“اور ہم نے ہواؤں کو بارآور کرنے والا بھیجا” — ہوا حقیقت میں کیا کیا بارآور کرتی ہے؟
تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)ہوا ہمارے روزمرہ کے احساس میں بظاہر ایک سادہ، شفاف اور عام سی قدرتی شے دکھائی دیتی ہے۔ کبھی یہ تن من کو بھانے والی خنک اور دھیمی ہوا ہوتی ہے، کبھی تیز جھکڑ بن کر گرد اڑاتی ہے، کبھی آسمان پر بادلوں کے ریوڑ ہانکتی ہے، اور کبھی درختوں کی شاخوں کو جھومنے پر مجبور کرتی ہے۔ لیکن مادی سطح سے ہٹ کر اگر زمین کے پیچیدہ ماحولیاتی اور حیاتیاتی کارخانے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ہوا زمین کے نظام میں ایک خاموش مگر بے پناہ طاقتور لائف سپورٹ سسٹم کا کردار ادا کر رہی ہے۔
قرآنِ حکیم نے چودہ سو سال قبل سورۃ الحجر میں اس کائناتی عمل کو ایک بے مثل اور انتہائی جامع اصطلاح میں بیان فرمایا:
﴿وَأَرْسَلْنَا الرِّيَاحَ لَوَاقِحَ فَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَسْقَيْنَاكُمُوهُ وَمَا أَنتُمْ لَهُ بِخَازِنِينَ﴾
ترجمہ: “اور ہم نے ہواؤں کو بارآور کرنے والا بنا کر بھیجا، پھر آسمان سے پانی برسایا اور وہ تمہیں پلایا، اور تم اس کے خزانے جمع رکھنے والے نہیں ہو۔”
حوالہ: سورۃ الحجر، آیت نمبر 22
اس آیتِ مبارکہ کا مرکزی اور سب سے پرحکمت لفظ ﴿لَوَاقِحَ﴾ ہے۔ یہ عربی زبان کے مادۂ “ل ق ح” سے نکلا ہے جس کی اصل تخم ریزی، زرخیزی، بارآوری، اور حمل ٹھہرنے کے مفاہیم سے جڑی ہے۔ جدید نباتات (Botany) اور جدید موسمیات (Meteorology) کے مشترکہ مشاہدات نے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح کر دی ہے کہ کلامِ الٰہی کا یہ ایک لفظ پودوں کی حیات اور بارش برسانے والے بادلوں کی تشکیل کے سب سے نازک سائنسی میکانزم کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے۔
نباتاتی دنیا میں ہوا کا بارآور کردار — اینیموفلی کا نظام
نباتاتی سائنس بتاتی ہے کہ پودوں میں پھل، اناج اور اگلی نسل کے بیج بننے کے لیے نر حصے سے نکلنے والا زردانہ یعنی پولن گرین (Pollen Grain) مادہ حصے یعنی کارپل تک پہنچنا لازمی ہوتا ہے۔ اگرچہ پھولدار پودوں میں یہ کام تتلیاں، شہد کی مکھیاں اور پرندے انجام دیتے ہیں، لیکن پوری دنیا میں اگنے والے اناج اور گھاس کے اربوں ایکڑ پر پھیلے ہوئے رقبے کا دارومدار صرف اور صرف ہوا پر ہوتا ہے۔
نباتات میں ہوا کے ذریعے ہونے والی اس زرخیزی کو سائنسی زبان میں اینیموفلی (Anemophily) کہا جاتا ہے۔ گندم، مکئی، چاول، جو، جئی، اور چیڑ (Pine) سمیت لاتعداد درختوں میں بیج بنانے کا یہی واحد ذریعہ ہے۔
ان پودوں کا نظام اس انداز سے تخلیق ہوا ہے کہ وہ لاکھوں کی تعداد میں انتہائی ہلکے اور خشک زرگل پیدا کرتے ہیں۔ جب ہوا چلتی ہے تو وہ ان خردبینی ذرات کو جھولیاں بھر کر اٹھاتی ہے اور میلوں دور کھڑے مادہ پھولوں کے چپکنے والے حصوں پر لا گراتی ہے۔ کسی گندم کے کھیت پر لہراتی ہوئی ہوا صرف بالیوں کو جھولا نہیں جھلا رہی ہوتی، بلکہ انسانیت کی خوراک کے اربوں دانے پکانے کے لیے زرخیزی کا بیج بو رہی ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے ہوا کا نباتات کے لیے “لَوَاقِحَ” ہونا ایک قطعی اور مشاہداتی حیاتیاتی سچائی ہے۔
بادلوں کی بارآوری — کلاؤڈ کنڈینسیشن نیوکلیائی کی فزکس
اس آیتِ کریمہ کا سب سے بڑا اعجاز نباتات سے آگے بڑھ کر بادلوں کے وجود سے جڑتا ہے۔ آیت میں “لواقح” کا ذکر کرنے کے فوراً بعد فرمایا گیا: ﴿فَأَنزَلْنَا مِنَ السَّمَاءِ مَاءً﴾ یعنی “پھر ہم نے آسمان سے پانی برسایا”۔ یہ فصاحت اس بات کی طرف لطیف اشارہ ہے کہ ہوا کا تعلق بارش برسانے والے بادل کے حاملہ ہونے کے ساتھ بھی براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
جدید ایٹموسفیرک فزکس یہ واضح کرتی ہے کہ اگر آسمان میں خالص پانی کے بخارات موجود بھی ہوں، تب بھی وہ خودبخود بارش کا قطرہ بن کر نہیں گر سکتے۔ بخارات کو آپس میں جوڑنے اور قطرہ بننے کے لیے ایک ٹھوس بیج کی ضرورت ہوتی ہے جسے سائنسی اصطلاح میں کلاؤڈ کنڈینسیشن نیوکلیائی یعنی بادل سازی کے مرکزی ذرات (CCN) کہا جاتا ہے۔
امریکی ادارے نووا (NOAA) کے مطابق یہ باریک ذرات فضا میں ازخود پیدا نہیں ہوتے، بلکہ ہوا سمندروں کی لہروں کے ٹوٹنے سے نکلنے والے باریک سمندری نمک، صحراؤں کی مٹی، معدنی گرد اور نباتاتی ذرات کو زمین کی سطح سے ہزاروں فٹ بلندی پر اٹھاتی ہے۔ ہوا جب ان ذرات کو پانی کے بخارات سے بھرپور ٹھنڈی فضا میں لے جاتی ہے، تو یہ ذرات بیج کا کام کرتے ہیں اور پانی کا بخار ان پر جم کر کلاؤڈ ڈراپلیٹ بنتا چلا جاتا ہے۔ یوں ہوا حقیقت میں آسمان پر بے جان اور منتشر بخارات کو بارآور کر کے بادل اور بارش کا وجود بخشتی ہے۔
سمندری جھاگ سے آسمانی بارش تک کا مربوط سلسلہ
سمندروں کی سطح پر ابلتی لہریں جب ہوا کے دوش پر چلتی ہیں تو نمکین جھاگ کا اخراج ہوتا ہے۔ ہوا کے طاقتور ستون ان نمکیاتی ذرات کو آسمان کے راستے پر چڑھا دیتے ہیں۔ وہاں یہ ذرات نمی کو چوس کر بادل کے قطروں کو اتنا وزنی بنا دیتے ہیں کہ وہ کششِ ثقل کے زیرِ اثر بارش کی صورت میں زمین پر گر پڑتے ہیں۔
قدرت کا یہ مربوط تانا بانا دیکھیے:
سمندر کی لہریں → ہوا کا انہیں اٹھانا → نمک کے ذرات کا فضا میں بکھرنا → بخارات کا ان پر جمع ہونا → بادلوں کا بارآور ہو کر بھر جانا → اور پھر اسی پانی سے پیاسی زمین کا سیراب ہونا۔
قرآن کی آیت نے اس پورے ارضیاتی اور موسمیاتی تسلسل کو چند الہامی الفاظ میں یکجا کر دیا ہے۔
کلاسیکی تفاسیر کا دیانت دارانہ مطالعہ
یہاں سائنسی مطالعے کے ساتھ ساتھ کلاسیکی تفاسیر کی تاریخی عظمت کا اعتراف بھی ازحد ضروری ہے۔ یہ کوئی ایسا جدید مفہوم نہیں ہے جو اکیسویں صدی میں زبردستی گھڑا گیا ہو، بلکہ اسلاف نے صدیوں پہلے اس کی نشاندہی فرما دی تھی:
امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری نے اپنی تفسیر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود اور ابن عباس سے روایت نقل فرمائی ہے کہ ہوائیں بادلوں کو بھی بارآور کرتی ہیں اور درختوں کی زرخیزی کا سبب بھی بنتی ہیں۔
عماد الدین ابن کثیر نے سورۃ الحجر کی اس آیت کے تحت واضح لکھا کہ ہوائیں بادلوں کو سیراب کرتی ہیں تاکہ وہ پانی برسائیں، اور وہ درختوں پر چل کر ان کے شگوفوں کو کھولتی اور بارآور کرتی ہیں تاکہ وہ پھل پیدا کریں۔
امام ابو عبد اللہ القرطبی نے لغت کے مفہوم کو واضح کرتے ہوئے دونوں تفاسیر کو معتبر اور قوی قرار دیا۔
قدیم مفسرین کے پاس الیکٹران مائیکروسکوپ تھی نہ سیٹلائٹ ریڈار، مگر وہ عربی لغت کی بلاغت اور قرآنی سیاق و سباق کی وسعت کو اتنی گہرائی سے سمجھتے تھے کہ انہوں نے ہوا کے نباتاتی اور موسمیاتی دونوں کرداروں کا کھلے دل سے اعتراف کیا۔ جدید سائنس نے ان مفسرین کے فہم کو رد نہیں کیا، بلکہ اس نے انہی کے بیان کردہ اصولوں کی خوردبینی تصاویر اور پیمائشیں انسان کے سامنے رکھ دی ہیں۔
حاصلِ کلام
سورۃ الحجر کی آیت 22 میں لفظ ﴿لَوَاقِحَ﴾ کی آمد انسانی زبان اور وحی کی بلاغت کا ایک شاہکار ہے۔ ہوا صرف ایک بے جان گیس کا نام نہیں ہے بلکہ وہ اس سیارے کی بقا کے لیے ایک ایسی دایہ ہے جو پودوں کی نسل کو پھل اور اناج کا بیج فراہم کرتی ہے، اور آسمان کے سناٹے میں سمندری نمک اور خاک کے ذرات لے جا کر بادلوں کے پیٹ میں بارش کے قطروں کی بنیاد رکھتی ہے۔
قرآنِ پاک لیبارٹری کی کوئی الجھی ہوئی مساوات نہیں دیتا، لیکن اس کا ایک ایک لفظ حقیقت کی ایسی روشن مشعل ہوتا ہے جس کے پیچھے جھانکنے پر جدید سائنس کے سر بستہ راز کھلتے چلے جاتے ہیں۔ یہ ہوا، یہ بارش اور یہ لہراتے ہوئے کھیت دراصل اس قادرِ مطلق کی کمالِ ربوبیت کی گواہی دیتے ہیں جس نے زمین کے اس کارخانے میں کسی ایک ذرے کو بھی بے کار اور بے مقصد پیدا نہیں فرمایا۔
#قرآن_اور_سائنس #سورۃ_الحجر #ہوائیں #بارش #نباتات #ایٹموسفیرک_فزکس #تدبر_قرآن #طارق_اقبال_سوہدروی
حوالہ: القرآن الكريم، سورۃ الحجر، آیت نمبر 22
حوالہ: جامع البيان فی تاويل القرآن، امام ابو جعفر محمد بن جریر الطبری، سورۃ الحجر
حوالہ: تفسير القرآن العظيم، عماد الدين اسماعيل بن كثير، سورۃ الحجر
حوالہ: الجامع لاحكام القرآن، امام ابو عبد اللہ محمد بن احمد القرطبی، سورۃ الحجر
حوالہ: سائنسی رپورٹ، امریکی سمندری و ماحولیاتی ادارہ نووا (NOAA) — بادل بننے کے بنیادی سائنسی عوامل اور کلاؤڈ کنڈینسیشن نیوکلیائی
حوالہ: تحقیقی مقالہ، نووا ایٹموسفیرک ریسرچ — سمندری نمک کے ذرات اور بارش کے قطروں کا تعلق
حوالہ: نباتاتی حوالہ جاتی متن، اینیموفلی اور ہوائی زردانے کی ساخت، جرنل آف پلانٹ سائنسز
![]()

