امریکا سے مذاکرات پر مشاورت، عباس عراقچی کی پاکستان آمد کے بعد فیلڈ مارشل کے ساتھ ملاقات
پاکستان(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )پاکستان کے دورے پر آئے ایران کے وزیرخارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی ہے۔
ایرانی سفارت خانے کی جانب سے ہفتے کو جاری بیان میں کہا گیا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پاکستان آنے کے بعد پہلی باضابطہ ملاقات فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ملاقات میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے علاوہ مشیر برائے قومی سلامتی جنرل عاصم ملک اور ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس بھی شریک تھے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ ایران کے نائب وزیرِ خارجہ غریب آبادی، اسلام آباد میں ایران کے سفیر امیری مقدم اور ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی ملاقات میں موجود تھے۔
یاد رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی گزشتہ روز مختصر وفد کے ہمراہ پاکستان پہنچے تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ آج وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کریں گے۔
واضح رہے کہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ جمعہ کو اسلام آباد پہنچے ہیں جہاں ان کا استقبال نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کیا۔ اس اہم دورے کے حوالے سے جہاں ایک طرف عالمی میڈیا میں پاک سر زمین پر ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست ملاقات کی خبریں گرم ہیں، وہیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے فی الحال ایسی کسی بھی میٹنگ کے منصوبے کی تردید کر دی ہے۔
اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ عباس عراقچی کے دورے کا مقصد پاکستانی حکام سے ملاقات کرنا ہے جس میں پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی اور خطے میں امن کی بحالی سے متعلق امور پر بات ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس دورے میں ایران اور امریکا کے درمیان کوئی ملاقات طے نہیں ہے بلکہ ایرانی وفد اپنے مشاہدات پاکستانی حکام کو فراہم کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی روانگی سے قبل کہا تھا کہ ایران اپنی سفارتی حکمت عملی میں پڑوسی ممالک کو ترجیح دیتا ہے اور ان کے اس دورے کا مقصد اپنے قریبی شراکت داروں سے مشاورت کرنا ہے۔
دوسری جانب واشنگٹن سے بھی اہم خبریں سامنے آئی ہیں جہاں وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے امریکی وفد کی پاکستان روانگی کی تصدیق کی ہے۔
ان کے مطابق اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح مذاکرات کے لیے پاکستان روانہ ہوں گے۔
امریکی ترجمان نے ایک دلچسپ دعویٰ بھی کیا کہ ایران نے خود رابطہ کر کے بالمشافہ ملاقات کی درخواست کی ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس فی الحال امریکا میں ہی موجود رہ کر صورتحال پر نظر رکھیں گے لیکن ضرورت پڑنے پر سب کو پاکستان روانگی کے لیے تیار رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی لاجسٹک اور سیکیورٹی ٹیمیں پہلے سے ہی یہاں موجود ہیں، جس سے یہ قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور کسی بھی وقت شروع ہو سکتا ہے۔
اس پورے منظر نامے میں پاکستان ایک کلیدی ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان کی اعلیٰ سیاسی و عسکری قیادت سے رابطوں کے دوران اسلام آباد کے تعمیری کردار کو سراہا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب سے گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ مسائل کے حل کے لیے مذاکرات اور رابطے ہی بہترین راستہ ہیں۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ہم پاکستان کے مستقل اور مثبت سہولت کاری کے کردار کی قدر کرتے ہیں اور ہم اس سلسلے میں مسلسل رابطے میں رہیں گے۔ پاکستان کی ان کوششوں کا مقصد ان دونوں فریقین کو دوبارہ میز پر لانا ہے جن کے درمیان پہلا دور بے نتیجہ رہا تھا۔
تاہم اس سفارتی کوشش کے راستے میں کچھ کٹھن چیلنجز بھی موجود ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں ایک سخت بیان جاری کیا ہے جس میں انہوں نے امریکی فوج کو آبنائے ہرمز میں موجود ایرانی گن بوٹس کو تباہ کرنے کا حکم دیا ہے اور وہ بحری ناکہ بندی جاری رکھنے پر بھی بضد ہیں۔
اسی تناظر میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا پر عدم اعتماد ہی ان مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی دیوار ہے۔
ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ معاہدوں کا خیرمقدم کیا ہے لیکن دنیا امریکا کے دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد کو واضح طور پر دیکھ رہی ہے، دھمکیوں اور بندرگاہوں کی بندش کے سائے میں سنجیدہ مذاکرات ممکن نہیں ہیں۔
![]()

