ایک دیرینہ تعلق، محبت اور ادب سے معمور یادگار لمحہ۔
تحریر ۔۔۔ارشد قریشی
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔ ایک دیرینہ تعلق، محبت اور ادب سے معمور یادگار لمحہ۔۔۔ تحریر ۔۔۔ارشد قریشی)اپنی کتاب ’’پندرہ دن کی زندگی‘‘ پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی صاحب کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے یہ تصویر ہمارے لیے ایک نہایت خوب صورت اور یادگار لمحے کی حیثیت رکھتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی صاحب ایک ممتاز محقق، کالم نگار، ادیب، شاعر اور استاد ہیں۔ اردو ادب اور تحقیق کے میدان میں ان کی گراں قدر خدمات ہیں اور وہ متعدد علمی و ادبی کتابوں کے مصنف ہیں۔ علم و ادب سے ان کی وابستگی اور ان کا وسیع مطالعہ انہیں اہلِ قلم کے درمیان ایک منفرد مقام عطا کرتا ہے۔
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی صاحب سے ہمارا تعلق ایک دیرینہ اور محبت بھرا تعلق ہے۔ ہمارے لیے وہ محض ایک بزرگ ادیب، محقق یا استاد ہی نہیں بلکہ ایک انتہائی شفیق، محترم، نفیس، محبت کرنے والے اور حوصلہ افزائی فرمانے والے انسان بھی ہیں۔ ان کی گفتگو میں اپنائیت، رویّے میں شفقت اور اہلِ قلم کے لیے ان کے دل میں جو محبت ہے، وہ ہمیشہ مجھے متاثر کرتی رہی ہے۔
ہمارے لیے اس ملاقات اور کتاب پیش کرنے کی خوشی اس لیے بھی کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ ’’پندرہ دن کی زندگی‘‘ پر ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی صاحب نے نہایت محبت اور خلوص سے اپنا قیمتی تبصرہ بھی تحریر فرمایا، جو کتاب کے ابتدائی صفحات میں شامل ہے۔ کسی صاحبِ علم و دانش اور اپنے دیرینہ شفیق رفیق کی جانب سے ہماری کتاب کا مطالعہ کرنا اور پھر اس پر اپنے گراں قدر خیالات کا اظہار کرنا ہمارے لیے یقیناً ایک اعزاز اور باعثِ فخر ہے۔
ان کی یہ حوصلہ افزائی ہمارے لیے محض ایک تبصرہ نہیں بلکہ ایک مصنف کے لیے محبت، اعتماد اور مزید لکھنے کا حوصلہ ہے۔
ڈاکٹر رئیس احمد صمدانی صاحب کا تہِ دل سے شکر گزار ہوں کہ انہوں نے ہمیشہ محبت، شفقت اور حوصلہ افزائی سے نوازا اور ’’پندرہ دن کی زندگی‘‘ کو بھی اپنی توجہ اور محبت کا حصہ بنایا۔
یہ تصویر ہمارے لیے محض ایک تصویر نہیں، بلکہ ایک دیرینہ تعلق، محبت، شفقت، ادب اور حوصلہ افزائی سے جڑا ہوا ایک خوب صورت اور یادگار لمحہ ہے۔
![]()

