🌳 خاموش درخت اور زندگی کی سچائی 🌳
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ ایک بہت پرانی کہانی ہے… ایک خاموش اور خوبصورت باغ میں ایک ناشپاتی کا درخت تھا، جو پھلوں سے بھرا ہوا اور بے حد سخی تھا۔
ایک چھوٹا سا بچہ روز اس کے قریب آتا، اس کی شاخوں پر چڑھتا، ناشپاتیاں توڑ کر کھاتا اور اس کی ٹھنڈی چھاؤں میں سو جاتا۔
درخت بھی اس بچے سے بے پناہ محبت کرتا تھا، اور بچہ بھی درخت کے ساتھ خوشی محسوس کرتا تھا۔
وقت گزرتا گیا… بچہ بڑا ہوتا گیا اور اس کا آنا جانا کم ہو گیا۔
ایک دن وہ واپس آیا تو بہت اداس تھا۔
“آؤ پہلے کی طرح میرے ساتھ کھیلو اور شاخوں پر چڑھو،” درخت نے محبت سے کہا۔
“اب میں بڑا ہو گیا ہوں،” اس نے جواب دیا۔ “مجھے کھلونوں کی ضرورت ہے، مگر میرے پاس پیسے نہیں ہیں۔”
“میرے پاس بھی پیسے نہیں،” درخت نے کہا، “لیکن میری ناشپاتیاں لے جاؤ، انہیں بیچ کر اپنی ضرورت پوری کر لو۔”
لڑکے نے خوشی سے تمام ناشپاتیاں توڑ لیں اور چلا گیا… پھر وہ کافی عرصے تک واپس نہ آیا۔ درخت اکیلا رہ گیا اور اسے بہت یاد کرتا رہا۔
سالوں بعد وہی لڑکا اب ایک جوان بن چکا تھا اور اس کا اپنا گھر بار تھا۔ وہ دوبارہ درخت کے پاس آیا۔
“آؤ میرے ساتھ کھیلوں،” درخت نے خوشی سے کہا۔
“میرے پاس وقت نہیں ہے،” اس نے کہا۔ “مجھے اپنے خاندان کے لیے گھر بنانا ہے، کیا تم میری مدد کر سکتے ہو؟”
“میرے پاس گھر تو نہیں،” درخت نے کہا، “لیکن تم میری شاخیں کاٹ کر اپنے گھر کے لیے استعمال کر لو۔”
اس نے درخت کی تمام شاخیں کاٹ لیں اور خوشی سے چلا گیا… مگر پھر وہ لمبے عرصے تک واپس نہ آیا۔
وقت گزرتا گیا… اب وہی لڑکا ایک بوڑھا آدمی بن چکا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ درخت کے پاس آیا۔
“آؤ میرے ساتھ کھیلو،” درخت نے سرگوشی کی۔
“اب میں بہت بوڑھا ہو چکا ہوں،” اس نے کہا۔ “مجھے سکون چاہیے، مجھے ایک کشتی چاہیے تاکہ میں کہیں دور جا سکوں۔”
“میرا تنا کاٹ لو اور کشتی بنا لو،” درخت نے کہا۔ “اور چلے جاؤ۔”
اس نے ایسا ہی کیا… درخت کا تنا کاٹ کر کشتی بنائی اور چلا گیا۔ پھر وہ بھی کئی سال تک واپس نہ آیا۔
جب وہ واپس آیا تو درخت نے افسوس سے کہا:
“اب میرے پاس تمہیں دینے کے لیے کچھ نہیں بچا…”
“کوئی بات نہیں،” بوڑھے نے کہا، “اب مجھے کچھ نہیں چاہیے، میں بس تھک چکا ہوں۔”
“میرے پاس صرف یہ پرانا تنا رہ گیا ہے،” درخت نے آہستگی سے کہا۔
“بس یہی کافی ہے،” وہ بولا۔ “مجھے بیٹھنے اور آرام کرنے کے لیے جگہ چاہیے۔”
اور وہ وہاں بیٹھ گیا… درخت خوش بھی تھا اور خاموشی سے رو بھی رہا تھا۔
یہ کہانی صرف ایک درخت کی نہیں… بلکہ ہماری زندگی کی حقیقت ہے۔
ناشپاتی کا درخت ہمارے والدین کی مثال ہے۔
بچپن میں ہم ان کے ساتھ وقت گزارنا پسند کرتے ہیں، لیکن جیسے جیسے بڑے ہوتے ہیں ہم دور ہو جاتے ہیں۔
ہم اکثر صرف ضرورت کے وقت ہی واپس آتے ہیں۔
والدین اپنی پوری زندگی اپنے بچوں کی خوشی، حفاظت اور ضروریات کے لیے قربان کر دیتے ہیں… مگر ہم اکثر اس محبت کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
اگر آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کے والدین ابھی حیات ہیں، تو ان کی قدر کریں، ان کے ساتھ وقت گزاریں، انہیں کال کریں، ان سے ملیں۔
کیونکہ ایک دن شاید صرف ایک ٹھنڈا سایہ باقی رہ جائے… اور دل میں صرف پچھتاوا کہ کاش ہم نے پہلے وقت نکالا ہوتا۔
اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں 👍
![]()

