Daily Roshni News

انسان کے باطن کا سفر۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔  میاں عمران

انسان کے باطن کا سفر

انتخاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔  میاں عمران

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔۔ انسان کے باطن کا سفر۔۔۔ انتخاب ۔۔۔۔  میاں عمران)نفس ۔ ایمان کی راہ میں وہ رکاوٹ جو اندر سے اٹھتی ہے

انسان کا سب سے مشکل معرکہ اپنے آپ سے ہے

انسان ساری زندگی دنیا کو فتح کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

وہ حالات بدلنا چاہتا ہے۔

لوگوں کو بدلنا چاہتا ہے۔

اپنی قسمت بدلنا چاہتا ہے۔

لیکن کبھی کبھی اسے سب سے بڑی شکست وہاں ہوتی ہے جہاں کوئی دوسرا موجود ہی نہیں ہوتا:

اپنے آپ کے سامنے۔

تنہائی میں جب کوئی دیکھنے والا نہ ہو۔

اختیار ہو اور روکنے والا کوئی نہ ہو۔

غصہ آئے اور جواب دینے کی پوری طاقت ہو۔

خواہش اٹھے اور اسے پورا کرنے کا موقع بھی موجود ہو۔

وہاں انسان کے سامنے ایک سوال کھڑا ہوتا ہے:

“میں اپنی خواہش کا بندہ ہوں یا اپنے رب کا؟”

یہیں سے نفس کا مسئلہ شروع ہوتا ہے۔

نفس: صرف خواہش کا نام نہیں

ہم اکثر نفس کو صرف بری خواہشات سے تعبیر کرتے ہیں۔

لیکن نفس اس سے کہیں پیچیدہ ہے۔

وہ انسان کے اندر موجود وہ قوت ہے جو اپنی خواہش، اپنی پسند، اپنی برتری اور اپنی مرضی کو مرکز بنانا چاہتی ہے۔

اسی لیے نفس ہمیشہ گناہ کے دروازے سے داخل نہیں ہوتا۔

کبھی وہ انا کے راستے آتا ہے۔

کبھی شہرت کے ذریعے۔

کبھی غصے کے ذریعے۔

کبھی اپنی نیکی پر فخر کے ذریعے۔

اور کبھی انسان کو یہ یقین دلا کر کہ:

“میں تو حق پر ہوں۔”

یہ آخری صورت شاید سب سے خطرناک ہے۔

کیونکہ جب انسان کو اپنی غلطی کا احساس ہی نہ رہے تو اصلاح کا دروازہ بند ہونے لگتا ہے۔

قرآن نفس کی حقیقت بتاتا ہے

حضرت یوسفؑ کے واقعے میں قرآن ایک نہایت گہری حقیقت بیان کرتا ہے:

إِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوءِ إِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّي

“بے شک نفس تو برائی کا بہت حکم دینے والا ہے، مگر جس پر میرا رب رحم فرمائے۔”

(یوسف: 53)

غور کیجیے:

نفس صرف برائی پسند نہیں کرتا۔

وہ برائی کا حکم دیتا ہے۔

وہ انسان کے اندر ایک ایسی قوت بن سکتا ہے جو خواہش کو دلیل، گناہ کو معمول اور غلطی کو حق ثابت کرنے لگے۔

پہلے وہ کہتا ہے:

“یہ کر لو۔”

پھر:

“صرف ایک بار۔”

پھر:

“سب کرتے ہیں۔”

اور آخر میں:

“اس میں غلط ہی کیا ہے؟”

یہ نفس کی سب سے خطرناک چال ہے:

وہ انسان کو صرف گناہ کی طرف نہیں لے جاتا؛ کبھی گناہ کے احساس سے بھی محروم کر دیتا ہے۔

جب نفس عقل کو اپنا وکیل بنا لے

نفس کا مقابلہ اس لیے مشکل ہے کہ وہ ہمیشہ عقل سے جنگ نہیں کرتا۔

کبھی وہ عقل کو اپنا وکیل بنا لیتا ہے۔

انسان پہلے خواہش کے مطابق فیصلہ کرتا ہے، پھر عقل سے اس کے حق میں دلائل تلاش کرتا ہے۔

غصے میں کسی کو تکلیف دی؟

“وہ اس کا مستحق تھا۔”

کسی کی کامیابی سے حسد ہوا؟

“اس میں ایسی کون سی خوبی ہے؟”

اپنی نیکی پر فخر پیدا ہوا؟

“آخر میں دوسروں سے بہتر ہی تو ہوں۔”

دنیا کی محبت آخرت پر غالب آنے لگی؟

“ابھی عمر پڑی ہے، بعد میں سنبھل جائیں گے۔”

یہاں عقل موجود ہے، مگر حقیقت کی تلاش میں نہیں؛ خواہش کی وکالت میں۔

یہی وہ مقام ہے جہاں انسان کو اپنے نفس سے زیادہ اپنے جواز سے ڈرنا چاہیے۔

نفس کا سب سے بڑا مطالبہ: “میری مرضی”

ایمان کہتا ہے:

اللہ کی مرضی۔

نفس کہتا ہے:

میری مرضی۔

ایمان کہتا ہے:

حق کے سامنے جھک جاؤ۔

نفس کہتا ہے:

حق وہ ہے جو میرے لیے قابلِ قبول ہو۔

یہی وجہ ہے کہ ایمان صرف اللہ کے وجود کو مان لینے کا نام نہیں۔

اصل امتحان وہاں شروع ہوتا ہے جہاں:

اللہ کا حکم میری خواہش کے سامنے آ کھڑا ہو۔

وہاں زبان کا ایمان اور دل کا ایمان الگ الگ دکھائی دینے لگتے ہیں۔

نفس کو ختم نہیں، پاک کرنا ہے

اسلام انسان کو خواہش سے خالی نہیں کرنا چاہتا۔

خواہش انسان کی فطرت ہے۔

کھانے کی خواہش ہے تو زندگی قائم رہتی ہے۔

محبت کی خواہش ہے تو خاندان بنتا ہے۔

کامیابی کی خواہش ہے تو انسان کوشش کرتا ہے۔

مسئلہ خواہش نہیں۔

مسئلہ خواہش کی حکمرانی ہے۔

اسی لیے قرآن کامیابی کو نفس کی تباہی نہیں بلکہ اس کے تزکیے سے جوڑتا ہے:

قَدْ أَفْلَحَ مَن زَكَّاهَا ۝ وَقَدْ خَابَ مَن دَسَّاهَا

“یقیناً کامیاب ہوا وہ جس نے نفس کو پاک کیا، اور نامراد ہوا وہ جس نے اسے آلودہ کر دیا۔”

(الشمس: 9–10)

یعنی انسان کو اپنی خواہشات کا دشمن نہیں بننا۔

اسے ان کا نگہبان بننا ہے۔

اصل مجاہدہ وہ ہے جو کسی کو دکھائی نہیں دیتا

نفس کی شکست ہمیشہ کسی بڑے معرکے میں نہیں ہوتی۔

کبھی یہ ایک لمحے میں ہوتی ہے۔

غصہ آیا۔

جواب زبان تک پہنچا۔

اور انسان رک گیا۔

بدلہ لینے کا موقع ملا۔

دل نے کہا:

“چھوڑ دو، اللہ کے لیے۔”

حرام فائدہ سامنے تھا۔

کوئی دیکھنے والا نہیں تھا۔

مگر انسان نے ہاتھ روک لیا۔

تعریف ملی۔

دل خوش ہوا۔

مگر اندر سے ایک آواز آئی:

“یہ سب اللہ کا فضل ہے، میرا کمال نہیں۔”

یہ چھوٹے چھوٹے لمحے بظاہر معمولی ہیں۔

مگر یہی انسان کے باطن کی تعمیر کرتے ہیں۔

نفس ہر بار جب اللہ کے لیے پیچھے ہٹتا ہے، ایمان ایک قدم آگے بڑھتا ہے۔

اپنے نفس کو پہچاننے کا ایک طریقہ

ہم اکثر سوچتے ہیں کہ ہماری بڑی آزمائش کیا ہے۔

لیکن شاید اس کا جواب ہماری روزمرہ زندگی میں چھپا ہے۔

جس بات پر تنقید برداشت نہیں ہوتی۔

جس حق کو اپنے خلاف سننا مشکل لگتا ہے۔

جس شخص کی کامیابی ہمیں اندر سے بے چین کرتی ہے۔

جس خواہش کے سامنے بار بار کمزور پڑتے ہیں۔

اور جس معاملے میں ہم ہر بار اپنے لیے کوئی نیا جواز تلاش کر لیتے ہیں۔

وہیں ہمارا نفس اپنا چہرہ دکھا رہا ہوتا ہے۔

ایک سوال… جو شاید آسان نہ ہو

ہم دوسروں کی اصلاح کے لیے بہت کچھ کہنا جانتے ہیں۔

مگر اگر آج اللہ ہمیں ہمارے اپنے نفس کے سامنے کھڑا کر دے تو؟

وہ پوچھے:

تم جس حق کو جانتے تھے، اس پر چلے کیوں نہیں؟

جس گناہ کو غلط سمجھتے تھے، اسے چھوڑا کیوں نہیں؟

جس شخص کو معاف کر سکتے تھے، اسے معاف کیوں نہ کیا؟

جس نیکی کو صرف میری رضا کے لیے کرنا تھا، اس میں اپنی بڑائی کیوں شامل کر دی؟

شاید ان سوالوں کا جواب ہمارے پاس نہ ہو۔

اور شاید یہی وہ لمحہ ہو جہاں حقیقی اصلاح شروع ہوتی ہے۔

کیونکہ ایمان کا سفر صرف اللہ کو پہچاننے کا سفر نہیں۔

یہ اپنے اندر ان چیزوں کو پہچاننے کا سفر بھی ہے جو ہمیں اللہ سے دور کرتی ہیں۔

دل اللہ کی طرف بلاتا ہے۔

نفس اپنی طرف۔

اور انسان کے سامنے ہر روز ایک انتخاب ہوتا ہے:

“میں کس کی بات مانوں؟”

جس دن انسان ہر بار اپنے نفس کی خواہش پر اللہ کی رضا کو ترجیح دینا شروع کر دے، اسی دن نفس اس کا آقا نہیں رہتا۔

وہ اس کا مربوط، تربیت یافتہ اور اللہ کے تابع وجود بننے لگتا ہے۔

اور پھر ایمان ایک خیال نہیں رہتا۔

وہ کردار بن جاتا ہے۔

اگلی منزل:

تقویٰ — جب انسان تنہائی میں بھی اللہ کو یاد رکھتا ہے

Loading