Daily Roshni News

اہل بیت سے محبت کرتے رہیں

اہل بیت سے محبت کرتے رہیں

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شکست کی خبر سے دمشق اور گردو نواح کے علاقوں میں کہرام مچ گیا۔ لشکر کے باقی ماندہ لوگ دمشق پہنچے تو وہاں سخت بد حواسی پھیل گئی۔ ڈر تھا کہ تاتاری پہلے کی طرح قت-ل عام کریں گے۔ البتہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ غازان مسلمان ہے اس لیے سب کو جان و مال کی امان دے گا۔

کچھ خوش فہمی میں مبتلا لوگ یہ بھی سمجھ رہے تھے کہ غازان ہمیں مالا مال کر دے گا۔ مگر اکثریت خوف زدہ تھی۔ شہری انتظامیہ میں سے صرف قلع دار اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ قلعے میں مقیم رہا۔ باقی حکام، قضاة ، افسران اور سپاہیوں کی اکثریت شہر چھوڑ گئی ۔ علماء وفقہاء اور عوام وخواص میں سے جن کا بس چلا وہ نقل مکانی کر گئے ۔ پیچھے اوباشوں کی بن آئی اور لوٹ مار عام ہوگئی۔ قیدی جیل توڑ کر باہر نکل آئے اور باغات کے دروازے اور کھڑکیاں اکھاڑ کر لے گئے ۔

امام ابن تیمیہ اللہ کی جرأت ۔ غازان سے گفتگو

سب سے بڑا خطرہ یہ تھا کہ تا تاری کسی بھی وقت دمشق میں داخل ہوا چاہتے تھے اور ان کی دہشت سے ہر شخص لرزہ بر اندام تھا۔ ان حالات میں دمشق کی ایک مایہ ناز علمی شخصیت امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اصلاح احوال کا بیڑا اٹھایا ۔ وہ عمائد شہر کے ایک وفد کے ساتھ غازان سے ملنے گئے تا کہ اس سے اہلِ دمشق کے لیے جان کی امان حاصل کریں۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ جب غازان سے ملنے گئے تو اسے عدل وانصاف کے بارے میں آیات اور احادیث کھل کر سنائیں۔ انہوں نے غازان سے کہا:

”تمہارا دعویٰ ہے کہ تم مسلمان ہو، مجھے معلوم ہوا ہے کہ تمہارے ساتھ امام اور مؤذن بھی ہیں مگر اس کے باوجود تم نے ہم مسلمانوں پر چڑھائی کی؟“

غازان ان کی باتیں غور سے سنتا رہا۔ اس نے لوگوں سے پوچھا کہ یہ عالم کون ہیں؟ میں نے اس سے زیادہ دلیر اور مضبوط دل گردے والی شخصیت آج تک نہیں دیکھی۔ اس پر لوگوں نے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے علمی کمالات کا ذکر کیا۔ اس ملاقات میں ضیافت بھی ہوئی ۔ وفد کے سب لوگ شریک ہوئے مگر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کھانے کو ہاتھ نہ لگایا۔ جب وجہ پوچھی گئی تو فرمایا:

”یہ کھانا جائز نہیں۔ یہ تو غریب مسلمانوں کی لوٹی ہوئی بھیڑ بکریوں اور ان کی لکڑی کے ایندھن سے پکایا گیا ہے ۔“

غازان نے دعا کی درخواست کی تو امام صاحب نے فرمایا:

”یا اللہ! اگر اس جنگ سے غازان کا مقصد تیرے دین کی سر بلندی اور تیری راہ میں جہا-د ہے تو اس کی مدد فرما اور اگر دنیا کی سلطنت اور حرص و ہوس مقصد ہے تو پھر تو ہی اس سے نمٹ لے ۔“

غازان ان الفاظ پر آمین آمین کہتا رہا جبکہ وفد کے دیگر علماء اپنے کپڑے سمیٹ رہے تھے کہ ابھی حکم ہوگا اور ابھی شیخ کا سر قلم کر دیا جائے گا۔

غازان نے امام صاحب کی سفارش پر بہت سے قیدی آزاد کر دیے اور انہیں اعزاز و اکرام ساتھ یہ یقین دلا کر رخصت کیا کہ اہل شام کو امن دیا جائے گا۔ اس مجلس سے نکل کر ان کے بعض ساتھی ان پر برس پڑے اور بولے :” آپ نے تو ہماری ہلاکت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔ اب ہم آپ کے ساتھ نہیں جائیں گے۔“

وہ بولے : ”میں خود بھی تمہارے ساتھ نہیں جانا چاہتا ۔“

وفد کے ارکان دمشق روانہ ہوئے تو راستے میں لٹیروں سے پالا پڑا جنہوں نے ان کا لباس تک چھین لیا جبکہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کچھ دیر بعد واپس ہوئے تو ان کی حق گوئی کی شہرت ہر طرف پھیل چکی تھی اور راستے میں لوگ برکت کے حصول کے لیے ان کے گرد جمع ہورہے تھے۔ وہ اس شان سے دمشق پہنچے کہ تین سوافراد ہمرکاب تھے ۔

غازان نے سیف الدین قبچق کو دمشق میں اپنا نائب مقرر کیا تھا۔ اس نے دمشق آکر غازان کی طرف سے لوگوں کو جان کی امان کا مژدہ سنایا ۔ تاہم یہ وعدہ ایفا نہ ہوا۔ اگرچہ سابقہ دور جیسا ق-تل عام تو نہ ہوا مگر ہزاروں افراد قید اور ہزاروں ق-تل کیے گئے۔ عورتوں کی پردہ دری کی گئی ، شرفاء کی لڑکیاں باندیاں بنائی گئیں۔ کتب خانوں اور وقف کی عمارتوں تک کو لوٹ لیا گیا۔ تاتاریوں نے جامع مسجد میں گھس کر شراب پی اور عورتوں سے بدکاری کی۔ حکومت کے مویشی، اناج اور اسلحے کے گودام غصب کر لیے گئے۔ کم از کم ۲۰ ہزار جانور دمشق سے سے ہانک کر اپنی خیمہ گاہ میں پہنچائے گئے۔ سرکاری خزانے سے جو رقم لوٹی گئی اس کی مالیت کم از کم ۳۶ لاکھ درہم ( تقریبا 9 ارب روپے ) تھی۔ جاں بخشی کے بدلے ہر شہری پر ٹیکس لگا دیا گیا چاہے وہ امیر ہو یا غریب۔ شہر کے ہر بازار سے لاکھوں دینار جبراً وصول کیے گئے اور نہ دینے والوں کو سخت زدو کوب کیا گیا۔

شہر کے گردو نواح میں بھی تاتاریوں کی لوٹ مار جاری تھی۔ بڑے بڑے علماء کی گردنوں میں رسیاں ڈال کر انہیں گھسیٹا گیا۔ میدانِ جنگ سمیت دمشق اور مضافاتی قصبات میں ق-تل ہونے والے سپاہیوں اور عام شہریوں کی تعداد کا اندازہ ایک لاکھ تک لگایا جارہا تھا۔ قیدی گیارہ ہزار سے کم نہ تھے۔ ہر طرف تاتاری قابض ہو چکے تھے۔ صرف دمشق کا عظیم الشان قلعہ ان کی دست برد سے محفوظ تھا اور قلعہ دار ”سنقر منصوری ارجواش“ وہاں ڈٹا ہوا تھا۔ اس کی استقامت کے پیچھے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے حوصلہ افزا پیغامات کار فرما تھے۔ انہوں نے قلعہ دار کو کہلوایا تھا کہ جب تک ایک پتھر بھی باقی ہے تم قلعہ حوالے نہ کرنا۔ حملہ آوروں نے منجنیقوں کی تنصیب شروع کی تو قلعے سے جوابی آتش زنی کی گئی اور منجنیق جل گئی۔ یہ سن کر غازان خود قلعہ فتح کرنے دمشق پہنچا۔ اس نے خندق پاٹنے کا حکم دیا مگر گہرائی اتنی زیادہ تھی کہ بھرائی میں کم سے کم ایک مہینہ لگ جاتا۔ آخر غازان کے حکم سے اس کے نائب سیف الدین قبچق نے قلعہ دار سے جا کر ملاقات کی ہتھیار ڈالنے کی صورت میں جاں بخشی کا وعدہ کیا اور بصورت دیگر عبرت ناک انجام کی دھمکی دی۔

قلعہ دار بڑا دلیر تھا۔ اس نے سخت لہجے میں کہا: ”کون ہے جو قلعے کے قریب آنے کی جرات کرے؟ میں اسے تیروں سے چھلنی کر دوں گا۔ جا کر غازان سے کہو کہ وہ قلعے کے پاس آکر اپنا حشر دیکھ لے۔“

غازان نے جلد از جلد نئی منجنیقوں کی تنصیب کا حکم دیا۔ انجینئر ان کی تیاری پر جٹ گئے ۔ قلعہ دار نے جاسوسوں کے ذریعے معلوم کر لیا کہ منجنیق سازی کہاں ہو رہی ہے۔ اس نے رات کو چند چنیدہ سپاہی بھیجے جنہوں نے منجنیق سازوں کو خنجروں سے مار ڈالا اور منجنیقوں کو روغن نفط سے جلا کر تاریکی میں غائب ہو گئے۔ اس طرح قلعہ سر کرنے کی مہم طویل ہوتی چلی گئی ۔ اس دوران لوگ خوفزدہ ہو کر گھروں میں چھپے ہوئے تھے۔ مساجد ویران ہوگئیں ۔ جمعہ کی نماز میں بھی شہر کی سب سے بڑی مسجد جامع اموی میں ایک صف بمشکل پوری ہوتی تھی۔ کسی شخص کو گھر سے نکلنا پڑتا تو وہ بوسیدہ کپڑے پہن کر فقیروں کے بھیس میں نکلتا اور کام ختم ہوتے ہی فوراََ واپس آتا ۔ ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا کہ کہیں کوئی حادثہ نہ پیش آجائے۔

جمادی الاولیٰ کے وسط میں غازان فوج کے بڑے حصے کے ساتھ عراق واپس چلا گیا البتہ اس کی فوج کا ایک حصہ قلعے کو گھیرے رہا اور ایک دستہ بولائی نامی تاتاری سردار کی قیادت میں دمشق کے مضافات میں تباہی مچاتا رہا۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ علماء کا وفد لے کر بولائی سے اس کی خیمہ گاہ میں جا کر ملے اور لوگوں پر رحم کرنے کو کہا۔ ان کی سفارش سے قیدیوں کی ایک بڑی تعداد کو آزاد کر دیا گیا۔

بولائی نے اس ملاقات میں امام ابن تیمیہ رحمہ سے کچھ سوالات بھی کیے ۔ انہوں نے بڑے معتدل اور مدلل جوابات دیے۔ بولائی نے پوچھا: ”تم یزید کے بارے میں کیا عقیدہ رکھتے ہو۔“

امام صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہم نہ اس کو بُرا بھلا کہتے ہیں نہ اس سے محبت کرتے ہیں۔ کیوں کہ وہ کوئی نیک آدمی نہیں تھا کہ ہم اس سے محبت کریں۔ اور نہ ہی ہم کسی متعین مسلمان کو برا بھلا کہتے ہیں ۔“

بولائی نے کہا: ”کیا تم یزید پر لعنت نہیں کرتے؟ کیا وہ ظالم نہ تھا؟ کیا اس نے حضرت حسین ؓ کو ق-تل نہیں کرایا ؟“

امام صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا:

”ہم ظالموں کے بارے میں وہی کہتے ہیں جو قرآن مجید نے کہا ہے: أَلَا لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الظَّالِمِينَ ( آگاہ رہو! ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے ۔ ) مگر ہم کسی کو متعین کر کے اس پر لعنت نہیں کرتے۔ بعض علماء نے یزید پر لعنت بھی کی ہے۔ یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں اجتہاد کی گنجائش ہے لیکن ہمارے نزدیک پہلا قول بہتر ہے۔ ہاں جس نے حضرت حسین ؓ کو (براہ راست) قتل کیا یا اس میں مدد کی یا اس پر راضی ہوا، اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہو، اللہ تعالٰی اس کا کوئی عمل قبول نہ کرے ۔“

بولائی نے پوچھا: ”تم اہل بیت سے محبت کرتے ہو۔“

فرمایا : ”ان کی محبت ہمارے نزد یک فرض و واجب ہے جس پر اجر ملتا ہے ۔“

اس کے بعد امام صاحب رحمہ اللہ نے اس کی دلیل میں حدیث غدیر خم سنائی ۔ پھر فرمایا:

”ہم ہر نماز میں درود پڑھتے ہیں جس میں ہم نبی کریم ﷺ اور آپ کی آل پر درود و سلام پڑھا کرتے ہیں۔“

بولائی کہنے لگا: ”تو پھر اہل بیت سے نفرت کون کرتا ہے؟“

امام صاحب رحمہ اللہ نے فرمایا: ” جو ان سے نفرت کرے اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت۔“

اس کے بعد امام صاحب رحمہ اللہ نے وزیر سے پوچھا: ”یہ تاتاری ہو کر یزید کے بارے میں کیوں پوچھ رہا ہے؟“

وزیر نے کہا: ”تاتاریوں کو بتایا گیا ہے کہ شام والے ناصبی ہیں ۔“

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بلند آواز میں فرمایا:

”یہ جھوٹ ہے، جس نے یہ کہا اس پر اللہ کی لعنت ۔ دمشق میں کوئی ناصبی نہیں ۔ اگر یہاں حضرت علی المرتضیٰ ؓ کی کوئی توہین کرے تو لوگ اس پر چڑھ دوڑیں گے۔ ہاں پہلے زمانے میں یہ بنوامیہ کا مرکز تھا۔ اس وقت بعض اموی حکام حضرت علی المرتضیٰ ؓ سے عداوت رکھتے تھے اور انہیں برا بھلا کہتے تھے مگر اب یہاں ایسے لوگوں میں سے کوئی باقی نہیں۔“

……….

(مجموع الفتاوى لابن تيمية : ۱۲ ۱۳۸۷ ۸۸ ، یہ واقعہ خود امام ابن تیمیہ کی زبانی منقول ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امام ابن تیمیہ کے نزدیک بھی اُموی دور میں شام میں ناصبیت موجود تھی اور خود بعض اموی حکام اس مرض میں مبتلا تھے ۔ پس امویوں سے ناصبیت کی مطلق نفی کرنا درست نہیں۔

عقد الجمان للعيني: سنة ٦٩٩ هـ ؛ البداية والنهاية سنة ٦٩٩ هـ : السلوك لمعرفة دول الملوك : سنة ٢٩٩هـ .)

(لیکن یہاں یہ بات ذہن نشین رہے کہ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ حضرت امیر معاویہ ؓ کے حکم سے حضرت علی المرتضیٰ ؓ پر سب و شتم کروایا جاتا تھا۔ ایسی تاریخی روایات من گھڑت اور بہت کمزور ہیں۔)

……….

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کوشش سے شراب خانوں کی بندش:

اس دوران نئے حاکم سیف الدین قبچق نے شراب خانے کھلوا دیے تھے جو اس کی آمدن کا بڑا ذریعہ بن گئے تھے۔ شراب خانہ یومیہ ایک ہزار درہم ٹیکس ادا کرتا تھا۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ حاکم سے ملے اور اسے سمجھایا کہ یہ بالکل نا جائز کام ہے۔ وہ مان گیا اور امام صاحب اللہ نے اس کی اجازت سے کئی مے خانوں میں جا کر شراب تلف کر دی ۔

رجب کے آغاز تک تاتاری دمشق اور مضافات پر قابض رہے۔ اس دوران الملک الناصر قلاوون نے قاہرہ پہنچ کر بے پناہ مالی وسائل خرچ کر کے ایک نئی جنگ کی تیاری شروع کر دی تھی ۔ دمشق میں اطلاع پہنچی کہ سلطان مصر تازہ افواج لے کر آنے کو ہے۔ یہ سنتے ہی تاتاری نہایت تیزی سے دمشق اور اس کے مضافات کو خالی کرکے دریائے فرات کی طرف کوچ کر گئے ۔ اس وقت دمشق میں کوئی حاکم تھا نہ منتظم ، پولیس تھی نہ فوج ۔ شہر میں اب بھی شراب کی کچھ دکانیں باقی تھیں۔ تاتاریوں کے واپس جاتے ہی دیندار مسلمانوں کو حوصلہ ہوا کہ ان خرابیوں کا سد باب کریں۔ چنانچہ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنے تلامذہ اور ساتھیوں کے ساتھ شہر کا دورہ کیا ، مے خانوں میں جا کر شراب بہادی ، ساغر و مینا جاکر توڑ ڈالے اور اس برائی کے مرتکبین کو سخت سرزنش کی۔ اس کارروائی پر شہر کے شریف لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا۔

تاتاری شہر کی فصیل کو جگہ جگہ سے منہدم کر چکے تھے۔ قلعہ دار سنقر منصوری نے اعلان کرایا کہ شہر کے لوگ مسلح ہو کر باری باری فصیل شہر پر پہرہ دیں۔ اس کام میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ پیش پیش تھے ۔ وہ رات بھر فصیل کے گرد گشت کرتے اور لوگوں کو اللہ کی راہ میں جہا-د اور پہرے کے فضائل سناتے اور ہمت و استقامت کی تلقین کرتے ۔

باغیوں کے خلاف مہمات میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی کوششیں:

شام کے علاقے کوہ جرد اور کسروان کے قبائل جن میں باطنیہ و اسماعیلیہ جیسے شـ ـیعہ فرقوں کے علاوہ نصرانی بھی شامل تھے، مدت دراز سے مقامی حکومتوں کے خلاف درد سر بنے ہوئے تھے، انہوں نے تاتاریوں کا پورا ساتھ دیا تھا اور جب مملوک سپاہی شکست کھا کر ان کے علاقے سے گزر رہے تھے تو ان کوہستانیوں نے انہیں گھیر کر ق-تل کرنے اور لوٹنے میں کسر نہیں چھوڑی تھی۔ تاتاریوں کے دمشق سے نکل جانے اور سرکاری افواج کا نظم وضبط دوبارہ قائم ہونے کے بعد امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے کوہستانی لٹیروں کی تادیب میں بھی حصہ لیا۔ جب ذی قعدہ ۶۹۹ ھ میں سرکاری فوج نے ان علاقوں پر یورش کی تو امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رضا کاروں کا ایک لشکر لے کر ساتھ نکلے۔ کوہستان کے کئی باغی اور لٹیرے سرداروں نے ان کی شخصیت سے متاثر ہو کر ان کے ہاتھ پر توبہ کی اور فوج سے چھینا گیا سامان واپس کر دیا ۔

مسلمانوں کی تقویت قلب کے لیے امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا رسالہ:

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے ان ایام میں ایک مختصر رسالہ تحریر کیا جو حالیہ شکست کے اسباب غم زدہ دلوں کو تسلی اور جہا-د کی بھر پور ترغیب پر مشتمل تھا۔ انہوں نے اس میں لکھا:

”گزشتہ سال مسلمانوں کی شکست کی وجہ کھلے گناہ اور منکرات تھے مثلاً نیتوں کا کھوٹ، غرور و تکبر ظلم ، بے حیائی، کتاب وسنت سے بے توجہی ، اللہ کے فرائض کی پابندی میں کوتاہی، الجزیرہ اور روم میں مسلمانوں پر زیادتی ۔ پس یہ اللہ کی حکمت تھی کہ وہ مسلمانوں کو اس بلاء میں مبتلا کرے تاکہ ان کی صفائی ہو جائے اور وہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جائیں۔ اس میں یہ حکمت بھی تھی کہ دشمنانِ اسلام کی سرکشی، مکاری، بد عہدی اور شریعت سے روگردانی واضح ہو جائے تا کہ مسلمان اللہ کی مدد کے حق دار بنیں اور دشمن انتقام کے۔“

سلطان مصر کے نام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا مکتوب

اگلے مہینوں میں وقفے وقفے سے تاتاریوں کی دوبارہ یورش کی افواہیں پھیلتی رہیں اور دمشق کے لوگ خوف وہراس کی حالت میں رہے۔ جبکہ مصر سے الملک الناصر قلاوون کی افواج آنے میں تاخیر ہوتی رہی۔ علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ ضروری سمجھتے تھے کہ مصر سے ایک بھاری لشکر آکر مستقل طور پر شام کی سرحدوں پر قیام کرے اور یہاں کا دفاع سنبھالے ۔

انہوں نے سلطان مصر کے نام ایک طویل مکتوب لکھا جسے بڑی شہرت ملی ، اس میں انہوں نے فتنہ تاتار کی تباہ کاریوں اور مسلمانوں کی حالیہ شکست کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تسلی کے طور پر لکھا:

”یہ فتنہ جو پھیل چکا ہے، اگر چہ دل فگار ہے مگر ان شاء اللہ اس کی مثال اس دوا کی سی ہے جو مریض کو پلائی جائے ۔ اس کے ذریعے مشرق و مغرب میں سب مسلمانوں کو ان خارجیوں کی حقیقت معلوم ہوگی جو کلمہ پڑھ کر بھی شریعت سے برگشتہ ہیں۔ جو لوگ دل سے اسلامی لشکر سے نالاں تھے وہ پھر اس کے حامی ہو گئے ہیں۔ مسلمان نیند نے بیدار ہو چکے ہیں اور سلطان کی جانب سے جہا-د کی تیاری اور اس کے لیے دولت وقف کر دینے پر خوش ہیں ۔ انہوں نے جہا-د کے لیے اس وقت کو نہایت موزوں قرار دیتے ہوئے لکھا:

اس وقت اللہ کا امت پر انعام ہے کہ مشرق و مغرب کے مسلمان متحد ہیں۔ مشرقی شہروں کے مسلمان اللہ کے لشکروں کے منتظر ہیں۔ موصل، الجزیرہ اور کردستان کے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد جہا-د کے لیے تیار ہے۔“

انہوں نے انکشاف کیا کہ اس وقت غازان اپنی مملکت میں اندرونی اختلافات سے دوچار ہے۔ اس کے بعد لکھا: مسلمانوں کے لیے جائز نہیں کہ وہ دشمنوں کو اپنی زمین میں گھسنے کا انتظار کرتے رہیں۔ حضور ﷺ اور ان کے خلفاء دشمن کی طرف لشکر بھیجا کرتے تھے چاہے دشمن نے ان کی سرزمین کا رخ کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ جناب رسول اللہ ﷺ نے مرض وفات میں بھی فرمایا کہ اسامہ کے لشکر کو روانہ کر دو ۔ اسی طرح حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کیا ۔“

انہوں نے شرعی مسئلہ بتاتے ہوئے کہا:

مسلمانوں پر لازم ہے کہ کم از کم سال میں ایک بار دشمن کی زمین کو روندیں ۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں وہ گنہگار ہوں گے۔ تجربہ شاہد ہے کہ جب تک مسلمان کفـ ـار پر یلغار کرتے رہے، فتح پاتے رہے۔“

اس کے بعد سلطان کو لشکر کشی کے فوائد بیان کرتے ہوئے لکھا:

اس کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ مسلمانوں کے دل مضبوط رہیں گے اور وہ تعمیراتی کاموں اور کاشت کاری میں مشغول ہو جائیں گے ۔ بصورت دیگر جب تک دشمن چلا نہ جائے گا وہ خوفزدہ رہیں گے۔

دوسرا فائدہ یہ ہے کہ (شام کے شمالی شہروں حلب وغیرہ میں) معاشی لحاظ سے بہترین وسائل ہیں جن سے لشکر نفع اٹھائے گا۔

تیسرا فائدہ یہ ہے کہ ان شہروں میں آپ کے مدد گار اور خیر خواہوں کے دل مضبوط رہیں گے اور دشمن پر رعب پڑے گا۔ ورنہ لوگ دشمن کے ساتھ جاملیں گے کیوں کہ لوگ اس کے ساتھ ہوتے ہیں جس کا سکہ چل رہا ہو۔ پس اگر فوج کا ایک حصہ ہمیشہ سرحد پر قیام پذیر رہے تو یہ بہت اچھا ہو گا ۔

چوتھا فائدہ یہ ہوگا کہ اگر افواج الجزیرہ پر تسلط پا کر وہاں مسلمانوں کو ایذا دیے بغیر سرکاری اموال بازیاب کرالیں تو یہ نہایت نفع بخش ہوگا۔ اور اگر وہ وہاں ٹھہر جائیں تو ان علاقوں کے امراء بھی ان سے آملیں گے۔ کیوں کہ روافض اور نصرانیوں کے سوا سب کے دل ویسے بھی مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔

جب حکام کا تذبذب برقرار رہا تو امام ابن تیمیہ رحمہ اللّٰہ سلطان سے ملنے خود مصر روانہ ہوئے ۔ وہ 11 جمادی الاولیٰ 700ھ کو قاہرہ پہنچے ۔ سلطان سے ملاقات میں انہوں نے کہا:

”اگر شام آپ کی سلطنت میں شامل نہ ہوتا، تب بھی اگر شام کے لوگ آپ سے مد مانگتے تو آپ پر ان کی اعانت واجب تھی ۔ اب تو شام آپ کی حکومت کا حصہ ہے۔ اگر آپ کو اس کی حفاظت کی پروا نہیں تو صاف کہہ دیں۔ ہم خود اپنا انتظام کرلیں گے اور ایسا حاکم خود منتخب کریں گے جو خطرے کے وقت ملک کی حفاظت کرے اور امن کی حالت میں اس سے فائدہ اٹھائے۔“

الملک الناصر ان کی باتوں سے بہت متاثر ہوا، اس نے جہا-د کا پختہ عزم کر لیا۔ تاہم فی الحال اس نے بارش اور سردی کی وجہ سے فوری طور پر فوج کشی سے معذرت کی ۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کچھ مدت سلطان کے مہمان رہے۔ جب وہ دمشق واپس پہنچے تو اطلاع ملی کہ شاه تاتار غازان نئی افواج کے ساتھ عراق پہنچ گیا ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے لوگوں کو ہمت دلائی اور خوش خبری دی کہ سلطان مصر جلد افواج لے کر شام آ رہا ہے مگر انتظار کے دن طویل ہوتے گئے۔

اس دوران ۱۸ جمادی الاولیٰ ۷۰۱ ھ کو مصر میں خلیفہ حاکم عباسی کی وفات ہوگئی ۔ وہ محرم ۶۶۱ ھ میں مسند خلافت پر بیٹھا تھا۔ اس طرح اس نے چالیس سال تین ماہ تک اس مسند کو رونق بخشی۔ اس کے بعد اس کے فرزند ابو ربیع سلیمان کو خلافت ملی، وہ مستکفی باللہ کے لقب سے اس مسند پر براجمان ہوا۔

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کی قوم کو متحد اور بیدار رکھنے کی کوششیں

مصری افواج کی آمد میں دیر ہوتی رہی مگر امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے عوام اور فوج کا حوصلہ بلند رکھا ۔ وہ قسم کھا کر کہتے تھے : ”اس بار ہم ضرور فتح پائیں گے کیوں کہ ہم مظلوم ہیں اور مظلوم کی مدد ضرور ہوتی ہے۔“

وہ یہ آیت پڑھتے :

ثُمَّ بُغِيَ عَلَيْهِ لَيَنْصُرَنَّهُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ

(پھر جس کے ساتھ زیادتی کی گئی اللہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بے شک اللہ تعالی بہت معاف کرنے والا ہے اور بہت بخشنے والا ہے ، )

اس سے استدلال کر کے وہ فرماتے : ” اس وعدہ خداوندی کے تحت ہماری فتح یقینی ہے، اس میں کوئی شک نہیں ۔“

اس دوران ایک بحث چھڑ گئی کہ تاتاری کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو چکے ہیں اس لیے کا-فر نہیں اور نہ وہ باغی ہیں کیوں کہ وہ کبھی کسی اسلامی حکومت کے تحت داخل ہی نہیں ہوئے ۔ اس لیے ان پر بغاوت کا اطلاق بھی نہیں ہو سکتا ۔ پس ان سے جنگ شرعًا جائز بھی ہے یا نہیں ؟ اس بحث سے خود علماء کشمکش میں پڑ گئے ۔

اس کے جواب میں امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے بڑے واشگاف الفاظ میں کہا کہ تاتاری خوارج کے حکم میں ہیں جو حضرت علی المرتضیٰ ؓ اور حضرت معاویہ ؓ کے مقابلے میں خود کو حکومت کا زیادہ مستحق سمجھ کر ان سے برسر پیکار رہے۔ تاتاری بھی خوارج کی طرح خود کو دوسرے مسلمانوں کے مقابلے میں حکومت کا زیادہ حقدار سمجھے ہوئے ہیں، وہ مسلمانوں پر گناہوں اور مظالم کا الزام لگاتے ہیں مگر خود اس سے کہیں بڑھ کر جرائم کے مرتکب ہیں ۔ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اس بارے میں پورے وثوق سے کہتے تھے : ” اگر تم مجھے تاتاریوں کی صف میں سر پر قرآن رکھے کھڑا دیکھو تو بھی مجھے ق-تل کر دینا۔“

اس جواب سے سب کو اطمینان ہو گیا ، شک و شبہ دور ہو گیا اور وہ سب جنگ کے لیے تیار ہو گئے۔

شعبان ۷۰۲ھ میں مصری افواج دمشق پہنچیں ۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے خیمہ گاہ میں جا کر سلطان سے ملاقات کی اور اللہ کی قسم کھا کر کہا: ”فتح ہماری ہے ۔“ امراء نے انہیں یاد دلایا کہ ان شاء اللہ کہہ لیں۔

فرمانے لگے : ” ان شاء اللہ یقین کے ساتھ کہتا ہوں نہ کہ تردد کے ساتھ ۔“

سلطان نے ان سے درخواست کی کہ وہ سلطانی پرچم کے ساتھ کھڑے ہوں مگر انہوں نے جواب دیا: ”سنت یہ ہے کہ آدمی جہا-د میں اپنے قبیلے کی صف کے ساتھ رہے۔“

اُدھر غازان نے ایک لاکھ بیس ہزار سپاہیوں کا لشکر جرار مملوکوں کے مقابلے پر بھیج دیا۔ اس نے لشکر کے سپہ سالار قطلو شاہ نویان کو تاکید کی تھی کہ وہ حمص سے آگے نہ جائے اور مملوکوں کی پیش قدمی کا انتظار کرے مگر مملوک دمشق کے قریب خیمہ زن رہے اور دشمن کو آگے بڑھنے پر اکساتے رہے۔ آخر قطلو شاہ سے مزید انتظار نہ ہو سکا اور وہ پیش قدمی کرتا ہوا دمشق کی نواحی وادی مرج الصفر تک آگیا۔

(جاری ہے)

تحریر و تحقیق مولانا محمد اسماعیل ریحان

پیشکش محمد عثمان انصاری

Loading