Daily Roshni News

معاملات کی بڑی نعمت ہے۔۔۔ انتخاب  ۔۔۔۔۔  محمد جاوید عظیمی

معاملات کی بڑی نعمت ہے

                   * * * * * * *

انتخاب  ۔۔۔۔۔  محمد جاوید عظیمی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ معاملات کی بڑی نعمت ہے۔۔۔ انتخاب  ۔۔۔۔۔  محمد جاوید عظیمی)الدِّينُ الْمُعَامَلَاتُ»یہ جملہ مشہور ہے، لیکن نبی کریم ﷺ کی صحیح حدیث نہیں ہے۔ اس کا مفہوم درست ہے کہ دین میں معاملات کی بڑی اہمیت ہے۔معاملات میں انسان آزاد نہیں ہے۔

جو دنیا کا رخ ہے، اس میں تم آزاد ہو، لیکن جو دینی رخ ہے، اس میں تم پابند ہو۔

کسی کے اخلاق، ایمان، قناعت، حسد، تکبر، جلن، جھوٹ، دھوکہ، فریب، بدگمانی اور غلط بیانی کا نمایاں طور پر پتا معاملات کرنے سے چلتا ہے۔

ایک عام بندہ اور ایک مومن بندہ جب معاملہ کرتا ہے تو دونوں کی سوچ میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ مومن برکت، اللہ کی رضا اور اللہ کی خوشنودی کو تلاش کرتا ہے۔ وہ اللہ پر یقین اور اللہ کے سامنے جواب دہی کے بارے میں سوچتا ہے کہ کہیں اس کی آخرت خراب نہ ہو جائے۔ ان تمام باتوں کو مدِنظر رکھ کر وہ کاروبار کرتا ہے۔ اگر ایمان مضبوط ہو اور آخرت پر یقین ہو تو معاملات بھی بہت اچھے ہوتے ہیں۔

اور جب لوگوں کو دینا ہوتا ہے تو اس میں ٹال مٹول کرتے ہیں۔

کیا انہیں یہ خیال نہیں کہ انہیں ایک بہت بڑے دن اٹھایا جائے گا؟ جس دن سارے جہان کے لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

(سورۃ المطففین: 4-6)

ہمارے معاشرے میں لوگ نماز بھی پڑھتے ہیں، روزے بھی رکھتے ہیں، عمرے بھی کرتے ہیں، خوب تسبیح کرتے ہیں، خوب تلاوت کرتے ہیں اور تہجد بھی پڑھتے ہیں، لیکن جب معاملات کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں عبادات الگ ہیں اور معاملات الگ، گویا معاملات دین کا حصہ ہی نہیں۔ یہی بہت بڑی گڑبڑ اور بہت بڑی کمزوری ہے۔

معاملات کے اصول خلفائے راشدینؓ کے دور میں اور نبی کریم ﷺ کے دور میں یہ تھے کہ جب تک انسان کو علم نہ ہو، اسے کاروبار نہیں کرنا چاہیے۔ پہلے معلوم کرے کہ جو کاروبار میں کر رہا ہوں، شریعت اس کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ دنیا کے جو مارکیٹ کے اصول ہیں، ان کے بارے میں شریعت کیا رہنمائی کرتی ہے؟ جب تک شریعت سے اس کا موازنہ نہ کیا جائے، صحیح حکم معلوم نہیں ہوتا۔ اگر انسانوں نے مل کر کوئی جائز اصول بنایا ہو، جس پر مارکیٹ کا انحصار ہو، اور اس میں شریعت کے خلاف کوئی شق نہ ہو، تو اس کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

سورۂ المطففین کی ان آیات میں آخرت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جب آخرت کا یقین کمزور پڑ جاتا ہے تو انسان معاملات میں آگے پیچھے سوچنے لگتا ہے۔

Loading