Daily Roshni News

تخت سے تختۂ دار تک کا سفر۔۔۔

تخت سے تختۂ دار تک کا سفر۔۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ستمبر 1977ء میں، جب ذوالفقار علی بھٹو تخت سے اتر چکا، جیل جا چکا اور اس کے گرد قتل، سازش اور انتقام کی فضا بن رہی تھی، امریکی جریدے TIME نے اس پر اپنی رپورٹ کا عنوان رکھا: “An Evil Genius”۔ یہ دو لفظ شاید بھٹو کے پورے سیاسی وجود کو سمیٹتے تھے ذہانت ایسی کہ شکست خوردہ پاکستان کو چند برسوں میں عالمی میز پر واپس لے آیا، اور اقتدار کا جنون ایسا کہ اپنے پرانے ساتھیوں، مخالفوں، صحافیوں اور کبھی کبھی اپنے ہی بنائے ہوئے آئینی اصولوں کو روندتا چلا گیا۔

اطالوی صحافی اوریانا فلاچی نے جب بھٹو کا طویل انٹرویو کیا تو اسے کسی سیدھی لکیر میں کھڑا کرنے سے انکار کردیا۔ اس نے بھٹو کو “آزاد خیال بھی، آمر بھی؛ مخلص بھی، جھوٹا بھی” لکھا۔ فلاچی کے سامنے بیٹھا شخص کبھی غریب کسانوں کی حالت پر رو پڑتا تھا، کبھی اپنی میز پر کیویار اور شراب رکھواتا تھا، کبھی عوام کے سامنے ماؤ طرز کی ٹوپی پہن لیتا تھا اور کبھی گھنٹوں لوگوں کو انتظار کرا کے شاہانہ انداز میں داخل ہوتا تھا۔

تیرہ سال کا دولہا جو نکاح کے بعد کرکٹ کھیلنے کے لیے بھاگ گیا:

بھٹو نے فلاچی کو اپنی پہلی شادی کا عجیب واقعہ سنایا۔ اس کے مطابق وہ تقریباً تیرہ برس کا تھا اور اس کی دلہن اس سے قریب دس برس بڑی تھی۔ کم عمر بھٹو شادی نہیں کرنا چاہتا تھا؛ اسے تسلی دینے کے لیے کرکٹ کے دو بیگ دیے گئے۔ نکاح کی رسم ختم ہوئی تو نیا نویلا دولہا ازدواجی زندگی شروع کرنے کے بجائے کرکٹ کھیلنے نکل گیا۔ یہ واقعہ بعد کے بھٹو کی ایک ابتدائی جھلک معلوم ہوتا ہے: رسم قبول کرلی، مگر اپنی مرضی کے کھیل کی طرف فوراً لوٹ گیا۔

اسی گفتگو میں بھٹو نے ایک اور ہولناک واقعہ خود بیان کیا۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اس نے ایک شخص کو، جس پر ایک کم سن بچی سے زیادتی کا الزام تھا، کوڑے مارے یہاں تک کہ خون نکل آیا۔ اس قصے کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آتی؛ یہ بھٹو کا اپنا بیان تھا۔ لیکن یہ خودساختہ اعتراف اس شخصیت کی نفسیات ضرور دکھاتا ہے جو قانون، عدالت اور سزا کے درمیان خود کو فیصلہ کرنے والا ہاتھ سمجھ سکتی تھی۔

طاقت محبت سے زیادہ شدید تھی

فلاچی نے بھٹو کی کراچی والی لائبریری میں مسولینی اور ہٹلر پر چاندی کی جلدوں میں بندھی کتابیں دیکھیں۔ اس کے سوال پر بھٹو نے کہا: “طاقت محبت سے زیادہ زبردست جذبہ ہے۔” فلاچی نے لکھا کہ لوگ اس سے ملاقات کے لیے گھنٹوں منتظر رہتے، پھر وہ کسی شہزادے کی طرح نمودار ہوتا۔ ایک موقع پر ایک غریب شخص سجا ہوا بکرا لایا تاکہ اسے بھٹو کے احترام میں قربان کرے؛ بھٹو نے منظر دیکھا، جذبات ظاہر کیے، پھر اپنی سیاسی دنیا کی طرف بڑھ گیا۔

یہ طاقت صرف عوام پر اثر ڈالنے کی صلاحیت نہ تھی؛ یہ اپنی شبیہ کو مسلسل تراشنے کا فن بھی تھا۔ عوام کے درمیان وہ آستینیں چڑھا کر بولتا، عالمی اجلاس میں نفیس سوٹ پہنتا، مسلم دنیا کے سامنے اسلامی اتحاد کا علمبردار بنتا اور بائیں بازو کے جلسوں میں سوشلزم کی زبان استعمال کرتا۔ اس کی تقریر میں کبھی انقلاب ہوتا، کبھی اسلام، کبھی تیسری دنیا، کبھی انتقام اور کبھی قومی وقار—سامعین بدلتے تو بھٹو کا آہنگ بھی بدل جاتا۔

اندرا گاندھی کو برا کہا، پھر صحافی سے انٹرویو جھٹلانے کی درخواست کی

فلاچی کے انٹرویو کا ایک حصہ بھارت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کے بارے میں تھا۔ بھٹو نے ان کے لیے تحقیر آمیز الفاظ استعمال کیے اور ان کی ذہانت و سیاسی صلاحیت کا مذاق اڑایا۔ جب گفتگو شائع ہوئی تو بھارتی ردعمل اتنا شدید ہوا کہ مجوزہ پاک بھارت مذاکرات خطرے میں پڑگئے۔ کرسٹوفر ہچنز کے مطابق بھٹو کے سفارتی نمائندے نے ایتھوپیا تک فلاچی کا پیچھا کیا اور اس سے کہا کہ وہ اعلان کردے کہ اندرا گاندھی سے متعلق حصہ اس نے خود گھڑا تھا۔ فلاچی نے انکار کردیا۔

یہ واقعہ بھٹو کی زبان اور سفارت کاری کے درمیان خطرناک فاصلے کو بےنقاب کرتا ہے۔ بند کمرے میں وہ حریف کو حقیر سمجھ کر الفاظ کے تیر چلاتا تھا، مگر جب وہی الفاظ ریاستی مفاد پر بھاری پڑتے تو صحافی سے تاریخ بدلنے کی درخواست کی جاتی تھی۔

ڈھاکا: ووٹ مجیب کے، اقتدار پر نگاہ بھٹو کی

دسمبر 1970ء کے انتخابات میں شیخ مجیب الرحمٰن کی عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان کی 162 عام نشستوں میں سے 160 حاصل کرکے قومی اسمبلی میں قطعی اکثریت حاصل کرلی۔ مغربی پاکستان میں بھٹو کی پیپلز پارٹی سب سے بڑی قوت بنی، مگر پورے پاکستان کی اسمبلی میں اکثریتی جماعت عوامی لیگ تھی۔ برطانوی اخبار دی گارڈین کے تاریخی ریکارڈ نے مجیب کو واضح فاتح قرار دیا؛ بعد کے تجزیے میں اخبار نے لکھا کہ اسے حکومت بنانے کی دعوت ملنی چاہیے تھی۔ الیکشن کمیشن کی سرکاری فہرست بھی مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کی تقریباً مکمل کامیابی دکھاتی ہے۔

بھٹو کے قریبی ساتھی رفیع رضا نے اپنی کتاب میں لکھا کہ بھٹو نے پیپلز پارٹی کے ارکان کو ڈھاکا میں ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روکا۔ اس کی تقریر میں پشاور سے کراچی تک ہڑتال کی دھمکی دی گئی اور ڈھاکا جانے والے مغربی پاکستانی ارکان کے لیے وہ الفاظ استعمال ہوئے جو اخبارات میں “ٹانگیں توڑ دوں گا” بن کر چھپے۔ رفیع رضا نے اسمبلی کا اجلاس ملتوی کیے جانے کو “سنگین غلطی” اور انجام کے آغاز سے تعبیر کیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کی اس وقت کی دستاویز نے انتخابی نقشہ یوں بیان کیا کہ مشرق میں مجیب کی غالب اکثریت اور مغرب میں بھٹو کی فتح نے پاکستان کو دو الگ سیاسی مینڈیٹ دے دیے تھے۔ مگر پارلیمانی حساب میں ایک بات غیرمبہم تھی: مجیب کے پاس اکثریت تھی۔

رفیع رضا کے مطابق بھٹو کے ناقدین نے اس مرحلے پر اس کی سیاست کو “اقتدار کے ہمہ گیر تعاقب” کا نام دیا۔ ان کے نزدیک بھٹو نے اقتدار کی منتقلی کو اس وقت تک قبول نہ کیا جب تک اسے نئے بندوبست میں فیصلہ کن حصہ نہ ملتا۔ مارچ 1971ء کے مذاکرات ٹوٹے، یحییٰ خان نے ڈھاکا چھوڑا اور 25 مارچ کی رات فوجی آپریشن شروع ہوگیا۔ نیویارکر کے تاریخی جائزے نے لکھا کہ مجیب کو یحییٰ اور بھٹو کے درمیان ملی بھگت کا خدشہ تھا، جبکہ فوجی حکومت انتخابی نتیجہ تسلیم کرنے میں ہچکچا رہی تھی۔

وہ جملہ جو قتلِ عام کے بعد بھی سرد تھا

فلاچی نے بھٹو سے پوچھا کہ اگر وہ یحییٰ خان کی جگہ ہوتا تو مشرقی پاکستان کی بغاوت سے کیسے نمٹتا۔ بھٹو کا جواب تھا کہ وہ یہ کام “زیادہ ذہانت، زیادہ سائنسی انداز، کم سفاکی” سے کرتا۔ اس نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ بعض حالات میں خونی کچلاؤ جائز ہوسکتا ہے، اگرچہ اس نے یحییٰ خان کے طریقۂ کار، پیمانے اور حماقت پر الزام رکھا۔

یہ بھٹو کے کسی مخالف کا الزام نہیں بلکہ خود بھٹو کے انٹرویو کا متن تھا۔ وہ فوجی کارروائی کے اخلاقی اصول کو مکمل طور پر رد نہیں کررہا تھا؛ وہ اس کے طریقے کو احمقانہ، غیرسائنسی اور حد سے زیادہ سفاک قرار دے رہا تھا۔

حمود الرحمٰن کمیشن کی رپورٹ نے دوسری طرف فوجی و سیاسی ناکامی، اعلیٰ کمان کی بدعنوانی، پیشہ ورانہ زوال اور یحییٰ خان سمیت سینئر جرنیلوں کی ذمہ داریوں کی تفصیل پیش کی اور متعدد افسروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی۔ یوں تاریخی ریکارڈ میں ایک طرف بھٹو کی اقتدار کی جنگ موجود ہے اور دوسری طرف بندوق، کمان اور آپریشن کا فیصلہ رکھنے والی فوجی حکومت۔

لیکن 1971ء کی ایک معاصر نیویارکر رپورٹ نے معاملہ زیادہ بےرحمانہ انداز میں لکھا: انتخابی نتیجے کے بعد “بھٹو اور جنرل یحییٰ” اسے قبول کرنے پر تیار نہ ہوئے، پھر احتجاج ہوا، فوج نے گولی چلائی اور پاکستان خون کے دریا میں داخل ہوگیا۔

لاڑکانہ کا مہاراجہ اور خون میں لت پت پارٹی کا بانی

جے اے رحیم کوئی معمولی ناراض کارکن نہیں تھا۔ وہ پیپلز پارٹی کے بانیوں، اس کے پہلے سیکریٹری جنرل اور ابتدائی نظریاتی دستاویزات تیار کرنے والوں میں شامل تھا۔ جولائی 1974ء میں وزیراعظم کی ایک ضیافت میں بھٹو گھنٹوں تاخیر سے پہنچا۔ ڈان کے تاریخی کالم کے مطابق بوڑھے اور بیمار رحیم انتظار سے تنگ آکر وہاں موجود لوگوں کو درباری اور بھٹو کو “لاڑکانہ کا مہاراجہ” کہہ کر گھر چلا گیا۔

اسی رات تقریباً ایک بجے وزیراعظم کی سکیورٹی سے وابستہ افراد اس کے گھر پہنچے۔ ڈان کے مطابق رحیم اور اس کے بیٹے کو مارا گیا، بزرگ رہنما کو خون آلود حالت میں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا۔ بعد کی ڈان رپورٹ نے حملہ آوروں کو بھٹو کے ذاتی کارندوں اور فیڈرل سکیورٹی فورس سے جوڑا اور لکھا کہ یہ بھٹو حکومت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ مزاج کی علامت بن گیا۔

جس شخص نے جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور آمروں کو للکارنے والی جماعت کا نظریہ لکھا تھا، اسے اسی جماعت کی حکومت میں رات کے اندھیرے میں پیٹا گیا۔ چند برس پہلے بھٹو نے اسے ساتھی کہا تھا؛ اقتدار میں اختلاف پیدا ہوا تو وہ درباری نظم توڑنے والا مجرم بن گیا۔

وزیر تقریباً رو پڑا، بھٹو نے پوچھا: بےاحترامی کب کی؟

پیپلز پارٹی کے بانی رکن مبشر حسن نے اپنی یادداشت The Mirage of Power میں ایک منظر لکھا ہے۔ ان کے مطابق وزیر اطلاعات کوثر نیازی قومی اسمبلی کے اسپیکر صاحبزادہ فاروق علی کے سامنے تقریباً رو پڑے اور شکایت کی کہ بھٹو انہیں تحقیر اور گندی زبان کا نشانہ بناتا ہے۔ جب بات بھٹو تک پہنچی تو اس کا جواب تھا: “کیا میں نے تم سے کبھی بےاحترامی کی؟”

مبشر حسن نے ایک اور گفتگو نقل کی۔ ان کے مطابق بھٹو نے مصطفیٰ کھر سے کہا کہ “اقتدار میں آنے کے لیے ایک ٹیم، بچانے کے لیے دوسری” درکار ہوتی ہے۔ 1974ء کے اختتام تک پارٹی کی وہ پرانی نظریاتی ٹیم، جس نے روٹی، کپڑا، مکان اور سوشلزم کا خواب بیچا تھا، کنارے لگ چکی تھی۔ اس کی جگہ ایسے صوبائی سردار، بیوروکریٹ، وفادار  آگئے جو نظریے سے زیادہ اقتدار بچانے کے کام آتے تھے۔

میر معراج محمد خان جیسے بائیں بازو کے کارکن، جنہوں نے طلبہ، مزدوروں اور نوجوانوں کو بھٹو کے گرد جمع کیا تھا، اختلاف کے بعد گرفتار ہوئے اور تشدد کے الزامات سامنے آئے۔ پنجاب یونیورسٹی کے ایک تحقیقی مطالعے نے جے اے رحیم، معراج محمد خان اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ برتاؤ کو بھٹو کی سیاسی عدم برداشت کی مثالوں میں شمار کیا۔

خفیہ اکاؤنٹ، تین لاکھ روپے اور رک جانے والی تفتیش

مبشر حسن نے اپنی کتاب میں ایک سنجیدہ الزام درج کیا۔ ان کے مطابق انٹیلی جنس بیورو نے ایک فرضی نام سے چلنے والے بینک اکاؤنٹ کا سراغ لگایا، جس سے رقم وصول کرنے والوں میں ایک وفاقی وزیر بھی شامل تھا۔ اکاؤنٹ میں قریب تین لاکھ روپے باقی تھے۔ مبشر حسن کے بیان کے مطابق بھٹو نے انہیں معاملے کی مزید تفتیش نہ کرنے کو کہا۔

یہ کسی عدالت کا ثابت شدہ فیصلہ نہیں بلکہ بھٹو کے اپنے قریبی وزیر کی یادداشت میں درج الزام ہے۔ لیکن یہ اس طرزِ حکومت کی تصویر بناتا ہے جس میں بدعنوانی صرف لفافے یا کمیشن کا نام نہیں رہتی؛ وفادار وزیر کی حفاظت، تفتیش روکنا، سرکاری عہدے بانٹنا اور ریاستی اداروں کو سیاسی خاندان میں تبدیل کرنا بھی بدعنوانی بن جاتا ہے۔

1977ء: انتخاب شروع ہونے سے پہلے ہی فتح مشکوک ہوگئی

رفیع رضا نے لکھا کہ 1977ء کے انتخابات میں بھٹو سمیت پیپلز پارٹی کے اٹھارہ امیدوار بلا مقابلہ کامیاب قرار پائے۔ بعض حلقوں میں مخالف امیدواروں کے کاغذات مسترد ہوئے۔ بھٹو کے لاڑکانہ والے حریف کے مبینہ اغوا کا الزام بھی سامنے آیا۔ رفیع رضا کے مطابق ان واقعات نے انتخابی مہم شروع ہونے سے پہلے ہی پورے عمل کی ساکھ کو نقصان پہنچا دیا تھا۔

اسی رفیع رضا نے یہ بھی لکھا کہ بھٹو غالباً ایک منصفانہ انتخاب بھی جیت سکتا تھا؛ یہی بات 1977ء کے مبینہ انتظامی کھیل کو اور زیادہ بےمعنی بناتی ہے۔ ایک مقبول رہنما نے محفوظ فتح کو غیرمعمولی فتح میں بدلنے کی کوشش کی اور مخالفوں کو یہ کہنے کا موقع دے دیا کہ ووٹ نہیں، ریاستی مشینری جیتی ہے۔

بعد میں جیل میں دیے گئے اپنے آخری بڑے انٹرویو میں بھٹو نے انعام عزیز سے کہا کہ اس نے دھاندلی کا حکم نہیں دیا تھا اور ممکن ہے صرف سات حلقوں میں بےقاعدگیاں ہوئی ہوں۔ یہ بھٹو کا اپنا دفاع تھا؛ رفیع رضا کا بیان اس کے مقابل ایک اندرونی ساتھی کی گواہی ہے۔

فیڈرل سکیورٹی فورس: سول حکومت کا “پیلس گارڈ”

اسٹینلے وولپرٹ نے اپنی سوانح میں فیڈرل سکیورٹی فورس کو بھٹو کا “Palace Guard” قرار دیا۔ ابتدا میں اس فورس کا جواز یہ بتایا گیا کہ داخلی ہنگاموں سے نمٹنے کے لیے بار بار فوج نہ بلانی پڑے، مگر جلد ہی مخالفوں نے اسے نگرانی، دھمکی، گرفتاری اور تشدد کا سیاسی آلہ کہنا شروع کردیا۔

بھٹو دور میں نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگی، اس کے اثاثے ضبط ہوئے اور ولی خان، غوث بخش بزنجو، عطا اللہ مینگل اور دوسرے رہنماؤں کے خلاف حیدرآباد ٹریبونل میں غداری کا مقدمہ چلایا گیا۔ سپریم کورٹ نے اکتوبر 1975ء میں پابندی برقرار رکھی، مگر جنرل ضیاء نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ٹریبونل ختم کرکے قیدی رہا کردیے۔

صحافت بھی اس طاقت سے محفوظ نہ رہی۔ ڈان کی تاریخی رپورٹوں میں الطاف گوہر کی گرفتاری، اخبارات کی بندش، مدیران کی حراست اور حکومتی دباؤ کا ذکر ملتا ہے۔ جس بھٹو نے فوجی آمریت کے سنسر کو للکار کر مقبولیت حاصل کی تھی، اسی کی منتخب حکومت نے تنقید کو ریاست دشمنی یا ذاتی توہین سمجھنا شروع کردیا۔

منکی جنرل: جسے ذلیل کیا، اسی نے پھانسی کے تختے تک پہنچایا

1976ء میں بھٹو نے کئی سینئر جرنیلوں کو نظرانداز کرکے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف بنایا۔ جنرل فیض علی چشتی نے بعد میں ضیاء کو بھٹو کا دل جیتنے والا “بہترین خوشامدی” قرار دیا۔ وولپرٹ نے اس تقرری کو بھٹو کی زندگی کی سب سے مہلک شخصی غلطی لکھا۔

وولپرٹ کے مطابق بھٹو محفلوں میں ضیاء کو “منکی جنرل” کہتا، اس کے دانتوں اور جھکے ہوئے انداز کا مذاق اڑاتا اور ہاتھ سے ایسا اشارہ کرتا جیسے کسی کٹھ پتلی کی ڈور کھینچ رہا ہو۔ جنرل گل حسن نے جب بتایا کہ ضیاء باہر انتظار کررہا ہے تو وولپرٹ کے بیان کے مطابق بھٹو نے فحش زبان میں اسے بھاڑ میں جانے دینے کو کہا۔

یہی بظاہر بےضرر، چاپلوس اور تحقیر برداشت کرنے والا جنرل 5 جولائی 1977ء کو بھٹو کی حکومت الٹنے آیا۔ جس شخص نے فوج کے سب سے فرمانبردار افسر کو چنا تھا، وہ یہ نہ سمجھ سکا کہ مسلسل توہین وفاداری نہیں، خاموش انتقام بھی پیدا کرسکتی ہے۔

قومیانے کا انقلاب: جب گھر کے پچھواڑے کی چاول مل بھی ریاست بن گئی

بھٹو کی ابتدائی نیشنلائزیشن چند صنعتی خاندانوں کی معاشی اجارہ داری توڑنے کے نعرے کے ساتھ شروع ہوئی۔ بڑی صنعتیں، بینک اور انشورنس کمپنیاں ریاست کے قبضے میں آئیں۔ مگر 1976ء میں پالیسی چھوٹی آٹا ملوں، رائس ہلرز اور کاٹن جننگ یونٹس تک پہنچ گئی۔ رفیع رضا نے لکھا کہ بعض چاول ملیں اتنی چھوٹی تھیں کہ گھروں کے پچھواڑے میں چلتی تھیں۔

رفیع رضا کے مطابق اس مرحلے کی معاشی منطق سے زیادہ سیاسی منطق تھی۔ بھٹو پارٹی کے بائیں بازو کو پیچھے چھوڑ کر خود کو سب سے بڑا انقلابی ثابت کرنا، دیہی حمایت مضبوط کرنا اور انتخابات سے پہلے اپنے سوشلسٹ تشخص کو دوبارہ زندہ کرنا چاہتا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ صرف بڑے صنعت کار نہیں، چھوٹا دکاندار، مل مالک اور شہری متوسط طبقہ بھی خوف زدہ ہوگیا۔ بازار نے سرمایہ لگانا روک دیا اور وہی کاروباری طبقہ بھٹو مخالف تحریک کا مالی و سماجی بازو بن گیا۔

اس فیصلے پر رفیع رضا کے الفاظ انتہائی صاف تھے: “اس بار صرف زیڈ اے بی ذمہ دار تھا۔” ان کے مطابق بھٹو نے اپنے اہم اقتصادی ساتھیوں کے بغیر فیصلہ کیا اور سیاسی فائدے کے لیے معیشت میں ایسا خوف پیدا کیا جس نے نجی سرمایہ کاری کا اعتماد توڑ دیا۔

لیکن اسی رفیع رضا نے بھٹو دور کے دوسرے صنعتی پہلو بھی درج کیے۔ ان کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز، ہیوی مکینیکل کمپلیکس، کھاد، سیمنٹ، پیٹروکیمیکل اور درآمدی متبادل صنعتوں میں سرکاری سرمایہ کاری نے ایسی صنعتی بنیاد قائم کی جو کمزور نجی سرمایہ تنہا نہیں بنا رہا تھا۔ اس طرح قومیانے کی ایک تصویر سیاسی قبضہ اور نااہلی تھی، جبکہ دوسری تصویر بھاری صنعت اور ریاستی تعمیر کی تھی—دونوں گواہیاں ایک ہی قریبی ساتھی کی کتاب میں موجود ہیں۔

شکست کے بعد نوے ہزار قیدیوں کی گھر واپسی

دسمبر 1971ء کے بعد بھارت کے پاس پاکستانی فوجی، نیم فوجی اہلکار اور شہری زیرحراست افراد کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ بھٹو نے شملہ معاہدے، بعد کے دہلی معاہدے اور پاکستان، بھارت و بنگلہ دیش کے سہ فریقی مذاکرات کے ذریعے ان کی واپسی کا راستہ بنایا۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس کے ریکارڈ کے مطابق ستمبر 1973ء سے اپریل 1974ء کے درمیان 72,795 پاکستانی جنگی قیدی اور 17,186 شہری زیرحراست افراد واپس منتقل کیے گئے۔ 105 خصوصی ٹرینیں اس عمل میں استعمال ہوئیں اور 30 اپریل 1974ء تک واپسی مکمل ہوگئی۔ یہ محض تقریر نہیں، ریڈ کراس کے نقل و حمل کے اعداد میں محفوظ سفارتی کامیابی تھی۔

بھٹو نے شکست کے بعد فوری انتقامی جنگ کے بجائے مذاکرات کا راستہ چنا۔ اس نے بھارت سے وہ کاغذی اور سفارتی عمل شروع کیا جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندانوں کو اپنے قیدی واپس ملے اور پاکستان کئی سال تک جنگی یرغمالی کی حالت میں رہنے سے بچ گیا۔

او آئی سی OIC کا بانی نہیں، مگر لاہور کو مسلم دنیا کا دل بنانے والا

ایک مشہور سیاسی مبالغہ یہ ہے کہ بھٹو نے OIC قائم کی۔ تنظیم خود اپنے ریکارڈ میں لکھتی ہے کہ اسلامی تعاون کی تنظیم 1969ء میں مسجد اقصیٰ کو آگ لگائے جانے کے بعد قائم ہوئی، جب بھٹو پاکستان کا حکمران نہیں تھا۔

بھٹو کا حقیقی کارنامہ فروری 1974ء کی دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس تھی۔ لاہور میں مسلم دنیا کے سربراہ، عرب قیادت، فلسطینی نمائندگی اور پاکستان کے سابق مشرقی حصے سے وجود میں آنے والے بنگلہ دیش کے رہنما ایک ہی شہر میں جمع ہوئے۔ یہ پاکستان کی 1971ء کے بعد سفارتی تنہائی سے واپسی کا عظیم منظر تھا۔

بدشاہی مسجد میں سربراہان کی صف، شاہ فیصل کے ساتھ بھٹو، یاسر عرفات کی موجودگی اور فلسطین کے حق میں بلند ہوتی زبان نے بھٹو کو چند دنوں کے لیے مسلم دنیا کا سب سے نمایاں میزبان بنا دیا۔ اس نے OIC ایجاد نہیں کی؛ اس نے لاہور کو اس تنظیم کی تاریخ کا سب سے یادگار اسٹیج بنا دیا۔

وہ آئین جو اپنے معمار سے زیادہ دیر زندہ رہا

قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1973ء کا آئین 10 اپریل کو متفقہ طور پر منظور ہوا، 12 اپریل کو اس کی توثیق ہوئی اور 14 اگست 1973ء کو نافذ ہوا۔ بھٹو حکومت، حزب اختلاف اور مختلف صوبائی قوتوں نے ایک ایسی دستاویز پر اتفاق کیا جس نے پارلیمانی حکومت، وفاقی نظام، سینیٹ اور بنیادی حقوق کا ڈھانچا قائم کیا۔

یہ بھٹو کی سیاسی صلاحیت کا شاید سب سے مضبوط ثبوت تھا: وہ جب سمجھوتہ کرنا چاہتا تھا تو ایک ٹوٹے ہوئے ملک کی متحارب قیادت کو ایک آئینی میز پر جمع کرسکتا تھا۔ لیکن بعد میں اسی دور میں اپوزیشن پر پابندی، پریس پر دباؤ اور سیاسی قیدیوں کے واقعات نے دکھایا کہ آئین لکھنے اور آئینی مزاج رکھنے کے درمیان فاصلہ کتنا وسیع ہوسکتا ہے۔

ایٹمی بم اس نے نہیں بنایا، مگر حکم اس نے دیا

پاکستان کا سویلین ایٹمی پروگرام بھٹو سے پہلے شروع ہوچکا تھا، لیکن 1971ء کی شکست کے بعد اسے عسکری سمت اور سیاسی ترجیح بھٹو نے دی۔ جنوری 1972ء کے ملتان اجلاس کے بعد سائنس دانوں کو جوہری ہتھیار کی صلاحیت حاصل کرنے کا ہدف دیا گیا۔ علمی تحقیق بھی 1972ء کو پاکستان کے منظم جوہری ہتھیار پروگرام کے آغاز کا اہم سال قرار دیتی ہے۔

بھٹو کی زندگی میں نہ پاکستان نے ایٹمی تجربہ کیا اور نہ مکمل بم عوام کے سامنے آیا۔ اس کا کارنامہ تجربے کا بٹن دبانا نہیں بلکہ پروگرام کو ریاستی تحفظ، مالی ترجیح، سیاسی حکم اور ایسا تسلسل دینا تھا جسے بعد کی حکومتیں روک نہ سکیں۔

آخری فون، پینتیس جرنیل اور تاریخ کو خاموش کرنے کا دعویٰ

اگست 1977ء میں، فوجی بغاوت کے چند ہفتے بعد، صحافی انعام عزیز نے بھٹو کا آخری اہم انٹرویو کیا۔ ان کے بیان کے مطابق ملاقات کے دوران جنرل ضیاء کا فون آیا اور بھٹو کو دھمکی دی گئی۔ فون بند ہونے کے بعد بھٹو نے کہا کہ اگر وہ دوبارہ اقتدار میں آیا تو ضیاء اور پینتیس جرنیلوں کو غداری کے جرم میں پھانسی دے گا۔

اسی انٹرویو میں اس نے اعتراف کیا کہ اس نے غلط مشیر منتخب کیے، انتخابات میں محدود بےقاعدگیوں کا امکان تسلیم کیا، مگر منظم دھاندلی کے حکم سے انکار کیا۔ پھر اس نے وہ جملہ کہا جو اس کے حامیوں کے لیے وصیت اور مخالفوں کے لیے خودپسندی کی آخری انتہا بن گیا: “میں تاریخ کا آدمی ہوں؛ تاریخ کو خاموش نہیں کیا جاسکتا۔”

تازہ کپڑے، گندہ ہوتا دامن اور خاموش پھانسی گھاٹ

نیویارکر میں شائع ہونے والی تفصیل کے مطابق 4 اپریل 1979ء کی رات بھٹو ملیریا، پیچش، بھوک ہڑتالوں اور قید سے انتہائی کمزور ہوچکا تھا۔ اس نے آخری رات نہانے، شیو کرنے اور صاف کپڑے پہننے پر اصرار کیا۔ پھر چار وارڈن اسے بازوؤں اور ٹانگوں سے اٹھا کر لے گئے؛ اس کی قمیص کا دامن ایک وارڈن کے بوٹ میں پھنس کر پھٹتا اور گندا ہوتا رہا۔ اسے اسٹریچر پر پھانسی گھاٹ تک لے جایا گیا۔ نہ گارڈ آف آنر تھا، نہ فوجی سلامی۔

چوالیس برس بعد پاکستان کی سپریم کورٹ نے متفقہ طور پر کہا کہ بھٹو کے مقدمے میں منصفانہ ٹرائل اور قانونی طریقۂ کار کے تقاضے پورے نہیں ہوئے تھے۔ یوں وہ شخص جس کے دور میں مخالفوں نے ریاستی طاقت، گرفتاری اور غیرمنصفانہ سلوک کی شکایت کی، خود بھی ایک ایسے عدالتی عمل کے ذریعے پھانسی چڑھا جسے ملک کی سب سے بڑی عدالت نے بعد میں غیرمنصفانہ قرار دیا۔

کئی بھٹو، ایک ہی چہرہ

فلاچی کے کمرے میں بیٹھا بھٹو طاقت کو محبت سے بڑا جذبہ کہتا ہے۔رفیع رضا کا بھٹو منتخب اکثریت کا راستہ روکتا، چھوٹی ملیں قومی تحویل میں لیتا اور ایسے فیصلے کرتا ہے جن کے لیے اس کا ساتھی لکھتا ہے کہ صرف وہی ذمہ دار تھا۔

مبشر حسن کا بھٹو ایک وزیر کی تذلیل کرتا، دوسرے وزیر سے متعلق تفتیش رکواتا اور اقتدار حاصل کرنے والی ٹیم کو اقتدار بچانے والی ٹیم سے بدل دیتا ہے۔

وولپرٹ کا بھٹو ایک خوشامدی جنرل کو سینئر جرنیلوں پر ترجیح دیتا، پھر اسے منکی جنرل کہہ کر ذلیل کرتا ہے—اور وہی جنرل اس کے لیے پھانسی کا پھندا تیار کرتا ہے۔

الیکشن کمیشن کا ریکارڈ مجیب کی اکثریت دکھاتا ہے۔ ریڈ کراس کا ریکارڈ بھٹو دور میں تقریباً نوے ہزار قیدیوں اور شہریوں کی واپسی دکھاتا ہے۔ قومی اسمبلی کا ریکارڈ متفقہ آئین دکھاتا ہے۔ OIC کا ریکارڈ ثابت کرتا ہے کہ تنظیم بھٹو سے پہلے بنی، مگر لاہور کانفرنس نے اس کے دور کو مسلم سفارت کاری کی بلند ترین تصویر دی۔ سپریم کورٹ کا ریکارڈ بتاتا ہے کہ آخر میں خود بھٹو کو بھی انصاف نہیں ملا۔

اس لیے بھٹو کی داستان کسی ایک نعرے میں بند نہیں ہوتی۔ اس کے ایک ہاتھ میں 1973ء کا آئین، شملہ کا معاہدہ، ایٹمی پروگرام اور لاہور اسلامی کانفرنس تھی؛ دوسرے ہاتھ کے گرد ڈھاکا کی اقتدار پرستانہ سیاست، خون آلود جے اے رحیم، فیڈرل سکیورٹی فورس، حیدرآباد ٹریبونل، مشکوک انتخابات اور تباہ کن سیاسی نیشنلائزیشن کے سائے تھے۔

وہ شخص جس نے عوام کو بولنا سکھایا، اپنے قریب بولنے والوں کو برداشت نہ کرسکا۔

وہ شخص جس نے شکست خوردہ سپاہیوں کو وطن واپس لایا، اپنے سیاسی مخالفوں کو جیلوں سے واپس لانے پر تیار نہ تھا۔

وہ شخص جس نے ملک کو آئین دیا، اپنی طاقت پر آئین کی پابندی قبول کرنے میں بار بار ناکام ہوا۔

اور وہ شخص جو تاریخ کو خاموش نہ کیے جانے کا دعویٰ کرتا تھا، آج بھی خاموش نہیں—مگر تاریخ میں اس کی آواز اکیلی نہیں۔ اس کے ساتھ مجیب کا انتخابی مینڈیٹ، جے اے رحیم کا خون، مبشر حسن کی یادداشت، رفیع رضا کی گواہی، ضیاء کی خاموش خوشامد، جنگی قیدیوں کی گھر واپسی، لاہور کی سربراہی کانفرنس، 1973ء کا آئین اور راولپنڈی جیل کا پھندا بھی بولتا ہے۔۔۔ ✍️

Loading