Daily Roshni News

انسانی تخلیق کے ابتدائی مراحل

انسانی تخلیق کے ابتدائی مراحل

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انسانی تخلیق کے ابتدائی مراحل ہمیشہ سے سائنس دانوں کے لیے حیرت کا باعث رہے ہیں۔ آج جدید ایمبریالوجی (Embryology) نے یہ ثابت کیا ہے کہ رحمِ مادر میں جنین کی نشوونما ایک انتہائی پیچیدہ اور حیران کن عمل ہے۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ چودہ سو سال پہلے حضرت محمد ﷺ نے ایک ایسی دعا سکھائی جس میں انسانی تخلیق کے ان مراحل کی طرف نہایت بلیغ انداز میں اشارہ موجود ہے۔

نبی کریم ﷺ سجدے کی دعا میں فرماتے تھے:

“سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ، وَصَوَّرَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ”

“میرے چہرے نے اُس ذات کو سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اس کی صورت گری کی، اور اس کے کان اور آنکھوں کو شق کیا (شگاف دیا)۔”

یہاں عربی لفظ “شَقَّ” انتہائی قابلِ غور ہے۔ عربی زبان میں “شَقَّ” کا مطلب ہے:

شگاف ڈالنا

چیرنا

کسی بند چیز کو کھولنا یا پھاڑ کر راستہ بنانا

جدید سائنس کے مطابق رحمِ مادر میں جنین کی ابتدائی تشکیل کے دوران آنکھیں اور کان ابتدا میں مکمل اعضاء کی صورت میں ظاہر نہیں ہوتے، بلکہ سر کے اطراف چھوٹے چھوٹے گہرے شگافوں اور ابھاروں

(Pharyngeal grooves & optic pits)

 کی شکل میں نمودار ہوتے ہیں۔

جنین میں آنکھ اور کان کیسے بنتے ہیں؟

تقریباً حمل کے دوسرے اور تیسرے ہفتے میں:

جنین کے سر کے دونوں اطراف چھوٹے گڑھے نما ابھار بنتے ہیں۔

آنکھوں کی ابتدا “Optic grooves” سے ہوتی ہے۔

کانوں کی ابتدا “Pharyngeal clefts” اور “otic pits” سے ہوتی ہے۔

بعد میں یہی شگاف نما ساختیں پیچیدہ اعضاء میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔

جدید ایمبریالوجی کی تصاویر میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ:

آنکھیں پہلے سوراخ نما گڑھوں کی شکل رکھتی ہیں۔

کانوں کی ابتدائی ساخت بھی شگافوں اور تہوں کی صورت میں بنتی ہے۔

اسی حقیقت نے کئی محققین کو حیران کیا کہ نبی کریم ﷺ نے “خلق” یا “جعل” کے بجائے “شَقَّ” کا لفظ استعمال فرمایا، جو جنین کی ابتدائی ساخت کے بالکل قریب معلوم ہوتا ہے۔

1970 کی دہائی اور حیران کن تصاویر

1970 کی دہائی میں سویڈن کے مشہور فوٹوگرافر اور سائنسدان Lennart Nilsson نے رحمِ مادر میں جنین کی افزائش کی تاریخی تصاویر لیں۔ ان تصاویر نے پوری دنیا کو حیران کر دیا کیونکہ پہلی بار انسان نے رحم کے اندر جنین کے مراحل کو اتنی وضاحت سے دیکھا۔

جب ان تصاویر کو انتہائی طاقتور میگنیفیکیشن کے ذریعے دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ:

ابتدائی انسانی چہرہ مکمل چہرہ نہیں ہوتا

بلکہ اس میں مختلف شگاف نما ساختیں موجود ہوتی ہیں

انہی شگافوں کے اندر سے بعد میں آنکھیں، کان اور دیگر اعضاء بنتے ہیں

یہی وہ مقام ہے جہاں بہت سے مسلمان محققین اس دعا کے لفظ “شَقَّ” کو جدید ایمبریالوجی کے تناظر میں غیرمعمولی قرار دیتے ہیں۔

قرآن مجید اور انسانی تخلیق

قرآنِ مجید بار بار انسان کو اپنی تخلیق پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ”

“عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کی اپنی جانوں میں بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہی حق ہے۔” — سورۃ فصلت: 53

اسی طرح سورۃ المؤمنون میں انسانی تخلیق کے مختلف مراحل بیان کیے گئے ہیں:

نطفہ

علقہ

مضغہ

ہڈیوں کی تشکیل

گوشت کا چڑھنا

جدید سائنس بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انسانی جنین مرحلہ وار ارتقاء سے گزرتا ہے۔

ایک اہم علمی وضاحت

یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ:

مذہبی نصوص کا بنیادی مقصد ہدایت دینا ہے، سائنسی کتاب بننا نہیں۔

تاہم جب کسی آیت یا حدیث کا مفہوم جدید سائنسی مشاہدات سے ہم آہنگ نظر آتا ہے تو یہ اہلِ ایمان کے لیے غور و فکر کا باعث بنتا ہے۔

بہت سے مسلم اسکالرز اسے “سائنسی اعجاز” قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض سائنسدان اسے زبان کی خوبصورت مطابقت سمجھتے ہیں۔

لیکن اس میں شک نہیں کہ انسانی تخلیق کا عمل آج بھی سائنس کے لیے حیرت انگیز ہے، اور قرآن و حدیث انسان کو مسلسل اپنی ذات پر غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔

سبحانَ الخالقِ العظیم۔

Loading