Daily Roshni News

عالمی شہرت یافتہ شہنشاہ قوالی، عظیم فن کار، استاد الاستاد، محترم و مکرم جناب نصرت فتح علی خان صاحب کی شان میں خراج تحسین و عقیدت۔۔۔منجانب، ناصر نظامی ،گولڈ میڈلسٹ

عنوان
عالمی شہرت یافتہ شہنشاہ قوالی، عظیم فن کار، استاد الاستاد، محترم و مکرم جناب نصرت فتح علی خان صاحب کی شان میں خراج تحسین و عقیدت

منجانب، ناصر نظامی ،گولڈ میڈلسٹ

گرہ کے اشعار ،

استاد فتح علی، مبارک علی
موسیقی کے گلشن کی ہیں روشن کلی

ان پہ کر اپنے، رحم و کرم کا سایہ
ان کو عطا کر جنت، یا رب جلی

شعر,

لیتا ہوں جب نام نصرت
دل کو مل جاتی ہے راحت

میری یہ دعا ہے۔ ہر دم
رب ، عطا کرے ان کو جنت

شعر،

وہ شہنشاہ ء قوالی ہیں، وہ استاد سرگم ہیں
سبھی فن کار کرتے، ان کے آ گے ا پنا سر، خم ہیں

شعر،

دور حاضر کے ہیں، تان سین، نصرت جی
ملی ہے دنیا میں، ان کے فن کو، شہرت جی

سدا ہم گنگنائیں گے، ان کے ہی نغمے
دلوں میں مہکے گی، ہر دم ان کی، الفت جی

چادر!!

چڑھانے آئے ہیں نصرت کے، پیار کی چادر
بنا کے یار لائے آ ج نصرت، یار کی چادر

یہ ارمانوں کی کلیاں ہیں
یہ گلہائے الفت۔ ہیں
یہ چاہت کے قرینے ہیں
یہ ناز مروت۔ ہیں
عقیدت مندی کے جذبوں کے، اظہار کی چادر

جہاں میں پھیلی ہے ہر سو
ان کے نغموں کی ،شہرت
ہماری روح کا آ رام
دل کا چین ہے۔ نصرت
عزاداری میں ڈوبے ہوئے، افکار کی چادر

تیری سرگم نیاری ہے
تیری تانیں مستانہ
گلو کاری کا ہے انداز
سب سے، جدا گانہ
،شفائے قلب و جاں، تیرے رخ انوار کی چادر

سجاتے رہنا گلدستے
جلاتے رہنا۔ قندیلیں
نظر کا نور ہیں ان کے
خیالوں کی،۔ ابابیلیں
ہمیشہ جگمگائے گی،یہ، مزار کی چادر

تمنا کے ستارے ہیں
یہ آ شا کے جگنو ہیں
فضائے شہر میں پھیلے ہوئے
بن کے ، خوشبو ہیں
گلوں کا ہے بنی گلشن، گلوکار کی چادر

فن موسیقی کے استاد
جناب ،۔ فرخ۔ جی
حسن بندش کی کرنوں کے
آ فتاب، فرخ جی
ہمارے سر پہ ہے آ پ کے، وقار کی، چادر

کسی کی ہو، جو خوش بختی
اور، خوش نصیبی ہو
بڑا ہو صاحب اقبال
اور، اسم نقیبی۔ ہو
پرو کے لائے، سچی یادوں کے، ہار کی چادر

دعا یہ شاہ زمان کی ہے
صدا، قلب و جاں کی ہے
ملے جنت تھجے آ رزو
سارے جہاں کی۔ ہے
تمہارے عاشقوں کے دل کی، پکار کی چادر

نظامی، اور راحت کی، امنگوں کا یہ نذرانہ
تیری دلداری کے دلنشیں، رنگوں کا افسانہ
سجا کے لائے ہیں، در پہ تیرے، دربار کی چادر

ناصر نظامی
گولڈ میڈلسٹ
ا یمسٹرڈم ہالینڈ
08 اگست 2026

Loading