انٹارکٹیکا کے “بلڈ فالز”۔۔۔۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )انٹارکٹیکا کے برفانی علاقے میں ایک ایسا منظر موجود ہے جسے پہلی نظر میں دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کسی دیو ہیکل گلیشیئر کا جسم زخمی ہو گیا ہو اور اس کے زخموں سے خون بہہ رہا ہو۔
سفید برف کے سینے پر پھیلتی گہری سرخ دھاریاں دیکھ کر ہر دیکھنے والا یہی سمجھتا ہے کہ شاید یہ خون ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ حیران کن اور پراسرار ہے۔
دنیا اس مقام کو “بلڈ فالز (Blood Falls)” کے نام سے جانتی ہے۔ یہ انٹارکٹیکا کے ٹیلر گلیشیئر (Taylor Glacier) کے کنارے واقع ہے، جو میک مرڈو ڈرائی ویلیز (McMurdo Dry Valleys) میں موجود ہے۔
یہ علاقہ زمین کے خشک ترین اور سرد ترین مقامات میں شمار ہوتا ہے، جہاں بعض جگہوں پر ہزاروں سال تک برف باری بھی نہیں ہوتی۔
1911ء میں آسٹریلوی ماہرِ ارضیات تھامس گریفتھ ٹیلر (Thomas Griffith Taylor) نے پہلی بار اس حیرت انگیز سرخ آبشار کو دیکھا۔ ابتدا میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ شاید سرخ رنگ کسی قسم کی سرخ کائی (Red Algae) کی وجہ سے ہے، لیکن جدید تحقیق نے ایک بالکل مختلف حقیقت آشکار کر دی۔
اس سرخی کا تعلق نہ خون سے ہے اور نہ ہی کسی جاندار پودے سے۔
گلیشیئر کے تقریباً 400 میٹر نیچے لاکھوں برس پرانی انتہائی نمکین پانی کی ایک جھیل چھپی ہوئی ہے۔
اس پانی میں نمک کی مقدار اتنی زیادہ ہے کہ یہ شدید منفی درجۂ حرارت میں بھی مکمل طور پر نہیں جمتا۔ اسی نمکین پانی میں بڑی مقدار میں گھلا ہوا آئرن (Iron) موجود ہے۔
جب گلیشیئر کے اندر پیدا ہونے والا دباؤ اس قدیم نمکین پانی کو باریک دراڑوں اور پوشیدہ راستوں سے سطح تک دھکیلتا ہے تو یہ پانی پہلی مرتبہ ہوا میں موجود آکسیجن سے ملتا ہے۔
آکسیجن کے ساتھ ردِعمل کے نتیجے میں آئرن زنگ آلود ہو جاتا ہے اور سرخ مائل آئرن آکسائیڈ بنتی ہے، جو سفید برف پر ایسے بہتی ہے جیسے گلیشیئر خون رو رہا ہو۔
لیکن اصل حیرت تو اس سرخ پانی کے اندر چھپی ہوئی ہے۔
سائنس دانوں نے اس تاریک، یخ بستہ اور آکسیجن سے تقریباً محروم پانی میں ایسے خردبینی جاندار (Microorganisms) دریافت کیے ہیں جو سورج کی روشنی کے بغیر زندہ رہتے ہیں۔ یہ نہ پودوں کی طرح فوٹو سنتھیسز کرتے ہیں اور نہ ہی انہیں روشنی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ان کی زندگی لوہے، گندھک (Sulfur) اور دیگر معدنیات کے درمیان ہونے والے کیمیائی عمل پر قائم ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ زندگی ہمیشہ سورج کی محتاج نہیں ہوتی۔
یہی وجہ ہے کہ بلڈ فالز آج دنیا بھر کے ماہرینِ فلکیاتی حیاتیات (Astrobiologists) کے لیے ایک قدرتی تجربہ گاہ بن چکا ہے۔
ان کا ماننا ہے کہ اگر زمین پر برف کے نیچے ایسی زندگی موجود رہ سکتی ہے تو ممکن ہے مشتری کے چاند یوروپا (Europa)یا زحل کے چاند اینسیلاڈس (Enceladus) کی برفانی تہوں کے نیچے بھی اسی نوعیت کی مائیکروبیل زندگی موجود ہو۔
تحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ نمکین پانی کم از کم 10 لاکھ سے 20 لاکھ سال تک برف کے نیچے قید رہا، یعنی وہاں موجود جرثومے انتہائی طویل عرصے تک دنیا سے مکمل طور پر الگ تھلگ ماحول میں زندہ رہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خون جیسا یہ منظر سال کے ہر موسم میں ایک جیسا نہیں رہتا۔ بعض اوقات سرخ پانی کا بہاؤ تیز ہو جاتا ہے اور بعض اوقات تقریباً رک جاتا ہے، کیونکہ اس کا انحصار گلیشیئر کے اندر موجود دباؤ، درجۂ حرارت اور برف کے اندر بننے والی باریک دراڑوں پر ہوتا ہے۔
آج بھی سائنس دان اس مقام پر مسلسل تحقیق کر رہے ہیں، کیونکہ ہر نئی دریافت صرف زمین کے بارے میں نہیں بلکہ کائنات میں زندگی کی تلاش کے لیے بھی نئے دروازے کھول رہی ہے۔
بلڈ فالز دراصل موت کی علامت نہیں… بلکہ اس حقیقت کا زندہ ثبوت ہے کہ زندگی وہاں بھی اپنا راستہ بنا لیتی ہے جہاں ہر طرف صرف برف، اندھیرا اور خاموشی دکھائی دیتی ہے۔۔۔ ✍️
![]()

