Daily Roshni News

کیا ہماری پوری کائنات کسی بلیک ہول کے اندر موجود ہو سکتی ہے؟۔۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

کیا ہماری پوری کائنات کسی بلیک ہول کے اندر موجود ہو سکتی ہے؟

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)انسان صدیوں سے یہ جاننے کی کوشش کر رہا ہے کہ ہماری کائنات کی اصل حقیقت کیا ہے۔

بگ بینگ سے پہلے کیا تھا؟

کائنات کہاں ختم ہوتی ہے؟

اور کیا ہماری دنیا واقعی اتنی ہی بڑی ہے جتنی ہمیں نظر آتی ہے؟

جدید فلکیاتی تحقیق میں ایک نہایت حیران کن نظریہ دوبارہ زیرِ بحث ہے:

کچھ سائنسدانوں کے مطابق ممکن ہے کہ ہماری پوری کائنات دراصل ایک بہت بڑے بلیک ہول کے اندر موجود ہو۔

بلیک ہول خلا میں وہ مقام ہوتا ہے جہاں کششِ ثقل اتنی زیادہ ہو جاتی ہے کہ روشنی تک وہاں سے واپس نہیں آ سکتی۔ ماضی میں سائنسدان سمجھتے تھے کہ بلیک ہول صرف ہر چیز کو تباہ کر دیتے ہیں، لیکن اب بعض نئی ریاضیاتی تھیوریز ایک مختلف امکان پیش کر رہی ہیں۔

ان نظریات کے مطابق جب کوئی بہت بڑا ستارہ اپنے اختتام پر پہنچتا ہے تو وہ سکڑ کر بلیک ہول بنا دیتا ہے۔ کچھ ماہرینِ طبیعیات کا خیال ہے کہ بلیک ہول کے اندر مادہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا بلکہ انتہائی دباؤ کے تحت ایک نئی “اسپیس” اور “ٹائم” پیدا ہو سکتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، بلیک ہول کے اندر ایک نئی کائنات جنم لے سکتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ سائنسدان یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ:

“اگر بلیک ہول نئی کائناتیں پیدا کر سکتے ہیں تو کیا ہماری کائنات بھی کسی اور عظیم کائنات کے بلیک ہول کے اندر پیدا ہوئی تھی؟”

دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری کائنات کی بعض خصوصیات اس نظریے سے جزوی طور پر ملتی جلتی محسوس ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر:

– کائنات مسلسل پھیل رہی ہے

– وقت اور خلا ایک دوسرے سے گہرے طور پر جڑے ہوئے ہیں

– بلیک ہولز اور بگ بینگ دونوں میں انتہائی کثافت اور توانائی پائی جاتی ہے

– بعض ریاضیاتی مساوات بلیک ہول اور کائنات کے ابتدائی لمحوں میں مماثلت دکھاتی ہیں

اسی وجہ سے بعض سائنسدان “ملٹی ورس” اور “کاسمک نیسٹنگ” جیسے تصورات پر کام کر رہے ہیں، جن کے مطابق ایک کائنات کے اندر دوسری کائنات موجود ہو سکتی ہے۔

ابھی تک اس نظریے کا کوئی حتمی ثبوت موجود نہیں، لیکن جدید دوربینیں، گریویٹیشنل ویوز، اور کوانٹم فزکس پر ہونے والی تحقیق سائنسدانوں کو ان سوالات کے مزید قریب لے جا رہی ہے۔

قرآنِ مجید انسان کو بار بار کائنات میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

«”اور ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اندر بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہو جائے گا کہ یہی حق ہے۔”

(سورۃ فصلت: 53)»

گو کہ قرآن کا مقصد سائنسی تفصیلات بیان کرنا نہیں، مگر یہ حقیقت ضرور ہے کہ وہ انسان کو تخلیقِ کائنات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ آج سائنس جتنا ترقی کر رہی ہے، انسان اتنا ہی اس وسیع اور پراسرار کائنات کے رازوں سے حیران ہو رہا ہے۔

کیا واقعی ہماری پوری کائنات کسی بلیک ہول کے اندر موجود ہے؟

فی الحال اس سوال کا حتمی جواب کسی کے پاس نہیں، لیکن سائنس اس راز کو سمجھنے کی کوشش میں مسلسل آگے بڑھ رہی ہے۔

#BlackHole #Universe #Cosmology #SpaceScience #Astrophysics #BigBang #QuantumPhysics #Astronomy #ScienceFacts #ScienceUrdu #SpaceMystery #CosmicTheory #ModernScience #NASA #Physics

نوٹ:

یہ مضمون صرف جدید سائنسی نظریات اور تحقیقات سے آگاہی دینے کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ بلیک ہول کے اندر کائنات ہونے کا تصور ابھی ایک سائنسی تھیوری ہے، کوئی ثابت شدہ حقیقت نہیں۔ سائنسدان اس موضوع پر مزید تحقیق کر رہے ہیں۔ اس پوسٹ کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ آج سائنس کن امکانات اور سوالات پر غور کر رہی ہے۔

حوالہ جات:

Nature Astronomy

NASA

Scientific American

Physical Review Letters

Einstein General Relativity Research

Loading