Daily Roshni News

کائنات اور روشنی

کائنات میں موجود کچھ چیزیں اتنی بڑی ہیں کہ انسانی دماغ اُن کا صحیح اندازہ بھی نہیں لگا سکتا۔ہماری زمین ہمیں بہت بڑی لگتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ کائنات کے مقابلے میں صرف ایک چھوٹا سا ذرّہ
ہیں زمین سورج کے مقابلے میں اتنی چھوٹی ہے کہ سورج کے اندر تقریباً 13 لاکھ زمینیں سما سکتی ہیں۔لیکن پھر کائنات میں ایسے دیوقامت بلیک ہول بھی موجود ہیں جو سورج سے لاکھوں اور کروڑوں گنا زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔
یہ تصویر ناسا کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے لی ہے۔اس میں نظر آنے والی کہکشاں کا نام Messier 77 یعنی M77 ہے، جو زمین سے تقریباً 4 کروڑ 50 لاکھ نوری سال دور موجود ہے۔
اب ذرا نوری سال کو سمجھیں۔بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ وقت ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں نوری سال فاصلے کو ناپنے کا پیمانہ ہے۔روشنی ایک سیکنڈ میں تقریباً 3 لاکھ کلومیٹر سفر کرتی ہے۔یعنی صرف ایک سیکنڈ میں وہ زمین کے گرد تقریباً ساڑھے سات چکر لگا سکتی ہے۔
اگر یہی روشنی مسلسل ایک سال تک سفر کرتی رہے تو جتنا فاصلہ طے ہوگا، اُسے ایک نوری سال کہتے ہیں۔اور M77 ہم سے 4 کروڑ 50 لاکھ نوری سال دور ہے۔یعنی آج ہم جو تصویر دیکھ رہے ہیں، وہ اصل میں 4 کروڑ 50 لاکھ سال پرانا منظر ہے۔یہ روشنی اُس وقت روانہ ہوئی تھی جب زمین پر انسانوں کی موجودہ تہذیبیں بھی موجود نہیں تھیں۔
اس کہکشاں کے مرکز میں ایک سپر ماسیو بلیک ہول موجود ہے۔سائنسدانوں کے مطابق اس بلیک ہول کی کمیت ہمارے سورج سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ گنا زیادہ ہے۔یعنی اگر سورج کو ایک چھوٹی گیند سمجھا جائے تو یہ بلیک ہول ایک پورے شہر جتنا خوفناک اور طاقتور لگے گا۔
اس کے اردگرد موجود گیس انتہائی تیزی سے گھوم رہی ہے۔اتنی تیزی سے کہ وہ لاکھوں ڈگری گرم ہوکر زبردست روشنی پیدا کرتی ہے۔اسی لیے تصویر کے درمیان والا حصہ باقی پوری کہکشاں سے کہیں زیادہ روشن دکھائی دیتا ہے۔
تصویر میں مرکز سے نکلتی ہوئی روشن لائنیں اصل میں خلا کی چیز نہیں بلکہ جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کے آئینوں کی وجہ سے بننے والا روشنی کا اثر ہیں، جنہیں diffraction spikes کہا جاتا ہے۔
تخریر۔۔۔عالم نامہ Aalam nama

Loading