تخلیق اور منصوبہ بندی کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے اس بازار کے درمیان میں ایک مربع حوض بنوایا تھا جس میں چاندنی راتوں میں چاند کا عکس نظر آتا تھا، اسی مناسبت سے اس کا نام چاندنی چوک پڑا۔

​کاروان سرائے اور باغات: انہوں نے دہلی اور آگرہ میں کئی عالی شان مساجد، باغات، اور مسافروں کے لیے کاروان سرائیاں تعمیر کروائیں۔ ان کی بنوائی ہوئی کاروان سرائے اپنی نوعیت کی ایک بہترین عمارت تھی جہاں غیر ملکی تاجر اور مسافر قیام کرتے تھے۔

​جانشینی کی جنگ اور جہاں آرا کا کردار:

​1657ء میں جب شاہجہاں شدید بیمار ہوئے، تو ان کے بیٹوں (دارا شکوہ، شجاع، اورنگزیب اور مراد) کے درمیان جانشینی کی خونریز جنگ چھڑ گئی۔ جہاں آرا اپنے بڑے بھائی دارا شکوہ کے قریب تھیں کیونکہ دارا بھی انہی کی طرح صوفیانہ مزاج رکھتا تھا۔ جہاں آرا نے بھائیوں کے درمیان صلح کروانے اور جنگ کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکیں۔

​اورنگزیب عالمگیر نے فتح حاصل کرنے کے بعد اپنے والد شاہجہاں کو آگرہ کے قلعے میں نظر بند کر دیا۔ اس مشکل اور آزمائش کے وقت میں جہاں آرا نے محل کی تمام آسائشوں کو خیرباد کہہ دیا اور اپنے بیمار اور سالخورده والد کی خدمت کے لیے خود کو وقف کر دیا۔ انہوں نے شاہجہاں کے انتقال (1666ء) تک آگرہ کے قلعے میں ان کی دن رات دیکھ بھال کی۔ Shahjahan کے انتقال کے بعد اورنگزیب نے جہاں آرا کی عزّت و احترام کو بحال کیا، انہیں دوبارہ “پادشاہ بیگم” کا درجہ دیا اور ان کے وظائف جاری کیے۔

​تصوف اور روحانی سفر:

​جہاں آرا بیگم کی زندگی کا سب سے روشن پہلو ان کا تصوف اور روحانیت کی طرف میلان تھا۔ وہ سلسلۂ چشتیہ سے شدید عقیدت رکھتی تھیں اور بعد میں اپنے بھائی دارا شکوہ کے ساتھ ملا شاہ بدخشی کی مرید بنیں، جو سلسلۂ قادریہ کے معروف صوفی تھے۔

​انہوں نے تصوف پر دو اہم کتابیں تصنیف کیں:

​مؤنس الارواح: یہ خواجہ معین الدین چشتیؒ اور ان کے خلفا کے حالاتِ زندگی اور مناقب پر مشتمل ایک مستند اور جذب سے بھرپور کتاب ہے۔

​صاحبیہ: یہ کتاب انہوں نے اپنے مرشد ملا شاہ بدخشی کے سوانح اور اپنے روحانی تجارب پر لکھی۔

​جہاں آرا بیگم کی شاعری اور منتخب اشعار:

​جہاں آرا بیگم فارسی زبان کی ایک بیدار مغز اور صاحبِ دیوان شاعره تھیں۔ ان کی شاعری میں تصوف، عشقِ الٰہی، دنیا کی بے ثباتی، عاجزی اور سوز و گداز کا عنصر نمایاں ہے۔ ان کا تخلص “فقیرہ” یا “جہاں آرا” تھا۔ انہوں نے اپنے کلام میں بادشاہت کی شان و شوکت کے بجائے صوفیانہ فقر اور عاجزی کو موضوع بنایا۔

​ذیل میں ان کی فارسی شاعری کے دس منتخب اشعار ان کے اردو مفہوم کے ساتھ پیش کیے جا رہے ہیں جو ان کے فکری و روحانی مرتبے کی عکاسی کرتے ہیں:

​1. عاجزی اور صوفیانہ مقام:

​بغیر سبزہ نہ پوشد کسے مزار مرا

کہ بے کسے را ہمین گیاہ بس است

(اردو ترجمہ: میرے مزار کو گھاس کے علاوہ کسی چیز سے نہ ڈھانپا جائے، کیونکہ مجھ جیسے بے کس کی قبر کے لیے یہی گھاس کاپوشش کافی ہے۔)

​2. بندگی اور عجز:

​چوں ما بہ خاکِ راہِ تو افتادہ ایم پاک

بر سر فتادہ سایہٴ لطفِ تو بس است

(اردو ترجمہ: جب ہم تیرے راستے کی پاک مٹی میں پڑے ہیں، تو ہمارے سر پر تیرے لطف و کرم کا سایہ ہی کافی ہے۔)

​3. دنیا کی بے ثباتی:

​جہاں و ہر چہ درو ہست جملہ فانی دان

بجز خدا کہ بقا ہست مر خداوند را

(اردو ترجمہ: دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس تمام کو فانی سمجھ، سوائے خدا کی ذات کے کہ ہمیشگی و بقا صرف اسی مالک کے لیے ہے۔)

​4. عشقِ الٰہی:

​در دلم غیر از محبت نیست ہیچ

جانِ من قربانِ آن جانانہ باد

(اردو ترجمہ: میرے دل میں محبت کے سوا کچھ نہیں ہے، میری جان اس محبوبِ حقیقی پر قربان ہو جائے۔)

​5. فقر کی عظمت:

​فقر و فناست دولتِ جاوید نزدِ ما

شاہیِ این جہاں بہ گدائے نہ می دہیم

(اردو ترجمہ: ہمارے نزدیک درویشی اور فنا ہی دائمی دولت ہے، ہم اس دنیا کی بادشاہت کو اپنے فقر کے بدلے میں نہیں لیتے بلکہ اسے ایک گدا کو بھی دینا پسند نہیں کرتے۔)

​6. درگاہِ چشت سے عقیدت:

​روئے دل سوئے درگاہِ چشت دار

تا یابی آنچہ در دو جہاں مدعاے توست

(اردو ترجمہ: اپنے دل کا رخ چشتیہ درگاہ کی طرف رکھ، تاکہ تجھے دونوں جہانوں میں اپنا مقصد حاصل ہو سکے۔)

​7. تسلیم و رضا:

​رضائے دوست طلب کن درین درائے فنا

کہ غیرِ دوست ہمہ حسرت است و حرمان است

(اردو ترجمہ: اس فانی دنیا میں صرف دوست (خدا) کی رضا تلاش کر، کیونکہ دوست کے سوا سب کچھ حسرت اور محرومی ہے۔)

​8. سوز و گداز:

​شب ہا بہ یادِ روئے تو افغان کشیدہ ام

از دیدہ اشکِ خون بہ گریبان کشیدہ ام

(اردو ترجمہ: میں نے راتوں کو تیرے چہرے کی یاد میں آہ و زاری کی ہے، اور اپنی آنکھوں سے خون کے آنسو گریبان پر بہائے ہیں۔)

​9. طلبِ حق:

​ما نہ طالبِ ملکیم و نہ خواھانِ نگینیم

ما خاکِ درِ حضرتِ آن یارِ قرینیم

(اردو ترجمہ: ہم نہ تو حکومت کے طالب ہیں اور نہ نگین و تاج کے خواہش مند، ہم تو اس قریب تر محبوب کے در کی مٹی ہیں۔)

​10. صوفیانہ بیداری:

​تا یافتہ ام لذتِ بیداریِ شب ہا

خوابِ خوشِ این ملکِ جہاں رفت ز یادم

(اردو ترجمہ: جب سے میں نے راتوں کو جاگنے (عبادت) کی لذت پائی ہے، اس دنیاوی سلطنت کے تمام خوشگوار خواب میرے ذہن سے محو ہو گئے ہیں۔)

​ان اشعار سے واضح ہوتا ہے کہ جہاں آرا بیگم مغلیہ دربار کی تمام تر آسائشوں اور شاہی شان و شوکت کے درمیان رہتے ہوئے بھی اندرونی طور پر ایک سچی زاہدہ اور عارفہ تھیں۔

​وفات اور وصیت:

​جہاں آرا بیگم نے 1681ء (1092ھ) میں 67 سال کی عمر میں وفات پائی۔ ان کی وفات پر اورنگزیب عالمگیر سمیت پوری سلطنت میں سوگ منایا گیا۔​ان کی صوفیانہ طبع اور عاجزی کا سب سے بڑا ثبوت ان کی وصیت تھی، جس پر انہوں نے عمل کروایا۔ انہوں نے وصیت کی تھی کہ انہیں دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے آستانے کی حدوں میں دفن کیا جائے اور ان کی قبر پر کوئی عالیشان گنبد یا مقبرہ نہ بنایا جائے، بلکہ اسے کھلے آسمان تلے سادہ رکھا جائے۔​آج بھی دہلی میں حضرت نظام الدین اولیاءؒ کے احاطے میں جہاں آرا بیگم کی قبر موجود ہے۔ مرمر کے ایک سادے سے تعویذ پر جمی ہوئی گھاس اور اس پر کندہ ان کا اپنا شعر (بغیر سبزہ نہ پوشد کسے مزار مرا…) زائرین کو مغلیہ تاریخ کی اس عظیم، بااثر اور عارفہ شہزادی کی سادگی اور بلند مرتبے کی یاد دلاتا ہے۔ جہاں آرا بیگم تاریخ کا وہ روشن باب ہیں جو سیاست، سخاوت اور تصوف کا ایک نادر اور بے مثال سنگم ہے۔۔ ۔۔ ✍️

Loading