Daily Roshni News

مشاعراتی تہذیب وتاریخ اور حالیہ رد و قبول

مشاعراتی تہذیب وتاریخ اور حالیہ رد و قبول

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ادبی اجارہ داریاں، سرپرستی اور مشاعرہ مافیا

حقیقت، مبالغہ یا ایک سماجی و ثقافتی بحران؟:ادبی دنیا میں “مافیا”، “اجارہ داری”، “گروہ بندی” اور “لابی” جیسے الفاظ گزشتہ چند دہائیوں میں غیر معمولی کثرت سے استعمال ہونے لگے ہیں۔ لیکن علمی دیانت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی بھی اصطلاح کو جذباتی نعرے کے بجائے اس کے سماجی اور ثقافتی مفہوم میں سمجھا جائے۔ ہر منظم حلقہ مافیا نہیں ہوتا، ہر فکری دبستان اجارہ داری نہیں ہوتا، اور ہر باہمی تعاون کو سازش قرار دینا بھی علمی انصاف کے منافی ہے۔ اسی طرح یہ کہنا بھی حقیقت سے چشم پوشی ہوگی کہ ادبی دنیا ہر قسم کی طاقت، مفاد اور ترجیح سے یکسر پاک ہے۔

ادب، خواہ وہ کتنا ہی بلند اور آفاقی کیوں نہ ہو، آخرکار انسانی معاشرے ہی میں سانس لیتا ہے۔ جہاں معاشرہ ہے وہاں ادارے ہیں، وسائل ہیں، اختیارات ہیں، فیصلے ہیں اور ان فیصلوں پر اثر انداز ہونے والے افراد بھی موجود ہوتے ہیں۔ چنانچہ ادبی دنیا بھی ان سماجی قوانین سے مکمل طور پر مستثنیٰ نہیں رہ سکتی۔

جدید سماجی تنقید ہمیں یہ بتاتی ہے کہ ہر تہذیب میں صرف معاشی سرمایہ ہی نہیں ہوتا بلکہ ثقافتی سرمایہ بھی ہوتا ہے۔ بعض افراد کے پاس شہرت کا سرمایہ ہوتا ہے، بعض کے پاس ادارہ جاتی اثر و رسوخ، بعض کے پاس ذرائعِ ابلاغ تک رسائی، اور بعض کے پاس علمی اعتبار۔ یہ تمام عناصر مل کر ایک ایسا ثقافتی ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں جس میں کچھ آوازیں نسبتاً زیادہ سنی جاتی ہیں اور کچھ کم۔

یہ صورتِ حال اپنی ذات میں غیر فطری نہیں، مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جب اثر و رسوخ، استحقاق پر غالب آ جائے۔

اگر کسی مشاعرے، ادبی کانفرنس، سرکاری تقریب یا قومی نمائندگی میں بارہا ایک ہی محدود حلقہ نظر آئے، اگر انتخاب کے اصول واضح نہ ہوں، اگر نئے اور اہل تخلیق کار برسوں انتظار کے باوجود جگہ نہ پا سکیں، تو سوال اٹھنا فطری ہے۔ سوال اٹھانا بغاوت نہیں بلکہ ادبی صحت کی علامت ہے، بشرطیکہ وہ دلیل، شائستگی اور شواہد کے ساتھ ہو۔

یہاں ایک اور امتیاز نہایت ضروری ہے۔

ہر معروف شاعر کی مسلسل شرکت کو اجارہ داری نہیں کہا جا سکتا۔ بہت سے اہلِ قلم اپنی علمی، فنی اور ادبی خدمات کے باعث واقعی بار بار مدعو کیے جانے کے مستحق ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہر فہرست تقریباً یکساں ہو، اگر نسلوں کی تبدیلی نظر نہ آئے، اگر نئے نام صرف رسمی نمائندگی تک محدود رہ جائیں، تو پھر مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ نظامِ انتخاب کا ہے۔

مشاعروں کے حوالے سے ایک اہم اخلاقی سوال بھی سامنے آتا ہے۔ کیا دعوت صرف شہرت کی بنیاد پر ہونی چاہیے، یا معیار، علاقائی تنوع، نئی آوازوں اور مختلف دبستانوں کی نمائندگی بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے؟ ایک زندہ ادبی روایت ہمیشہ تنوع سے مضبوط ہوتی ہے، یکسانیت سے نہیں۔

اسی تناظر میں معاشی پہلو بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

برصغیر کی ادبی روایت میں مہمان شاعر کی عزت صرف اس کی نشست یا تعارف سے نہیں ہوتی تھی بلکہ اس کے سفر، قیام اور بنیادی سہولتوں کا اہتمام بھی میزبان کی ذمہ داری سمجھا جاتا تھا۔ آج جب بعض تقریبات میں معروف ناموں کے لیے وافر وسائل موجود ہوں، لیکن دور دراز سے آنے والے دوسرے تخلیق کار اپنے اخراجات خود برداشت کرنے پر مجبور ہوں، تو یہ صرف انتظامی فرق نہیں بلکہ ادبی اخلاقیات کا مسئلہ بھی ہے۔

یہ بات بھی پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ شاعر معاشی آسودگی کی ضمانت لے کر پیدا نہیں ہوتا۔ تخلیقی عظمت اور معاشی آسودگی ہمیشہ ہم معنی نہیں رہیں۔ اس لیے اگر کوئی شاعر اپنی عزتِ نفس برقرار رکھتے ہوئے کم از کم سفر اور بنیادی اخراجات کی توقع رکھتا ہے، تو اسے مادہ پرستی قرار دینا بھی انصاف نہیں۔ دوسری طرف، ادب کو صرف معاوضے کی منڈی بنا دینا بھی اس کی روح کے خلاف ہے۔ توازن ہی اصل اصول ہے۔

سرکاری سرپرستی کے باب میں بھی یہی اعتدال مطلوب ہے۔ ریاست اگر ادب کی سرپرستی کرتی ہے تو یہ خوش آئند ہے، کیونکہ زبان اور ادب بھی قومی ثقافت کا حصہ ہیں۔ لیکن اگر سرپرستی شفاف اصولوں کے بجائے شخصی پسند و ناپسند، تعلقات یا وابستگیوں کے تابع ہو جائے تو پھر اعتماد مجروح ہونے لگتا ہے۔ ایسے ماحول میں اصل نقصان کسی ایک شاعر کا نہیں بلکہ پورے ادبی نظام کا ہوتا ہے۔

اسی طرح نجی اداروں اور تجارتی تنظیموں کی سرپرستی نے بھی مشاعرے کی ساخت بدل دی ہے۔ ان اداروں کی اپنی ترجیحات ہوتی ہیں۔ وہ اکثر ایسی تقریبات چاہتے ہیں جو زیادہ سامعین، زیادہ تشہیر اور زیادہ عوامی دلچسپی پیدا کریں۔ یہ خواہش اپنی جگہ قابلِ فہم ہے، مگر اگر اس کے نتیجے میں شعری معیار ثانوی حیثیت اختیار کر جائے تو ادب آہستہ آہستہ تفریحی صنعت کے دباؤ میں آنے لگتا ہے۔

یہاں ایک نکتہ بار بار ذہن میں رکھنا چاہیے کہ تجارتی کامیابی اور ادبی عظمت ہمیشہ ایک ہی چیز نہیں ہوتیں۔ دونوں ایک دوسرے کی مخالف بھی نہیں، لیکن ایک دوسرے کا متبادل بھی نہیں۔

اس تمام گفتگو کا مقصد کسی خاص ادارے، تنظیم یا شخصیت پر فیصلہ صادر کرنا نہیں، بلکہ ایک اصولی حقیقت کی طرف توجہ دلانا ہے کہ ادب کا سب سے بڑا سرمایہ اعتماد ہے۔ جب اہلِ قلم کو یقین ہو کہ معیار، محنت، تخلیقی صداقت اور علمی وقار کی بنیاد پر مواقع مل سکتے ہیں، تو اختلاف بھی صحت مند رہتا ہے۔ لیکن جب یہ اعتماد ختم ہونے لگے تو شکوک، بدگمانیاں اور گروہی تقسیمات بڑھتی چلی جاتی ہیں۔

لہٰذا ادبی اصلاح کا پہلا قدم کسی فرد کی نفی نہیں بلکہ ادارہ جاتی شفافیت ہے۔ واضح اصول، کھلا انتخاب، مختلف نسلوں کی نمائندگی، نئے اہلِ قلم کی شمولیت، فیصلوں کا اخلاقی جواز اور اختلافِ رائے کا احترام—یہ وہ بنیادیں ہیں جن پر ایک مضبوط ادبی معاشرہ استوار ہو سکتا ہے۔

شاید اسی لیے یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ ادب کو افراد سے نہیں، بند نظاموں سے خطرہ ہوتا ہے۔ جہاں دروازے کھلے رہتے ہیں، وہاں روایت بھی زندہ رہتی ہے، اور جہاں دروازے بند ہو جائیں، وہاں رفتہ رفتہ تخلیق بھی سانس لینے لگتی ہے۔

دانش عزیز

(جاری ہے)

Loading