Daily Roshni News

الْوَلَايَةُ — قرآن کا وہ لفظ جس میں تعلق، قرب اور سہارا پوری دنیا بن جاتے ہیں

الْوَلَايَةُ — قرآن کا وہ لفظ جس میں تعلق، قرب اور سہارا پوری دنیا بن جاتے ہیں

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کبھی آپ نے سوچا ہے کہ انسان کی زندگی میں سب سے بڑی ضرورت کیا ہے؟ دولت؟ صحت؟ کامیابی؟ شہرت؟ شاید نہیں۔ ان سب چیزوں کے پیچھے بھی انسان ایک ہی چیز تلاش کرتا ہے: *کسی سے تعلق۔* کوئی ایسا جو اپنا ہو۔ کوئی ایسا جس کے سامنے انسان اپنے آپ کو چھپا نہ سکے۔ کوئی ایسا جو مشکل میں ساتھ کھڑا ہو۔ کوئی ایسا جس کے سامنے انسان اپنی کمزوری تسلیم کر سکے۔

اور شاید یہی وجہ ہے کہ قرآن انسان کے تعلقات، اس کے سہاروں، اس کی وفاداریوں اور اس کی وابستگیوں کے بارے میں ایک ایسا لفظ استعمال کرتا ہے جس کے اندر ایک پوری دنیا سمٹ آئی ہے: *الْوَلَايَةُ* یہ صرف ایک لفظ نہیں۔ یہ *تعلق کا فلسفہ* ہے۔

لفظ کی بنیاد کہاں ہے؟

*الْوَلَايَةُ* عربی مادہ *و ل ي* سے ہے۔ اسی مادے سے: *وَلِيّ، أَوْلِيَاء، مَوْلَىٰ، وَالٍ، وَلَايَة* جیسے الفاظ بنتے ہیں۔ اس مادے کا بنیادی تصور *قرب اور نزدیکی* کے گرد گھومتا ہے۔ یعنی دو چیزیں اتنی قریب ہوں کہ ان کے درمیان دوری باقی نہ رہے۔ یہ قرب کبھی جسمانی ہو سکتا ہے، کبھی تعلق کا، کبھی محبت کا، کبھی نصرت کا، کبھی سرپرستی کا اور کبھی اختیار و اقتدار کا۔ اسی لیے *الْوَلَايَةُ* کو صرف ایک لفظ: “دوستی” سے ترجمہ کر دینا اس کے پورے مفہوم کو بہت محدود کر دیتا ہے۔

وَلَايَة دراصل تعلق کی ایک کیفیت ہے

تصور کیجیے ایک بچہ اپنے والد کا ہاتھ پکڑ کر چل رہا ہے۔ بچہ صرف اپنے والد سے محبت نہیں کرتا۔ وہ اس پر اعتماد بھی کرتا ہے۔ اسے اپنا محافظ سمجھتا ہے۔ اس کی بات مانتا ہے۔ اس کے قریب رہتا ہے۔ اور خطرے میں اسی کی طرف دیکھتا ہے۔ یہاں صرف محبت نہیں۔ *قرب بھی ہے۔* *اعتماد بھی ہے۔* *حفاظت بھی ہے۔* *وابستگی بھی ہے۔* اور یہی وہ وسیع دائرہ ہے جس میں *وَلَايَة* کا تصور سمجھ میں آتا ہے۔

قرآن نے ولایت کو صرف ایک انسانی تعلق نہیں بنایا

قرآن کا ایک انتہائی اہم بیان ہے: اللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا “اللہ ایمان والوں کا ولی ہے۔” اور پھر: يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ “وہ انہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے۔” یہاں ولایت کا نتیجہ سامنے آتا ہے۔ اللہ سے تعلق انسان کو *اندھیروں سے روشنی* کی طرف لے جاتا ہے۔ یہاں ایک بہت بڑا قرآنی اصول چھپا ہوا ہے: *جس کی ولایت انسان قبول کرتا ہے، اس کی زندگی کا رخ بھی اسی کے مطابق بدلنے لگتا ہے۔*

انسان کبھی بے تعلق نہیں رہتا

یہ بات بہت گہری ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ وہ آزاد ہے۔ لیکن حقیقت میں ہر انسان کسی نہ کسی چیز سے وابستہ ہوتا ہے۔ کوئی اللہ سے۔ کوئی اپنے نفس سے۔ کوئی مال سے۔ کوئی اقتدار سے۔ کوئی خاندان سے۔ کوئی شہرت سے۔ کوئی نظریے سے۔ کوئی لوگوں کی پسند سے۔ کوئی اپنی خواہشات سے۔ کوئی دنیا سے۔ یعنی انسان *وابستگی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔* اصل سوال یہ نہیں: “میں کس سے وابستہ ہوں؟” اصل سوال یہ ہے: “میری سب سے بڑی ولایت کس کے ساتھ ہے؟”

قرآن نے دو راستے دکھائے

سورۃ البقرہ میں ایک طرف فرمایا: *اللّٰهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا* اور دوسری طرف: *وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ* پہلا تعلق: *اللہ → ایمان → نور* اور دوسرا: *طاغوت → گمراہی → ظلمات* یہاں قرآن نے انسان کی پوری روحانی سمت کو ایک تعلق کے ساتھ جوڑ دیا۔ یعنی: *آپ کس کے قریب ہیں؟* *کس کو اپنا سہارا سمجھتے ہیں؟* *کس کے حکم کو آخری اختیار مانتے ہیں؟* *کس کی محبت آپ کے فیصلوں کو بدلتی ہے؟* یہ سب ولایت کے دائرے میں آ سکتے ہیں۔

ولایت صرف محبت نہیں

یہاں ایک عام غلط فہمی دور کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی شخص کہے: “میں اللہ سے بہت محبت کرتا ہوں۔” تو یہ بہت خوبصورت بات ہے۔ لیکن *اللہ سے محبت* اور *اللہ کی ولایت* ایک ہی مفہوم نہیں۔ محبت دل کا تعلق ہے۔ ولایت میں محبت کے ساتھ: *قرب، نصرت، وفاداری، اتباع اور وابستگی* کے پہلو بھی آ سکتے ہیں۔ اسی لیے قرآن کا تصور ہمیں صرف جذباتی محبت تک نہیں چھوڑتا۔ وہ پوچھتا ہے: *اگر اللہ سے تعلق ہے تو پھر آپ کے فیصلے کس کے مطابق ہیں؟*

ولایت اور اطاعت

یہاں قرآن کی ایک بہت اہم حقیقت سامنے آتی ہے: جس سے انسان حقیقی ولایت قائم کرتا ہے، اس کی طرف اس کا دل جھکتا ہے۔ پھر اس کی اطاعت آسان ہوتی ہے۔ اسی لیے اللہ کی ولایت کا دعویٰ صرف زبان سے نہیں کیا جا سکتا۔ اگر زبان کہے: “اللہ میرا سب سے بڑا سہارا ہے” لیکن فیصلہ کرتے وقت: حرام حلال پر غالب آ جائے، خواہش حکم بن جائے، لوگوں کا خوف اللہ کے خوف سے بڑا ہو جائے، تو پھر انسان کو اپنے تعلق پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

ولایت کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کے سہارے چھوڑ دیے جائیں

یہ بھی ایک اہم توازن ہے۔ اگر اللہ ہماری ولایت کا مرکز ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ڈاکٹر سے علاج نہ لیں۔ کسی سے قرض نہ مانگیں۔ استاد سے علم نہ حاصل کریں۔ دوست سے مشورہ نہ کریں۔ والدین کا سہارا نہ لیں۔ حکومت سے قانون و نظام کی توقع نہ کریں۔ نہیں۔ اسلام اسباب سے فرار نہیں سکھاتا۔ اصل بات یہ ہے: *اسباب کو اختیار کرو، مگر انہیں اللہ کا قائم مقام نہ بناؤ۔* ڈاکٹر علاج کرتا ہے۔ شفا اللہ دیتا ہے۔ استاد علم سکھاتا ہے۔ فہم اللہ دیتا ہے۔ انسان مدد کرتا ہے۔ اصل مدد اللہ کے اختیار میں ہے۔ یہ فرق *ولایت* کو سمجھنے میں انتہائی اہم ہے۔

ولایت اور تنہائی

انسان کی سب سے بڑی آزمائشوں میں سے ایک تنہائی ہے۔ بعض اوقات انسان لوگوں سے گھرا ہوا ہوتا ہے، پھر بھی اندر سے تنہا ہوتا ہے۔ اس کے پاس: رابطے بہت ہوتے ہیں، مگر تعلق کم۔ لوگ بہت ہوتے ہیں، مگر اپنا کوئی نہیں ہوتا۔ ایسے وقت میں *الْوَلَايَةُ* کا قرآنی تصور دل کو ایک مختلف حقیقت دکھاتا ہے: *انسان کی اصل تنہائی اللہ سے دوری ہے۔* اور اصل قرب صرف لوگوں کی کثرت نہیں۔ اصل قرب یہ جاننا ہے کہ: *میرا رب مجھے جانتا ہے۔* *میرا رب مجھے دیکھتا ہے۔* *میرا رب میری دعا سنتا ہے۔*  *میرا رب میرے حالات سے بے خبر نہیں۔*

کبھی اللہ کی ولایت کا مطلب راستہ کھولنا ہوتا ہے

اور کبھی راستہ بند کرنا۔ یہ سمجھنا بہت مشکل ہے۔ ہم دعا کرتے ہیں: “یا اللہ! یہ دروازہ کھول دے۔” دروازہ نہیں کھلتا۔ ہم سمجھتے ہیں: *اللہ نے میری دعا قبول نہیں کی۔* لیکن برسوں بعد معلوم ہوتا ہے: *وہ دروازہ ہمارے لیے نہیں تھا۔* جس دروازے کو ہم اپنی محرومی سمجھ رہے تھے، شاید وہ ہماری حفاظت تھی۔ یہاں *ولایت* کا ایک نہایت لطیف پہلو سامنے آتا ہے: *اللہ کی سرپرستی ہمیشہ ہماری خواہش پوری کرنے کی شکل میں ظاہر نہیں ہوتی؛ کبھی ہماری خواہش سے بچانے کی شکل میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔*

ولایت اور آزمائش

اگر اللہ کسی کا ولی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس کی زندگی میں آزمائش نہیں آئے گی۔ انبیاء علیہم السلام کی زندگیاں ہمارے سامنے ہیں۔ آزمائشیں آئیں۔ ہجرتیں ہوئیں۔ جدائیاں ہوئیں۔ مخالفتیں ہوئیں۔ تکلیفیں آئیں۔ لیکن ولایت کا مطلب یہ تھا کہ آزمائش کے اندر بھی اللہ کی رہنمائی موجود تھی۔ اس لیے مومن کی زندگی میں سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے: “میرے ساتھ یہ کیوں ہوا؟” بلکہ ایک اور سوال بھی ہونا چاہیے: “اللہ اس صورتحال کے ذریعے مجھے کیا دکھا رہا ہے؟” یہ سوال انسان کو شکایت سے معرفت کی طرف لے جاتا ہے۔

وَلَايَة اور دوستیاں

قرآن میں *أَوْلِيَاء* کا لفظ انسانی تعلقات کے حوالے سے بھی آتا ہے۔ اس سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی دوستیاں صرف سماجی معاملہ نہیں۔ تعلقات انسان کی *فکری اور روحانی سمت* بھی بدلتے ہیں۔ آپ جن لوگوں کو اپنا بناتے ہیں، ان کے خیالات آہستہ آہستہ آپ کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ ان کی زبان آپ کی زبان بن سکتی ہے۔ ان کی ترجیحات آپ کی ترجیحات بن سکتی ہیں۔ ان کے خواب آپ کے خواب بن سکتے ہیں۔ اسی لیے قرآن ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے: *میں کن لوگوں کو اپنے قریب لا رہا ہوں؟* اور: *کون میرے دل پر اثر انداز ہو رہا ہے؟*

ولایت اور جدید انسان

آج ولایت کا تصور اور بھی اہم ہو گیا ہے۔ کیونکہ آج انسان کے پاس تعلقات کی کمی نہیں۔ اس کے پاس: سوشل میڈیا ہے، ہزاروں دوست ہیں، لاکھوں پیروکار ہیں، گروپس ہیں، کمیونٹیز ہیں، آن لائن تعلقات ہیں۔ لیکن پھر بھی تنہائی بڑھ رہی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ *رابطہ اور تعلق ایک چیز نہیں۔* ہزار لوگوں سے رابطہ ہو سکتا ہے۔ مگر ولایت جیسا حقیقی تعلق چند ہی جگہ ملتا ہے۔ قرآن انسان کو دوبارہ *حقیقی تعلق* کی طرف بلاتا ہے۔

ولایت اور سوشل میڈیا

یہاں ایک عجیب سوال پیدا ہوتا ہے: کیا آج انسان اپنی مرضی سے سوچتا ہے؟ یا اس کی پسند بھی دوسروں سے بنائی جا رہی ہے؟ وہ کیا دیکھے؟ کیا خریدے؟ کس سے متاثر ہو؟ کس سے نفرت کرے؟ کس چیز کو خوبصورت سمجھے؟ کیا چیز کامیابی ہے؟ یہ سب آہستہ آہستہ مختلف طاقتیں طے کرنے لگتی ہیں۔ یہاں قرآن کا ولایت کا تصور ہمیں ایک اندرونی آزادی دیتا ہے: *اپنے دل کا آخری اختیار اللہ کے لیے رکھو۔* دنیا سے سیکھو۔ دنیا کی اچھی چیزیں استعمال کرو۔ علم حاصل کرو۔ ٹیکنالوجی استعمال کرو۔ لیکن اپنی *قدر، اخلاق، مقصد اور آخری وفاداری* دنیا کے ہاتھ میں نہ دو۔

ولایت اور “اپنا پن”

ہم اردو میں کہتے ہیں: “یہ اپنا آدمی ہے۔” یہ جملہ بہت گہرا ہے۔ اپنا کون ہے؟ جو ضرورت میں کام آئے؟ جو راز رکھے؟ جو دھوکا نہ دے؟ جو مشکل میں چھوڑ کر نہ جائے؟ جو آپ کی کمزوری جان کر بھی آپ کا ساتھ دے؟ قرآن انسان کو بتاتا ہے کہ *اللہ کے ساتھ تعلق اس تصورِ “اپنے پن” کو سب سے بلند سطح تک لے جاتا ہے۔* اللہ ہمارا خالق ہے۔ وہ ہمیں ہم سے زیادہ جانتا ہے۔ وہ ہماری کمزوریاں جانتا ہے۔ وہ ہماری دعائیں جانتا ہے۔ وہ ہمارے ماضی کو جانتا ہے۔ وہ ہماری چھپی ہوئی خواہشات جانتا ہے۔ اور پھر بھی توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہے۔ یہ تعلق عام انسانی تعلق سے کہیں بلند ہے۔

ولایت اور اللہ کی محبت

قرآن میں اللہ کے اولیاء کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: أَلَا إِنَّ أَوْلِيَاءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ “سن لو! بے شک اللہ کے اولیاء پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔” پھر فرمایا: الَّذِينَ آمَنُوا وَكَانُوا يَتَّقُونَ “وہ لوگ جو ایمان لائے اور تقویٰ اختیار کرتے رہے۔” یہاں قرآن نے ایک بہت بڑی غلط فہمی ختم کر دی۔ اللہ کے قریب ہونے کے لیے محض دعویٰ کافی نہیں۔ *ایمان چاہیے۔* *تقویٰ چاہیے۔* یعنی ولایت کا راستہ کرامت سے پہلے *کردار* سے گزرتا ہے۔

کیا ولایت صرف روحانی لوگوں کے لیے ہے؟

نہیں۔ قرآن کا یہ تصور ہر مومن کے لیے ہے۔ ایک عام انسان بھی: اپنی نماز درست کر سکتا ہے۔ حرام سے بچ سکتا ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کر سکتا ہے۔ لوگوں کے حقوق ادا کر سکتا ہے۔ اپنی زبان کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ اپنے دل کو حسد سے پاک کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اور اللہ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کر سکتا ہے۔ ولایت کا سفر کسی خاص طبقے کی جاگیر نہیں۔ یہ *ایمان اور تقویٰ کا سفر* ہے۔

ایک عجیب paradox

انسان دنیا میں مضبوط بننا چاہتا ہے۔ وہ چاہتا ہے: *مجھے کسی کی ضرورت نہ پڑے۔* لیکن قرآن ہمیں ایک مختلف طاقت سکھاتا ہے: *اللہ کا محتاج ہونا کمزوری نہیں۔* یہی اصل آزادی ہو سکتی ہے۔ جو انسان اللہ کے سامنے جھک جاتا ہے، وہ ہر انسان کے سامنے جھکنے سے بچ سکتا ہے۔ جو اللہ کو اپنا حقیقی سہارا بنا لیتا ہے، وہ دنیا کے سہاروں کا غلام نہیں رہتا۔ اور شاید یہی *الْوَلَايَةُ* کا سب سے بڑا روحانی تحفہ ہے: *اللہ سے تعلق انسان کو دنیا سے کاٹتا نہیں؛ دنیا کی غلامی سے نکالتا ہے۔*

آج ہم اپنے آپ سے کیا پوچھیں؟

آج رات خاموشی سے اپنے دل سے چند سوال کیجیے: *میرا سب سے بڑا سہارا کون ہے؟* *میرا سب سے بڑا خوف کس سے ہے؟* *میں کس کی خوشنودی کے لیے اپنے فیصلے بدل دیتا ہوں؟* *کس کے ناراض ہونے کا خوف اللہ کی ناراضی سے زیادہ ہے؟* *میں کس کی بات کو آخری سچ سمجھ لیتا ہوں؟* *میری وفاداری کس کے ساتھ سب سے زیادہ ہے؟* ان سوالات کے جواب شاید ہمیں اپنے دل کی *ولایت* دکھا دیں۔

الْوَلَايَةُ — ایک لفظ، ایک آئینہ

قرآن کے الفاظ کبھی کبھی آئینے بن جاتے ہیں۔ ہم انہیں پڑھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم قرآن کو دیکھ رہے ہیں۔ لیکن حقیقت میں: *قرآن ہمیں دیکھ رہا ہوتا ہے۔* *الْوَلَايَةُ* بھی ایسا ہی ایک آئینہ ہے۔ یہ پوچھتا ہے: تم کس کے قریب ہو؟ تم کس کے وفادار ہو؟ تم کس سے مدد چاہتے ہو؟ تم کس کی اطاعت کرتے ہو؟ تم کس کے سہارے پر کھڑے ہو؟ اور آخرکار: *تمہاری زندگی کی اصل ولایت کس کے پاس ہے؟* اگر اس سوال کا جواب دل سے یہ ہو: *اللہ۔* تو پھر دنیا کی ہر چیز اپنی جگہ آنا شروع ہو جاتی ہے۔ دولت ذریعہ بن جاتی ہے۔ لوگ نعمت بن جاتے ہیں۔ علم روشنی بن جاتا ہے۔ ٹیکنالوجی خدمت بن جاتی ہے۔ اختیار ذمہ داری بن جاتا ہے۔ اور انسان خود کو دنیا کا مالک سمجھنے کے بجائے *اللہ کا بندہ* سمجھنے لگتا ہے۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں *الْوَلَايَةُ* ایک لغوی اصطلاح نہیں رہتی۔ وہ ایک *زندگی کا تعلق* بن جاتی ہے۔

آخری بات

ہم اکثر اللہ سے کہتے ہیں: “یا اللہ! ہماری مدد فرما۔” لیکن شاید قرآن ہمیں اس سے بھی گہری حقیقت سمجھانا چاہتا ہے: *اللہ صرف مشکل کے وقت مدد کرنے والا نہیں۔* وہ ہمارے وجود کا رب ہے۔ وہ ہمارا خالق ہے۔ وہ ہمارا ہادی ہے۔ وہ ہمارا ناصر ہے۔ اور قرآن کے اس وسیع تصور میں: *اللہ کی ولایت ہماری پوری زندگی کو اپنے دائرے میں لے لیتی ہے۔* اس لیے *الْوَلَايَةُ* کو صرف “دوستی” پڑھ کر آگے نہ بڑھ جائیے۔ یہ لفظ آپ سے ایک سوال کر رہا ہے: *“تمہارا دل آخر کس کے ساتھ کھڑا ہے؟”* اور شاید اس سوال کا جواب ہی انسان کی پوری زندگی کی سمت متعین کر دیتا ہے۔

Loading