Daily Roshni News

انٹارکٹکا دنیا کا سب سے سرد، ویران اور پراسرار براعظم سمجھا جاتا ہے۔

انٹارکٹکا دنیا کا سب سے سرد، ویران اور پراسرار براعظم سمجھا جاتا ہے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہاں بعض علاقوں میں درجہ حرارت منفی 80 ڈگری سے بھی نیچے چلا جاتا ہے، جبکہ ہزاروں میٹر موٹی برف نے اس پورے خطے کو ڈھانپ رکھا ہے۔

لیکن حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ اس برف کے نیچے ایک ایسی خفیہ دنیا موجود ہےجس نے اس منجمد دنیا کا تصور بدل دیا۔

جدید ریڈار ٹیکنالوجی اور سیٹلائٹ اسکیننگ کے ذریعے سائنس دانوں نے برف کے نیچے چھپے ہوئے درجنوں جھیلیں پہاڑی سلسلےدریا اور یہاں تک کہ قدیم زمین کے آثار دریافت کیے ہیں

ان میں سب سے مشہور دریافت ہے، جو تقریباً 4 کلومیٹر موٹی برف کے نیچے چھپی ہوئی ایک بڑا جھیل ہے۔

 اور یہ جھیل لاکھوں سال سے دنیا سے مکمل طور پر کٹی ہوئی ہے۔

یعنی اس کے پانی تک سورج کی روشنی نہیں پہنچتی، وہاں عام ہوا موجود نہیں، اور ماحول انتہائی سرد اور دباؤ سے بھرا ہوا ہے۔

اس کے باوجود سائنس دانوں کو وہاں ایسے جراثیم اور خوردبینی زندگی کے آثار ملے ہیں جو اس ناممکن ماحول میں بھی زندہ رہ سکتے ہیں۔بعض بیکٹیریا لاکھوں سال تک برف میں منجمد رہنے کے باوجود دوبارہ متحرک ہو گئے۔ کچھ جراثیم سورج کی روشنی کے بغیر صرف کیمیائی توانائی سے زندہ رہتے ہیں، جبکہ بعض اتنی سخت سردی میں بھی اپنے خلیوں کو جمنے نہیں دیتے۔

یہ دریافت اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اگر زمین پر برف کے نیچے زندگی موجود رہ سکتی ہے، تو پھر مشتری کے چاند یا زحل کے چاند کے برفیلے سمندروں میں بھی زندگی کے امکانات ہوسکتے ہیں۔

لیکن کہانی یہاں ختم نہیں ہوتی۔

کچھ سال پہلے سائنس دانوں نے انٹارکٹیکا کی برف کے نیچے ایک پورا قدیم زمینی منظر دریافت کیا، جس میں دریا، وادیاں اور پہاڑ شامل تھے۔

ماہرین کے مطابق یہ خطہ کبھی سرسبز جنگلات اور بہتے دریاؤں سے بھرا ہوا ہوسکتا تھا، یعنی آج کا برف سے جما ہوا انٹارکٹیکا ماضی میں ایک بالکل مختلف دنیا تھا۔

اسی دوران بعض پراسرار سگنلز نے بھی سائنس دانوں کو الجھن میں ڈال دیا۔

برف کے نیچے سے آنے والی کچھ غیر معمولی توانائی لہروں اور ذراتی سگنلز نے نئی بحث چھیڑ دی کہ شاید وہاں ابھی بھی بہت کچھ چھپا ہوا ہے جسے انسان مکمل طور پر نہیں سمجھ پایا۔

بعض ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ ہزاروں سال پرانے جراثیم یا وائرس اب بھی اس برف کے نیچے محفوظ ہوسکتے ہیں۔

اگر موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے یہ برف تیزی سے پگھلتی رہی تو مستقبل میں اور بھی قدیم چیزیں سامنے آسکتی ہیں ۔

تخریر۔۔۔۔۔۔عالم نامہ Aalam nama

Loading