انسانیت اور ایمانداری کی ایک خوبصورت مثال…
ایک شخص اپنا بکرا بیچنے کی نیت سے گھر سے نکلا۔ اسے فوری طور پر پیسوں کی ضرورت تھی، اس لیے اس نے سوچا کہ اصل قیمت نہیں لوں گا، بس جلدی فروخت ہو جائے۔
اس کا بکرا صحت مند، خوبصورت اور بہترین تھا۔ عام حالات میں اس کی قیمت پچاس ہزار روپے آرام سے لگ سکتی تھی، مگر مجبوری کے باعث اس نے صرف بیس ہزار مانگ لیے۔
مویشی منڈی میں لوگ آتے رہے، لیکن اتنی کم قیمت سن کر سب کو شک ہونے لگا کہ شاید بکرے میں کوئی خرابی ہوگی، اس لیے کوئی خریدار آگے نہ بڑھا۔
اسی دوران ایک امیر آدمی وہاں آیا۔ اس نے بکرا دیکھا اور قیمت پوچھی۔ جب اسے بیس ہزار بتایا گیا تو وہ حیران رہ گیا۔ اس نے بکرا اچھی طرح دیکھا، اور سمجھ گیا کہ یہ تو اس سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔
اس نے کہا:
“میں یہ بکرا تیس ہزار میں خریدتا ہوں۔”
بیچنے والا خوش ہو گیا، لیکن خریدار کے دل میں خیال آیا کہ شاید یہ بھی انصاف نہیں، اصل قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس نے پھر کہا:
“نہیں، میں چالیس ہزار دیتا ہوں۔”
بیچنے والے کی خوشی بڑھتی گئی، مگر خریدار کا ضمیر اسے ملامت کرنے لگا۔ آخر اس نے فیصلہ کیا اور کہا:
“میں یہ بکرا پورے پچاس ہزار میں خریدوں گا۔”
بیچنے والا حیران رہ گیا اور بولا:
“آپ مذاق کر رہے ہیں؟ اگر لینا ہے تو لے لیں، ورنہ رہنے دیں…”
مگر خریدار نے فوراً رقم نکالی اور پورے پچاس ہزار ادا کر دیے۔
پھر اس نے پوچھا:
“بھائی! تمہیں معلوم تھا کہ یہ بکرا پچاس ہزار کا ہے، پھر اتنے سستے میں کیوں بیچ رہے تھے؟”
اس نے جواب دیا:
“میری والدہ شدید بیمار ہیں، علاج کے لیے فوری رقم چاہیے تھی، اسی لیے مجبوری میں سستا بیچ رہا تھا…”
یہ سن کر خریدار نے نرمی سے کہا:
“میں چاہتا تو تمہاری مجبوری کا فائدہ اٹھا سکتا تھا، مگر قیامت کے دن اپنے رب کو کیا جواب دیتا؟ ہمارے نبی کریم ﷺ نے بھی خرید و فروخت میں انصاف اور دیانت کا حکم دیا ہے، کسی کی مجبوری سے فائدہ اٹھانا منع ہے۔”
یہ سن کر بیچنے والے کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ اس نے دل سے دعا دی کہ اللہ ایسے ایماندار لوگوں کو ہمیشہ سلامت رکھے۔
سبق:
اصل کامیابی مال کمانا نہیں، بلکہ حلال، انصاف اور انسانیت کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہو تو مجھے فالو ضرور کریں۔
![]()

