انسانی قدر کا اندازہ
انتخاب ۔۔۔۔۔ میاں عمران
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ انسانی قدر کا اندازہ۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔۔ میاں عمران)امیر وہ نہیں جس کے پاس بہت کچھ ہو، بلکہ امیری (تونگری) کی پیمائش اس بات سے ہوتی ہے کہ آپ دوسروں کو کتنا دے سکتے ہیں۔
خوشحالی چیزوں کو جمع کرنے میں نہیں، بلکہ سخاوت اور دنیاوی چیزوں سے بے نیازی (لگاؤ نہ رکھنے) کی صلاحیت میں تلاش کریں۔
مختصر وضاحت
یہ قول رہبانیت یا تصوف (Stoicism) کی عکاسی کرتا ہے، جس کے اہم نکات یہ ہیں:
حقیقی دولت کیا ہے؟ عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ جس کے پاس بینک بیلنس یا جائیداد زیادہ ہے وہ امیر ہے۔ لیکن یہ فلسفہ کہتا ہے کہ اصل امیر وہ ہے جس کا دل اتنا بڑا ہو کہ وہ اپنی ضرورت سے زائد (اور بعض اوقات اپنی ضرورت کی) چیزیں بھی دوسروں کی بھلائی کے لیے بانٹ سکے۔
بے نیازی (Detachment): اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان چیزوں کا مالک تو ہو، لیکن ان کا غلام نہ ہو۔ جب آپ کسی چیز کو چھوڑنے یا بانٹنے کی ہمت رکھتے ہیں، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ چیز آپ پر حاوی نہیں ہے، بلکہ آپ اس پر حاوی ہیں۔
ذہنی سکون: جب انسان جمع کرنے کی ہوس سے آزاد ہو جاتا ہے اور بانٹنے کی خوشی سیکھ لیتا ہے، تو اسے وہ سکون اور “فراوانی” محسوس ہوتی ہے جو کروڑوں روپے جمع کر کے بھی حاصل نہیں ہو سکتی۔
خلاصہ: یہ قول ہمیں سکھاتا ہے کہ انسانی قدر کا اندازہ اس کے ہاتھ کی کھلی مٹھی (سخاوت) سے لگایا جاتا ہے، نہ کہ اس کی بند مٹھی (ذخیرہ اندوزی) سے۔
![]()

