Daily Roshni News

نیشنل فورم آف تھنکرز کے زیرانتظام و انصرام۔۔۔۔۔۔مجلس مذاکرہ ۔۔۔

نیشنل فورم آف تھنکرز کے زیرانتظام و انصرام

۔۔۔مجلس مذاکرہ ۔۔۔

کراچی کے مسائل کا حل اور بہتر مستقبل کیونکر ممکن ہے؟

زیرصدارت وفاقی وزیر جناب قیصر شیخ

پاکستان(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔نمائندہ خصوصی ۔۔۔کراچی)جناب قیصر شیخ صاحب، وفاقی وزیر، پروفیسر خواجہ قمر الحسن صاحب، نیشنل فورم آف تھنکرز کے ذمہ داران، قابل احترام شخصیات، مقررین حضرات،  تشریف فرمااحباب

 السلام علیکم !

 کراچی کی صورت حال اس وقت کچھ میری تقی میرؔ کے ان تین اشعار کی مانند ہے۔ ان میں چند الفاظ کی تحریف کردی جائے تو کراچی کا خوبصورت نقشہ سامنے آجاتا ہے۔ سنئے وہ اشعار   ؎

کیا بود وباش پوچھو ہو پورب کے ساکنو

ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے

دی جو ایک شہر تھا عالم انتخاب

رہتے تھے منتخب ہی جہاں روز گار کے

جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کردیا

ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے

 ان اشعار میں پورب کی جگہ کراچی، دلی کی جگہ کراچی، فلک کی جگہ حکمرانوں ایسی صورت میں اس وقت کراچی کی صورت حال کچھ اسی قسم کی ہے۔

 شکریہ پروفیسر خواجہ قمر الحسن صاحب آپ نے آج کے اس اہم مذاکرہ میں شریک مذاکرہ بنایا اور اہم موضوع پر احباب سے مخاطب ہونا میرے لیے باعثِ مسرت اور اعزاز ہے۔

 یوں تو پوری دنیا مسائل کا شکار ہیں لیکن ہمارا شہر کراچی مسائل کا شکار ہی نہیں بلکہ اسے مسائلستان کہنا غلط نہ ہوگا۔ کراچی جسے روشنیوں کا شہر کہا جاتا تھا آج بے شمار مسائل سے دو چار ہے۔ یہ شہر پاکستان کا سب سے بڑا شہر، معاشی ہب اور ملک کی شہ رگ ہے۔ اس شہر کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ یہ ملک کے قومی خزانے میں سب سے زیادہ حصہ ڈالتا چلا آرہا ہے۔ گویا یہ شہر کماؤ پوت تو ہے لیکن اس کی کمائی کائی تو جارہی ہے اس کی ضروریات کا کوئی احساس نظر نہیں آرہا۔ قیام پاکستان کے بعد اس شہر کو ملک کا دارالخلافہ ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہوالیکن جلد ہی اس کی اس خصوصیت کو حاسدوں کی نظر لگ گئی، انہیں اس شہر کی ترقی، خوشحالی اور بڑا پن ایک آنکھ نہ بھایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ بھلا کرے ایوب خان صاحب کا وہ اس شہر کی اس خصوصیت کو اٹھا کر راولپنڈی کے قریب خوبصورت اور پر فضا سرزمین پر لے جا کر آباد کیا جو اسلام آباد کہلایا۔ شہر کراچی پر میری ذاتی رائے میں یہ پہلا وار تھا۔اسلام آباد کا حسن اور خوبصورتی اپنی جگہ لیکن کراچی پر سے جیسے شفقت کا ہاتھ اٹھ گیا۔ اب شہر کراچی کی الٹی گنتی شروع ہوگئی۔ جو حکومت آئی سویلین یا فوجی اس نے یہ سمجھا کہ یہ شہر تو خود رو پودہ ہے اس کی آبیاری کی کیا ضرورت ہے، چنانچہ مسائل کا دھارا بہتے بہتے یہاں تک پہنچ گیا کہ آج یہ شہر جن مسائل کا شکار ہے ان میں پانی کی قلت، ٹوٹی پھوٹی سڑکیں، کسی نے اگر ان ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کو اپنے کھلی آنکھوں سے دیکھنا ہو تو وہ کراچی یونیورسٹی روڈ پر سفورہ چورنگی سے قائد اعظم کے مزا تک کا سفر کر ے، پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعہ یا اپنی ٹرانسپورٹ کے ذریعہ، قائد کے مزار پر پہنچتے ہی چاروں تبق روشن ہوجائیں گے۔ اس سٹرک کی یہ سورت حال چند مہینوں سے نہیں بلکہ کئی سالوں سے یہی صورت حال چلی آرہی ہے۔اب اس سٹرک کے کچھ حصہ کی تعمیر کی ذمہ داری ایف ڈبلیواو(فرنٹیر ورکس آرگنائیزیشن)کو سونپ دی گی ہے، اس پر امید بندھی ہے کہ شاید اب یہ منصوبہ جلد پائے تکمیل کو پہنچ جائے گا، ٹریفک جام ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کے باعث ہے، ناقص سیوریج، کچرے کے ڈھیروں، ماحولیاتی آلودگی، تجاوزات، بے ہنگم آبادی، اسٹریٹ کرائم اور ناقص شہر ی یا بلدیاتی نظام، کراچی کے نوجوانوں کو جو اعلیٰ تعلیم یافتہ  ہیں کو ملازمت کے حصول میں میرٹ کا خون کیاجانا جیسے سنگین مسائل کا شکار ہے۔ایک اہم مسئلہ سندھ میں جو حکومتیں آتی رہیں جاتی رہیں، بعض سالوں ٹکی رہیں، ان کا کراچی کو اہمیت نادینا اس کی سرپرستی نا کرنا ہے بھی ایک مسئلہ چلا آرہا ہے۔

 مسائل تو اور بھی ہیں اگر صرف ان مسائل کے حل کی بات کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ سب سے پہلے حکومت وقت کو کراچی کو اون کرے، اس کی ترقی کی جانب سچائی سے قدم اٹھائے۔ اس کے علاوہ ان مسائل کا حل کچھ اس طرح سامنے آسکتا ہے۔یہ جو مسائل ہیں چند مہینوں یا چند سالوں میں پیدا نہیں ہوئے یہ سال ہا سال سے جمع ہوتے ہوتے

لاوا بن گئے ہیں۔ اس لاوے کو چند دنوں، چند مہینے یا چند سالوں میں ٹھیک نہیں کیا جاسکتا۔ ان کو رفتہ رفتہ ان کی سرجری کر کے انہیں اپنے پیروں پر کھٹرا کیا جاسکتاہے۔ چند مسائل اور ان کا حل کچھ اس طرح ممکن ہے بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کہ شہر

کراچی کے مسائل کا حل اور بہتر مستقبل مسائل کو حل کرنے کے لیے حسب ذیل اقدامات کی ضرورت ہے۔

۱۔ فورہ طور پر ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی فوری مرمت اور نئی سڑکوں کی تعمیر کا کام شروع کیا جائے۔

۲۔ پلک ٹرانسپورٹ کو جدید، محفوظ اور عوام کی ضرورت کے مطابق بنایا جائے۔

۳۔ جدید سیوریج اور نکاسی ئ آب کا نظام مرمت اور از سر نو بحال کیا جائے۔

۴۔ کچرے کو سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگانے اور صفائی کے مؤثر نظام کو یقینی بنایا جائے۔

۵۔ تجاویزات کے خاتمے کے ساتھ شہری منصوبہ بندی پر سختی سے عمل کیا جائے۔

۶۔ پولیس اور قانوں نافذ کرنے والے اداروں کو مزید مؤثر بنا کر اسٹریٹ کرائم پر قابو پایا جائے۔

۷۔ پارکوں اور درختوں اور سبزہ زاروں میں اضافہ کیاجائے تاکہ ماحول بہتر بن سکے۔

۸۔ بااختیار، جواب دہ اور عوام کے اصل منتخب نمائندوں کو وسائل فراہم کیے جائیں تاکہ شہری مسائل مقامی سطح پر حل

 ہوسکیں۔

 آخر میں یہ کہوں گا کہ کراچی شہر کی ترقی، پاکستان کی ترقی ہے، اور کراچی میں خوشحالی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔حکومت کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی ان مسائل کو حل کرنے میں اپنا حصہ ڈالنا ہوگا۔

Loading