سائنٹفک دماغ
تحریر ۔۔۔ سید اسلم شاہ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ سائنٹفک دماغ۔۔۔ تحریر ۔۔۔ سید اسلم شاہ )ہمارے سوچنے کی بنیاد ہمیشہ کتابیں ہوتی ہیں۔ جب بھی ہم سوچتے ہیں تو پہلے پوچھتے ہیں کس کتاب میں لکھا ہے۔ آپ کتابوں کو کب تک پریشان کرینگے، اس کی جان کب تک کھاتے رہیں گے۔ ہمارے تمام مسائل آج کے ہیں۔ اور اس کا حل ہم ماضی میں ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ مسئلہ آج کا ہے کتاب کل کی ہے۔ سائنسی دماغ تجربات سے سیکھتا ہے اور غیر سائنٹفک مائنڈ جواب کو کتاب میں تلاش کرتا ہے۔
–
ہمارے سارے سوال پرائے ہوتے ہیں دوسروں سے متعلق ہوتے ہیں جبکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمارے سوال ہمارے ذاتی ہوں، ہمارے اپنے ہوں ہماری ذات کا حصہ ہوں۔ ہمارے اندرون سے نکلا ہو جو صرف سوال نہ ہو بلکہ زندگی کے بھید کو جاننے کی اسے عیان کرنے کی زندہ و جاوید جستجو ہو۔
–
ﺳﻮﺍﻝ ﺟﻮ ﺏﮭﯽ ﮨﻭ ﮐﻡ ﺍﺯ ﮐﻡ ﺳﻮﺍﻝ ﺍﭘﻧﺎ ﮨﻭ۔ ﭘﺭﺍیہ ﺳﻮﺍﻝ ﻥﮧ ہوں۔ ﮨﻣﺎﺭﮮ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﺍﭘﻥﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﮐﻡ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﺱﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﺫﯾﺍﺩﮦ ﮨﻭﺕﮯ ﮨﯿﮟ۔ دوسرے خدا کے بارے میں کیا کہتے ہیں اسے چھوڑ دیں ﺁﭖ ﺍﭘﻥﮯ ﺧﺪﺍ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻡﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮐﺭﯾﮟ ﮐﮧ ﻡﯿﺭﺍ ﺭﺏ ﮐﻭﻥ ﮨﮯ؟ ﯾﮧ ﮨﻭﮔﯽ ﺍﭘﻥﯽ ﺑﺎﺕ۔ ﺍﺏ ﻋﻞﯽ ﮐﺍ ﺭﺏ ﮐﻭﻥ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻭﮦ ﮨﯽ ﺟﺎﻥﯿﮟ۔ ﻡﯿﺭﺍ ﺭﺏ ﮐﻭﻥ ﮨﮯ ﻡﯿﺭﯼ ﻧﺠﺎﺕ ﺍﺱ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﻭ ﻣنکﺷﻒ ﮐﺭﻥﮯ ﻡﯿﮟ ﮨﮯ۔
–
ﻣﺪﻋﺎ ﮐﻻﻡ ﮨﯽ ﯾﮩﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﭘﻥﯽﺑﺎﺕ ﭘﯿﺵ ﮐﯽ ﺟﺎﺉﮯ۔ ﺟﺲ ﺳﻮﺍﻝ ﺱﮯ ﻡﯿﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﮔﺭﮦ ﮐﮭﻟﺖﯽ ﮨﻭ ﻭﮨﯽ ﻡﯿﺭﺍ ﺳﻮﺍﻝ ﮨﮯﺳﺎﺋﻦﭩﻑﮏ ﻣﺎﺋﻨڈ ﺍﭘﻧﺎ ﺳﻮﺍﻝ ﺍﭨﮭﺍﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻍﯿﺭ ﺳﺎﺋﻦﭩﻑﮏ ﻣﺎﺋﻨڈ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﺍﭨﮭﺍﺗﺎ ﮨﮯ۔
–
ﻡﯿﺭﮮ ﭘﯿﭧ ﻡﯿﮟ ﺩﺭﺩ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻡﯿﮟ ڈﺍﮐﭩﺭ ﮐﮯ ﭘﺍﺱ ﺟﺎﮐﺭ ﺍﭘﻥﮯ ﮐﺯﻥ ﮐﮯ ﺍﻟﺴﺮ ﮐﺍ ﻣﺴﺌﻞﮧ ڈﺱﮑﺱ ﮐﺭﻭ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺱﮯ ﻡﯿﺭﺍ ﻋﻼﺝ ﺗﻮ ﻥﮩﯿﮟ ﮨﻭﻧﺎ۔ ﻡﯿﺭﮮ ﻣﺴﺌﻞﮯ ﮐﺍ ﻋﻼﺝ ﻡﯿﺭﮮ ﺍﭘﻥﮯ ﻣﺮﺽ ﮐﮯ ﺏﯿﺍﻥ ﺱﮯ ﮨﮯ ﻥﮧ ﮐﮧ ﮐﺯﻥ ﮐﮯ ﻣﺮﺽ ﮐﮯ ﺏﯿﺍﻥ ﻡﯿﮟ۔
–
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں،
ڈھونڈنے والوں کو دنیا بھی نئی دیتے ہیں۔
![]()

