Daily Roshni News

**بحری جہازوں کا رش: کیا دنیا ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی دہلیز پر ہے؟**

**بحری جہازوں کا رش: کیا دنیا ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی دہلیز پر ہے؟**

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )خلیج فارس (Persian/Arabian Gulf) میں پھنسے 1,500 سے زائد تجارتی بحری جہاز صرف ایک معاشی مسئلہ نہیں، بلکہ ایک خوفناک خاموش ماحولیاتی بحران کی وجہ بن رہے ہیں۔ سمندری سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہ جہاز دوبارہ روانہ ہوئے تو یہ دنیا بھر کے ساحلوں پر تباہ کن “ناپسندیدہ سمندری حیات” (Invasive Species) کو پھیلا سکتے ہیں۔

**مسئلہ کیا ہے؟**

عام طور پر بحری جہاز بندرگاہوں پر صرف چند دن ہی ٹھہرتے ہیں، لیکن خلیج میں موجود یہ جہاز مہینوں سے ایک ہی جگہ پر کھڑے ہیں۔ اس طویل قیام اور گرم و نمکین پانی کی وجہ سے جہازوں نچلے حصوں (Hulls) اور پائپوں میں کائی (Algae)، بارنیکلز، مسلز اور دیگر جراثیم انتہائی تیزی سے پروان چڑھ رہے ہیں۔

**خلیج فارس کا ماحول اور خطرہ:**

خلیج کا شدید گرم اور نمکین پانی ان سمندری مخلوقات کی افزائش کے لیے ایک بہترین نرسری بن چکا ہے۔ سائنسی جریدے *Biological Invasions* میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق:

 * یہ “بائیوفاؤلنگ” (Biofouling) جہازوں کے ساتھ سفر کر کے دیگر ممالک کے ساحلی نظام، مچھلیوں کی افزائش اور سمندری زراعت کو تبا ہ کر سکتی ہے۔

 * یہ جراثیم اور پیراسائیٹ (Parasites) مقامی سمندری حیات میں ناپید بیماریاں پھیلانے کا باعث بن سکتے ہیں۔

 * خطے کے 3,000 سے زائد جڑے ہوئے روٹس کے ذریعے یہ تباہی یورپ، ایشیا اور افریقہ کی بندرگاہوں تک آسانی سے پہنچ سکتی ہے۔

**حل کیا ہے؟**

سائنسدانوں کے مطابق ان جہازوں کو روانگی سے قبل اچھے طریقے سے صاف کیا جائے اور تمام بندرگاہوں کو متوقع خطرے سے پہلے سے باخبر رکھا جائے، تاکہ اس عالمی “سپر اسپیریڈر” واقعے کو بروقت روکا جا سکے۔

Loading