کائنات کتنی وسیع ہے ؟
انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ کائنات کتنی وسیع ہے ؟۔۔۔ انتخاب ۔ محمد جاوید عظیمی)کائنات کتنی بڑی ہے،اس کا تصور کرنا انسان کے لیے تقریبا ناممکن ہے۔۔۔۔۔۔ہم کہتے ہیں کہ کائنات تقریبا 13.8 ارب سال پرانی ہے۔تو یہ نمبر سننے میں شاید صرف ایک بہت بڑا عدد لگتا ہے۔۔۔۔۔۔لیکن جب ہم اس کے فاصلے کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم کتنی بڑی کائنات میں رہتے ہیں۔۔۔۔۔۔قابل مشاہدہ کائنات کا رداس تقریبا46.5 ارب نوری سال اور اس کا قطر تقریبا 93 ارب نوری سال ہے۔۔۔۔۔۔ایک نوری سال وہ فاصلہ ہے جو روشنی ایک سال میں 3 لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے طے کرتی ہے۔۔۔۔۔۔ اگر آپ کے سامنے اتنا بڑا نمبر رکھا جائے اور آپ ہر سیکنڈ میں صرف ایک روپیہ گن سکیں۔۔۔۔۔۔تو صرف 93 ارب تک گنتی کرنے میں بھی تقریبا 2950 سال لگ جائیں گے۔۔۔۔۔۔اور ہم یہاں صرف 93 ارب کی گنتی کی بات کر رہے ہیں۔۔۔۔۔۔کائنات کے فاصلے تو اس سے بھی کہیں زیادہ ہے۔۔۔۔۔۔ہماری آنکھوں سے نظر آنے والا ہر ستارہ ہر کہکشاں ہر سیارہ ہر گیس کا بادل اور ہر وہ چیز جسے ہم عام مادہ کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔کائنات کے کل ماس اور انرجی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔۔۔۔۔۔موجودہ سائنسی اندازے کے مطابق عام مادہ تقریبا 5 فیصد ہے۔۔۔۔۔۔جبکہ 27 فیصد ڈارک میٹر اور 68 فیصد ڈارک انرجی سے تعلق رکھتا ہے۔۔۔۔۔۔یعنی جن چیزوں سے ہماری زمین سورج ستارے کہکشائیں انسان اور ہماری پوری معلوم دنیا بنی ہے۔۔۔۔۔۔وہ کائنات کے کل ماس اور انرجی کا صرف بیسواں حصہ ہیں۔۔۔۔۔۔اور باقی 95 فیصد کے بارے میں ہم ابھی تک پوری طرح نہیں جانتے کہ وہ اصل میں کیا ہے۔۔۔۔۔۔ڈارک میٹر ہمیں براہ راست نظر نہیں آتا۔لیکن اس کی کشش ثقل کے اثرات سے ہمیں اس کے وجود کے مضبوط ثبوت ملتے ہیں۔۔۔۔۔۔جبکہ ڈارک انرجی کا نام اس نامعلوم چیز یا وجہ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جس کا تعلق کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار بڑھنے سے ہے۔۔۔۔۔۔لیکن بات یہاں ختم نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔جو کائنات ہم دیکھ سکتے ہیں،یہ ضروری نہیں کہ وہ پوری کائنات ہو۔۔۔۔۔۔ہم صرف اتنا حصہ دیکھ سکتے ہیں جہاں سے روشنی یا دوسری معلومات اب تک ہم تک پہنچ سکی ہیں۔۔۔۔۔۔کائنات کی عمر محدود ہے اور روشنی کی رفتار بھی محدود ہے۔۔۔۔۔۔اسی وجہ سے کائنات کا ایک بہت بڑا حصہ ایسا ہو سکتا ہے جس کی روشنی ابھی تک ہم تک نہیں پہنچی۔۔۔۔۔۔اور چونکہ کائنات خود بھی پھیل رہی ہے،اس لیے بہت دور موجود جگہوں سے آنے والی روشنی کا ہم تک پہنچنا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔۔۔۔اس کا مطلب یہ ہے کہ قابل مشاہدہ کائنات ہماری دیکھنے کی حد ہے۔۔۔۔۔۔یہ ضروری نہیں کہ اس کے باہر کائنات ختم ہوجاتی ہو۔۔۔۔۔۔اس کے آگے بھی کائنات بہت زیادہ پھیلی ہوئی ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔۔ممکن ہے وہ ہماری نظر آنے والی کائنات سے کئی گنا بڑی ہو ۔۔۔۔ممکن ہے اس سے بھی کہیں زیادہ وسیع ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ پوری کائنات اصل میں کتنی بڑی ہے اس کا ہمیں ابھی کوئی پکا جواب ہی معلوم نہ ہو۔۔۔۔۔۔ہمیں صرف اتنا معلوم ہے کہ جو حصہ ہم دیکھ سکتے ہیں وہ بھی اتنا بڑا ہے کہ اس کا تصور کرنا مشکل ہے۔۔۔۔۔۔اور اس وسیع کائنات میں موجود تمام ستارے تمام کہکشائیں اور تمام معلوم مادہ بھی کائنات کے کل ماس اور انرجی کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ ہیں۔۔۔۔۔ کائنات شاید ہمیں ابھی صرف اتنا ہی دکھا رہی ہے جتنا اس کی روشنی ہمیں دکھا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔اس روشنی کے آگے کیا ہے۔۔۔۔۔۔کائنات کتنی دور تک پھیلی ہوئی ہے۔۔۔۔۔۔اور اس وسیع خلا میں مزید کیا کچھ موجود ہے۔۔۔۔۔۔ان سوالوں کے مکمل جواب آج بھی انسان کے پاس نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔
تخریر ۔۔۔۔۔عالم نامہ Aslam nama
![]()

