Daily Roshni News

“اے ہارون کی بہن!” — کیا قرآن نے حضرت مریمؑ کو حضرت موسیٰؑ کے بھائی ہارونؑ کی بہن سمجھ لیا؟

“اے ہارون کی بہن!” — کیا قرآن نے حضرت مریمؑ کو حضرت موسیٰؑ کے بھائی ہارونؑ کی بہن سمجھ لیا؟

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انترنیشنل ۔۔۔ تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی)قرآنِ مجید پر کیے جانے والے بعض اعتراضات ایسے ہیں جو پہلی نظر میں واقعی غور طلب محسوس ہوتے ہیں، اور اگر ان کا جواب محض جذباتی اور سطحی انداز میں دیا جائے تو کوئی بھی سنجیدہ قاری مطمئن نہیں ہو سکتا۔ بہترین طریقہ یہی ہے کہ پہلے اعتراض کو پوری دیانت داری سے اس کی اصل شکل میں سمجھا جائے، پھر قرآن، حدیث، لغت اور تاریخ کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا جائے۔ ایسا ہی ایک بے حد مشہور اور پرانا اعتراض حضرت مریم علیہا السلام کے حوالے سے کیا جاتا ہے۔ سورۃ مریم میں جب حضرت مریمؑ نومولود حضرت عیسیٰؑ کو لے کر اپنی قوم کے پاس واپس آتی ہیں، تو لوگ حیرت، طنز اور الزام کے انداز میں کہتے ہیں: ﴿يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا﴾ “اے ہارون کی بہن! نہ تمہارا باپ کوئی برا آدمی تھا اور نہ تمہاری ماں بدکار تھی” (سورۃ مریم: 28)۔

یہاں سے وہ مشہور اعتراض جنم لیتا ہے جسے صدیوں سے مستشرقین اور ناقدین دہراتے آ رہے ہیں۔ تورات (کتابِ خروج) میں حضرت موسیٰؑ کے بھائی کا نام ہارون ہے اور ان دونوں کی ایک بہن کا نام بھی ‘مریم’ (یا مِریَم) بتایا گیا ہے۔ دوسری طرف، قرآن کے مطابق حضرت عیسیٰؑ کی والدہ کا نام بھی ‘مریم’ ہے۔ چنانچہ ناقدین یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا قرآن نے (معاذ اللہ) تاریخی مغالطہ کھاتے ہوئے حضرت موسیٰؑ کی بہن مریم اور حضرت عیسیٰؑ کی والدہ مریم کو ایک ہی شخصیت سمجھ لیا ہے؟ یہ اعتراض بظاہر بڑا دلچسپ لگتا ہے، لیکن اس کی بنیاد ایک بہت بڑے مفروضے پر کھڑی ہے۔ قرآن نے سورۃ مریم کی اس آیت میں قطعی طور پر یہ کہیں نہیں کہا کہ یہاں جس ہارون کا ذکر ہے وہ ‘حضرت موسیٰؑ کے بھائی’ ہارونؑ ہی ہیں۔ اصل عبارت صرف “اے ہارون کی بہن!” ہے۔ اس ایک جملے سے یہ فرض کر لینا کہ یہ ہارون لازماً حضرت موسیٰؑ کے بھائی ہی ہیں، خود ناقدین کا اپنا تراشا ہوا مفروضہ ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ اعتراض کوئی نیا نہیں، بلکہ عین رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں بھی یہ سوال اٹھایا گیا تھا۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نجران گئے۔ وہاں کے عیسائیوں نے ان سے بالکل یہی اعتراض کیا کہ تمہارے قرآن میں حضرت مریم کو “ہارون کی بہن” کہا گیا ہے، حالانکہ حضرت موسیٰؑ اور ہارونؑ تو حضرت عیسیٰؑ سے صدیوں پہلے گزر چکے تھے۔ حضرت مغیرہؓ کے پاس اس وقت اس کا جواب نہیں تھا۔ وہ واپس مدینہ آئے اور رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا۔ صحیح مسلم (حدیث 2135) میں رسول اللہ ﷺ کا وہ تاریخی جواب محفوظ ہے جس نے اس اعتراض کی جڑ کاٹ دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: “کیا تم نے انہیں نہیں بتایا کہ وہ (بنی اسرائیل) اپنے سے پہلے گزرنے والے انبیاء اور نیک لوگوں کے ناموں پر اپنے بچوں کے نام رکھا کرتے تھے؟” یہ بات بے حد اہم ہے کہ اس اعتراض کا جواب کئی صدیاں بعد کسی مسلمان مفسر نے بچاؤ کے لیے نہیں گھڑا تھا، بلکہ عہدِ نبوی میں ہی رسول اللہ ﷺ نے خود اس تاریخی اور ثقافتی حقیقت کی وضاحت فرما دی تھی۔

پھر آیت میں مذکور وہ ہارون کون تھے؟ یہاں علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم اتنا ہی کہیں جتنا ہمارے مستند ذرائع بتاتے ہیں۔ کلاسیکی مفسرین نے اس بارے میں چند آراء نقل کی ہیں۔ امام طبری، ابن کثیر اور قرطبی نے یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت مریمؑ کے زمانے میں ہارون نام کا ایک انتہائی نیک اور عابد شخص تھا، اور حضرت مریمؑ کو ان کی نیکی اور عبادت گزاری کی نسبت سے اس شخص کا روحانی ہم پلہ یا “بہن” قرار دے کر مخاطب کیا گیا۔ ایک دوسری مضبوط تشریح یہ ہے کہ حضرت مریمؑ کو ان کے اجداد میں سے حضرت ہارونؑ کے خاندان یا نسل سے تعلق کی بنا پر “ہارون کی بہن” کہا گیا، بالکل اسی طرح جیسے عربی لغت میں کسی قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص کو اس قبیلے کا “بھائی” کہا جاتا ہے۔ خود قرآن حضرت ہودؑ کے بارے میں فرماتا ہے: ﴿وَإِلَىٰ عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا﴾ “اور قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا” (سورۃ الاعراف: 65)۔ ظاہر ہے حضرت ہودؑ پوری قومِ عاد کے سگے بھائی نہیں تھے، بلکہ یہاں “بھائی” سے مراد برادری اور قبیلے کا فرد ہے۔ لہٰذا، آیتِ قرآنی کو عربی زبان کے محاورے کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔

اعتراض کا ایک دوسرا حصہ یہ ہے کہ قرآن حضرت مریمؑ کے والد کا نام “عمران” بتاتا ہے، جبکہ بائبلی روایت میں حضرت موسیٰؑ اور ہارونؑ کے والد کا نام بھی “عمرام” ہے۔ ناقدین کہتے ہیں کہ اب تو ناموں کی مماثلت اور بڑھ گئی ہے۔ لیکن یہاں پھر وہی بنیادی غلطی دہرائی جا رہی ہے کہ ایک جیسے نام کا مطلب ایک ہی شخص نہیں ہوتا۔ آج بھی ایک ہی خاندان یا مذہبی معاشرے میں انبیاء اور بزرگوں کے نام نسل در نسل رکھے جاتے ہیں۔ یہودی ناموں پر جدید تاریخی تحقیق بھی رسول اللہ ﷺ کی بیان کردہ حقیقت کی تصدیق کرتی ہے۔ یہودی تاریخ کی ماہر پروفیسر ٹال ایلان (Tal Ilan) نے فلسطین میں 330 قبل مسیح سے 200 عیسوی تک کے یہودی ناموں کا جو ذخیرہ مرتب کیا ہے، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس قدیم یہودی معاشرے میں بائبلی ناموں (بشمول عمرام/عمران اور ہارون) کا دوبارہ استعمال ایک عام روایت تھی۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اگر قرآن صاف الفاظ میں یہ کہتا کہ “مریم، موسیٰ کی بہن تھی”، تو یقیناً ایک تاریخی سقم پیدا ہوتا۔ مگر قرآن ایسا ہرگز نہیں کہتا۔ قرآن کے الفاظ اور صحیح حدیث اس بات کی مکمل اور منطقی وضاحت کرتے ہیں کہ “یا اخت ہارون” کسی تاریخی مغالطے کا نہیں، بلکہ بنی اسرائیل کی نام رکھنے کی قدیم روایت اور عربی زبان کے محاورے کا مظہر ہے۔ ہمارا مقصد ہر سوال کو محض ‘اعتراض’ کہہ کر رد کر دینا نہیں، بلکہ علم، دیانت اور مضبوط دلائل کے ساتھ اس کا سامنا کرنا ہے۔

حوالہ جات برائے تحقیق:

القرآن الكريم — سورۃ مریم: 28

القرآن الكريم — سورۃ الاعراف: 65

صحیح مسلم — حدیث 2135

تفسیر الطبری — سورۃ مریم: 28

تفسیر ابن کثیر — سورۃ مریم: 28

تفسیر القرطبی — سورۃ مریم: 28

ٹال ایلان (Tal Ilan) — یہودی ناموں کا تاریخی ذخیرہ، فلسطین 330 قبل مسیح تا 200 عیسوی

بائبل (عہدنامہ قدیم) — کتابِ خروج: 15:20

#قرآن #حضرت_مریم #اسلامی_تحقیق #اعتراضات_کے_جوابات #تاریخ #GlobalTareekhHub

Loading