Daily Roshni News

کتنے خدا ہیں؟

ایک بادشاہ کے دربار میں اگلے دن علما کا اجتماع ہونا تھا، ایسے میں بادشاہ کو اچانک خواہش ہوئی کہ اجتماع میں اس کا دس سالہ بیٹا بھی بطور ’عالم‘ شریک ہوجائے، بادشاہ نے شہر کے سب سے بڑے استاد کا بلاوا بھیجا جو مغرب سےپہلے محل پہنچ گئے، استاد نے نماز کی امامت کی، کھانا بھی کھالیا جب قہوہ آیا تو بادشاہ نے کہا کہ وہ شہزادے کو کل تک عالم بنادیں تاکہ وہ بھی بطور عالم دربار میں شریک ہوسکے، استاد کے پاس کوئی راستہ تو نہ تھا لیکن اس نے کچھ دیر سوچنے کے بعد ہامی بھرلی اور بادشاہ سے کہا کہ شہزادے کو ساتھ جانے کیلئے تیار کردیں۔
مدرسہ پہنچ کر استاد نے نماز عشاء پڑھائی، شہزادے کو بلاکر اپنے پاس بٹھایا اور کہا کہ دیکھو بیٹا ایک رات میں کوئی عالم نہیں بن سکتا لیکن کل کا معاملہ یہ ہے کہ تمہیں عالم ثابت کرنا ہے وہ میں ہر صورت کروں گا، تمہیں پوری رات کتابیں پڑھنے کی ضرورت نہیں، تم میری بات دھیان سے سنو اور سکون سے سو جاؤ، کل کی محفل میں تم سے کوئی بھی سوال ہو ایک ہی جواب دینا کہ ’اس پر اختلاف ہے‘ اور ہربار تھوڑا سوچ کر تحمل سے دینا ہے، تمہارے باپ کی عزت اور میری آزادی دونوں تمہارے ہاتھ میں ہیں۔
شہزادے نے استاد کی بات سنی اورشکریہ بھی ادا کیا کیوں کہ وہ سوچ کر بیٹھا تھا کہ آج پوری رات کتابیں پڑھنا پڑیں گی، رات بھر سو نہیں سکوں گا، لہذا اس کے لیے اس وقت سب سے اہم چیز نیند تھی۔
اگلی صبح بادشاہ کا دربار لگا، کئی عالم پہنچ گئے، شہزادہ بھی جبہ پہن کر اسٹیج پرجاپہنچا، ایسے میں استاد محترم اپنے تیس چالیس شاگردوں کے ساتھ دربار میں جاپہنچے، بادشاہ نے علما اور شرکا کو تعارف کرایا کہ اس کا بیٹا بھی عالم بن چکا ہے، پہلے سب لوگ حیران ہوئے اور پھر بادشاہ کی ناراضی کے خوف سے خاموش ہوگئے، ایسے میں بادشاہ نے خود ہی بچے سے سوالات پوچھنے کی خواہش کردی۔
پہلے پہل شرکا نے خلفائے راشدین، مسواک کا سائز، نکاح اور طلاق کے مسائل سمیت کئی موٹے فقہی سوالات کئے جن پر شہزادہ جواب دیتا کہ ’اختلاف ہے‘ کیوں کہ مسلمانوں کا زیادہ تر چیزوں پر اختلاف ہے تو ہرچیز پر استاد وضاحت دے دیتے، ان کے باقی شاگرد فوری طور پر شہزادے کے حق میں شور مچاتے، نعرے لگاتے اور بادشاہ خوش ہوجاتا۔
ایسے میں ایک شخص نے پوچھ لیا عالم صاحب نمازیں کتنی ہیں، شہزادے نے رٹا رٹایا جواب داغ دیا کہ اختلاف ہے، جس پر استاد نے وضاحت دی کہ عالم صاحب فقہہ کا علم جانتے ہیں، امام ابوحنیفہ کے ماننے والے پانچ اور امام جعفر صادق کے پیروکار تین وقت نمازیں ادا کرتے ہیں، کیوں کہ شہزادہ عالم ہے تو اس نے عالم والا ہی جواب دیا ہے ورنہ ہر پانچ سات سال کے بچے کو یاد ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں اکثریت پانچ وقت نماز ادا کرتی ہے۔
اگلا سوال عید کا تھا کہ کرنی چاہیے تو شہزادے کا جواب وہی ’اختلاف‘ تھا، جس پر استاد صاحب نے وضاحت دے دی کہ برصغیر میں زیادہ تر لوگ چاند دیکھ کر روزے رکھتے ہیں، جبکہ بوہری ایک دو دن پہلے روزہ شروع کرتے ہیں اور عید بھی ایک روز پہلے کرتے ہیں۔
محفل میں ایک ڈھائی ہوشیار شخص بھی موجود تھا، جو معاملے کو پوری طرح سمجھ چکا تھا لہذا اس نے سوال داغ دیا کہ یہ بتاؤ کے خدا کتنے ہیں؟
دس سالہ شہزادے کو صحیح جواب معلوم تھا لیکن اس کو استاد کی بات بھی یاد تھی کہ ایک ہی جواب دینا ہے لہذا اس نے جواب دیا کہ ’اس پر اختلاف ہے۔‘
اس بار محفل میں سناٹا چھا گیا تھا، خود مدرسے کے طلبہ کو بھی لگا تھا کہ استاد پھنس چکے ہیں، اب دودھ کا دودھ اور پانی کا ہوگا اور استاد کی اگلا کھانا پانی اب جیل میں ہی ہوگا لیکن استاد نے ایک بار پھر لقمہ دیا انہوں نے کہا شہزادہ کوئی عام عالم یا عام ’بچہ‘ نہیں ہے ان کی شخصیت غیر معمولی ہے انہوں نے صرف اسلام کا علم حاصل نہیں کررکھا بلکہ وہ دیگر مذاہب کو بھی جانتے ہیں لہذا یہ جواب بھی درست ہے، مسلمان ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں، عیسائی تین ’خدا‘ مانتے ہیں جبکہ ہندو اور پرانے یورپی مذاہب میں بے شمار ’دیوتا اور دیویاں‘ ہیں۔
استاد کا جواب دینا تھا کہ شاگرد کھڑے ہوگئے اور خوب شور مچایا، شہزادے کے حق میں نعرے لگائے بادشاہ بے پناہ خوش ہوا اور حکم دیا کہ خدا کے بعد کوئی سوال نہیں بنتا، لہذا محفل برخاست کی جاتی ہے، بادشاہ کو اتنا خوش دیکھ کر مزید کسی کی ہمت بھی نہ ہوئی سوال کرے یا اعتراض اٹھائے۔
اس واقعے سے دو قسم کے علما پیدا ہوئے جو مدرسے کے طلبہ تھے، یعنی ’اختلافی علماء‘ اور ’اتفاقی علماء‘، اسی نوعیت کے بے شمار علما ہمارے معاشرے میں موجود ہیں جو بغیر علم، تحقیق اور دلیل اختلاف یا اتفاق کرتے ہیں اور شور مچاتے ہیں۔

Loading