Daily Roshni News

عالمِ پوشیدہ: انسانِ کامل کا نقشہ

عالمِ پوشیدہ: انسانِ کامل کا نقشہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )عالمِ مثال، کشف و معانی اور منازلِ فنا و بقا

برزخِ باطن، صورِ معنویہ، اور خواب و بیداری کا پردہ

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )روایت ہے کہ ایک ساحر نے ایک بادشاہ کے سامنے شیشے کا ایک نہایت شفاف حباب رکھا۔ اس کے اندر ایک پورا محل تھا، سبزہ زار تھا اور ایک ندی خاموشی سے بہہ رہی تھی۔ بادشاہ دیر تک اسے دیکھتا رہا، پھر حیرت سے پوچھا۔

یہ واقعی کوئی دنیا ہے، یا محض نظر کا دھوکا؟

ساحر نے مسکرا کر جواب دیا۔

حضور یہ نہ تو ایسی مادی دنیا ہے جسے ہاتھ سے چھوا جا سکے، اور نہ ہی محض ایک خیالی بلبلہ ہے جو اگلے ہی لمحے معدوم ہو جائے۔ یہ ایک درمیانی جہان ہے؛ وہ مقام جہاں خیال اور معنی صورت کا لباس پہن لیتے ہیں، اور جہاں مادہ اپنی کثافت چھوڑ کر لطافت اختیار کر لیتا ہے۔

یہ حکایت اگرچہ ایک تمثیل ہے، مگر باطن کے ایک نہایت نازک مسئلے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

اے طالبِ حق

لطائفِ ستہ کے تزکیے، ذکر کی کثرت اور سلطانُ الذکر کے انوار سے جب سالک کا باطن آہستہ آہستہ روشن ہونے لگتا ہے، تو اس کی نگاہ صرف اس ظاہری عالمِ شہادت تک محدود نہیں رہتی۔ اسے اپنے اندر ایک ایسی دنیا کے آثار محسوس ہونے لگتے ہیں جو نہ مکمل طور پر مادی ہے اور نہ محض مجرد روحانی۔

اہلِ تصوف اور بعض حکماء نے اس درمیانی مرتبے کو عالمِ مثال سے تعبیر کیا ہے۔

یہ وہ عالم ہے جہاں معانی، اشکال اختیار کرتے ہیں؛ جہاں مجرد حقائق کو مثالی صورتیں نصیب ہوتی ہیں؛ اور جہاں خواب، رؤیا، تمثیلات اور بعض باطنی مشاہدات اپنی ایک خاص زبان میں ظاہر ہوتے ہیں۔

حقیقتِ عالمِ مثال

برزخِ باطن اور لطیف وجود

کائنات کی باطنی ترتیب کو سمجھنے کے لیے عالمِ مثال کو ایک برزخ کی مانند تصور کیا جا سکتا ہے؛ ایک ایسا درمیانی مقام جو عالمِ اجسام اور عالمِ ارواح کے درمیان رابطے کا کام کرتا ہے۔

عالمِ ارواح کے معانی اپنی اصل میں مادی صورت، وزن اور کثافت کے محتاج نہیں۔ لیکن جب یہ معانی مثالی مرتبے میں ظاہر ہوتے ہیں تو ایک لطیف صورت اختیار کر لیتے ہیں؛ ایسی صورت جس میں رنگ، شکل اور مقدار کا ادراک ہو سکتا ہے، مگر وہ عالمِ مادہ کی طرح بھاری اور کثیف نہیں ہوتی۔

یوں سمجھ لیجیے کہ عالمِ مثال ایک ایسا آئینہ ہے جس میں معنی، صورت کے پردے میں جلوہ گر ہوتا ہے۔

اسی نسبت سے اہلِ معرفت کے ہاں یہ بات ملتی ہے کہ بعض روحانی حقائق انسان کے ادراک میں براہِ راست نہیں آتے، بلکہ علامت، تمثیل یا مثالی صورت کے ذریعے ظاہر ہوتے ہیں۔

مثلاً کوئی معنی نور کی صورت میں محسوس ہو سکتا ہے، کوئی باطنی کیفیت خوشبو، پانی، باغ یا پرندے کی تمثیل اختیار کر سکتی ہے، اور کوئی روحانی تنبیہ تاریکی، بوجھ، دھوئیں یا بند دروازے کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔

لیکن یہاں ایک نہایت اہم بات یاد رکھنا ضروری ہے۔

ہر خواب، ہر خیال اور ہر باطنی صورت کو لازماً غیبی حقیقت سمجھ لینا درست نہیں۔

خواب اور کشف کی دنیا نہایت لطیف ہے، اور اس میں انسان کے اپنے خیالات، یادداشتیں، خواہشات، خوف اور نفسانی کیفیات بھی صورت اختیار کر سکتی ہیں۔

اسی لیے اہلِ سلوک کے نزدیک صورت سے زیادہ اہم اس صورت کا میزانِ شریعت، اخلاق اور باطن کی پاکیزگی کے ساتھ تعلق ہے۔

عالمِ مثالِ متصل اور منفصل

خواب، خیال اور باطنی ادراک

اہلِ تصوف کی بعض اصطلاحی تعبیرات میں عالمِ مثال کو متصل اور منفصل کے اعتبار سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔

عالمِ مثالِ متصل سے مراد وہ دائرہ ہے جو انسان کے ادراک، تخیل اور باطنی قوتوں سے تعلق رکھتا ہے۔ انسان کے خیالات، یادیں، تصورات اور بعض خواب اسی داخلی دائرے میں صورت اختیار کر سکتے ہیں۔

یہاں سالک کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ

جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں، کیا وہ کسی حقیقت کا اشارہ ہے، یا میرے اپنے باطن کی بازگشت؟

کیونکہ دل ایک آئینے کی مانند ہے۔ اگر اس میں دن بھر کے خیالات، خواہشات، خوف اور اندیشے جمع ہوں تو رات کا خواب بھی انہی اجزا سے ایک نئی تصویر بنا سکتا ہے۔

اسی لیے ہر خواب کو رؤیائے صادقہ قرار دینا مناسب نہیں۔

دوسری طرف عالمِ مثالِ منفصل کی اصطلاح اس تصور کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مثالی حقائق کا ایک ایسا باطنی مرتبہ بھی ہے جو محض فرد کے ذاتی تخیل پر منحصر نہیں۔

یہاں پہنچ کر سالک کے لیے سب سے اہم چیز ادراک نہیں، تمیز بن جاتی ہے۔

وہ صرف یہ نہیں پوچھتا کہ

میں نے کیا دیکھا؟

بلکہ یہ بھی پوچھتا ہے۔

میں نے جو دیکھا، اس کی حقیقت کیا ہے؟

اور یہی سوال اسے باطنی فریب سے محفوظ رکھتا ہے۔

بیدارِ چشم

جب معانی، صورتوں میں بولنے لگیں

سالک جب ذکر، مجاہدہ، مراقبہ اور تزکیۂ نفس کے ذریعے اپنے باطن کو سنوارتا ہے تو کبھی کبھی اس کی داخلی دنیا میں ایسی کیفیات پیدا ہوتی ہیں جنہیں الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں ہوتا۔

کبھی کوئی خواب دل پر غیر معمولی اثر چھوڑ جاتا ہے۔ذ

کبھی کوئی علامت بار بار سامنے آتی ہے۔

کبھی کسی آیت کا معنی دل میں اس شدت سے اترتا ہے کہ انسان کی پوری کیفیت بدل جاتی ہے۔

اور کبھی کوئی روحانی حقیقت ایک تمثیل کی صورت میں سمجھ میں آتی ہے۔

یہ سب باطنی ادراک کے امکانات ہیں، مگر ان میں سے ہر ایک کو قطعی کشف یا غیبی خبر قرار دینا ضروری نہیں۔

رؤیائے صادقہ اپنی جگہ ایک معتبر اسلامی تصور ہے، مگر خواب کی تعبیر میں احتیاط ضروری ہے۔ خواب کبھی بشارت ہوتے ہیں، کبھی تنبیہ، کبھی انسان کے اپنے ذہنی و نفسیاتی مشاغل کا عکس، اور کبھی ایسے مبہم مناظر جن کی کوئی خاص تعبیر ضروری نہیں۔

اسی لیے سالک کو خواب دیکھ کر دعویٰ نہیں کرنا چاہیے؛ بلکہ شکر، احتیاط اور خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔

صورِ معنویہ

جب عبادت کا باطن محسوس ہونے لگے

باطنی سفر میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنے اعمال کو محض ظاہری حرکات کے طور پر نہیں دیکھتا بلکہ ان کے معنی کو دل کی سطح پر محسوس کرنے لگتا ہے۔

تلاوت اسے نور کی طرف لے جاتی ہے۔

ذکر دل کے اندر ایک سکون پیدا کرتا ہے۔

درود شریف محبتِ رسول ﷺ کو تازہ کرتا ہے۔

استغفار دل پر اپنے بوجھ کا احساس دلاتا ہے۔

اور سجدہ انسان کو اس کی اصل حقیقت یعنی عبدیت یاد دلاتا ہے۔

یہاں ضروری نہیں کہ سالک واقعی کوئی رنگ، روشنی یا صورت اپنی آنکھ سے دیکھے۔

اصل کشف یہ ہے کہ معنی دل پر کھل جائے۔

کیونکہ کبھی سب سے بڑا انکشاف کسی منظر کا دیکھنا نہیں ہوتا، بلکہ ایک حقیقت کا دل میں اتر جانا ہوتا ہے۔

عالمِ مثال کا بڑا امتحان

صورتوں کی کشش اور فریب

اے سالکِ راہِ حق

عالمِ مثال کی دنیا جتنی دلکش ہے، اتنی ہی محتاط رہنے کی محتاج بھی ہے۔

باطنی سفر میں انسان کو کبھی نور دکھائی دے سکتا ہے، کبھی خوبصورت مناظر، کبھی عجیب آوازیں، کبھی علامتیں، کبھی ایسے خواب جنہیں وہ اپنی روحانی ترقی کی سند سمجھ بیٹھتا ہے۔

یہیں نفس ایک نیا لباس پہن لیتا ہے۔

پہلے وہ دنیا پر فخر کرتا تھا؛ اب وہ اپنے کشف پر فخر کرنے لگتا ہے۔

پہلے وہ مال کو اپنی بزرگی سمجھتا تھا؛ اب وہ خوابوں اور مشاہدات کو اپنی بزرگی سمجھنے لگتا ہے۔

پہلے اسے لوگوں سے تعریف چاہیے تھی؛ اب اسے اپنے باطنی احوال کی تعریف چاہیے۔

اور یہی وہ مقام ہے جہاں سالک کو رک کر اپنے دل سے پوچھنا چاہیے:

مجھے اللہ چاہیے یا اللہ کی عطا کردہ کیفیات؟

اگر اسے نور ملے تو شکر کرے۔

اگر اسے کوئی خوبصورت خواب آئے تو اللہ کا شکر ادا کرے۔

اگر کوئی باطنی کیفیت نصیب ہو تو اسے نعمت سمجھے۔

لیکن کسی کیفیت کو اپنی منزل نہ سمجھے۔

کیونکہ منزل صورت نہیں، رضائے الٰہی ہے۔

منزل کشف نہیں، عبودیت ہے۔

منزل کرامت نہیں، اخلاص ہے۔

اور منزل یہ نہیں کہ انسان کچھ دیکھنے لگے؛ بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے رب کے سامنے اپنی حقیقت پہچان لے۔

صورت سے حقیقت تک

عارف کا سفر صورتوں سے شروع ہو سکتا ہے، مگر صورتوں پر ختم نہیں ہوتا۔

وہ جانتا ہے کہ پھول، پھول ہی نہیں؛ ایک نشانی بھی ہو سکتا ہے۔

روشنی، صرف روشنی نہیں؛ ایک تمثیل بھی ہو سکتی ہے۔

خواب، صرف خواب نہیں؛ کبھی تنبیہ یا بشارت بھی ہو سکتا ہے۔

مگر وہ یہ بھی جانتا ہے کہ ہر پھول پیغام نہیں، ہر روشنی کشف نہیں، ہر خواب رؤیائے صادقہ نہیں، اور ہر باطنی احساس غیبی خبر نہیں۔

یہی فرق ایک طالبِ حق کو باطنی فریب سے محفوظ رکھتا ہے۔

اس کا دل کہتا ہے۔

اے اللہ اگر تو مجھے کوئی نشانی دکھائے تو مجھے نشانی میں نہ روک؛ مجھے صاحبِ نشانی تک پہنچا۔

اور یہی عالمِ مثال کا اصل ادب ہے۔

صورت کو دیکھو، مگر صورت کے اسیر نہ بنو۔

اشارہ سمجھو، مگر دعویٰ نہ کرو۔

کیفیت محسوس کرو، مگر منزل نہ سمجھو۔

اور اگر کوئی نور نصیب ہو تو نور کے پیچھے چلتے ہوئے اس رب کو نہ بھولو جس نے نور پیدا کیا۔

اے صورتوں کو وجود بخشنے والے،

اے معانی کے خالق

اے دلوں کے راز جاننے والے پروردگار

ہمیں ظاہری صورتوں کے فریب سے بھی محفوظ فرما اور باطنی صورتوں کے غرور سے بھی۔

اگر ہمیں خواب عطا فرمائے تو اس میں خیر دکھا۔

اگر کوئی رؤیا نصیب ہو تو اسے ہمارے لیے ہدایت اور اصلاح کا ذریعہ بنا۔

اگر ہمارے دل پر کوئی معنی کھولے تو ہمیں اس معنی کے ساتھ عاجزی عطا فرما۔

ہمیں ایسا علم نہ دے جو ہمیں خود پسند بنا دے،

ایسی کیفیت نہ دے جو ہمیں تیری یاد سے غافل کر دے،

اور ایسا مشاہدہ نہ دے جس کے سبب ہم مخلوق پر اپنی بڑائی سمجھنے لگیں۔

اے ربِ کریم

ہمیں صورت سے معنی تک،

معنی سے حقیقت تک،

اور حقیقت کے ادراک سے اخلاصِ عبدیت تک پہنچا۔

ہماری باطنی آنکھ کو بصیرت عطا فرما،

ہماری ظاہری آنکھ کو حیا عطا فرما،

ہماری زبان کو ذکر عطا فرما،

اور ہمارے دل کو اپنی محبت عطا فرما۔

اے اللہ

ہمیں اپنی بنائی ہوئی نشانیوں میں ایسا نہ روک کہ ہم صاحبِ نشانی کو بھول جائیں۔

ہمیں ہر پردے کے پیچھے تیری قدرت دیکھنے کی توفیق دے،

ہر نعمت میں تیرا شکر،

ہر آزمائش میں صبر،

ہر کیفیت میں ادب،

اور ہر مقام پر عبدیت عطا فرما۔

آمین یا رب العالمین۔

#Khaak_e_rawan

Loading