Daily Roshni News

برصغیر کی باوقار کمیونٹی: ایک روشن مثال

برصغیر کی باوقار کمیونٹی: ایک روشن مثال

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کسی بھی برادری کا وقار، عزت اور ترقی اس کی تعداد (Quantity) سے نہیں، بلکہ اس کے کردار، محنت اور معیار (Quality) سے طے ہوتی ہے۔ 🌟

برصغیر پاک و ہند میں پارسی برادری اس آفاقی اصول کی سب سے روشن اور زندہ مثال ہے۔ اگر ہم گجرات، بمبئی (ممبئی) اور کراچی کی تاریخ دیکھیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ اس چھوٹی سی برادری نے ان شہروں کی تقدیر بدلنے میں کتنا بڑا کردار ادا کیا:

🔹 گجرات (ثقافت اور آغاز): 🌾

جب پارسی صدیوں پہلے ایران سے ہجرت کر کے گجرات کے ساحلوں پر پہنچے، تو انہوں نے وہاں کے راجہ کو یقین دلایا تھا کہ وہ مقامی آبادی میں ایسے گھل مل جائیں گے جیسے “دودھ میں چینی”۔ انہوں نے نہ صرف اپنا یہ وعدہ نبھایا بلکہ گجراتی زبان اور ثقافت کو اپنا کر تجارت اور زراعت میں اپنی دیانت داری کا لوہا منوایا۔

🔹 بمبئی (صنعتی اور سماجی انقلاب): 🏭

بمبئی کو ایک عالمی تجارتی مرکز بنانے میں پارسیوں کا کردار بنیادی ہے۔ ٹاٹا (Tata)، گودریج (Godrej) اور واڈیا (Wadia) خاندانوں نے ہندوستان میں صنعتوں کی بنیاد رکھی۔ جے آر ڈی ٹاٹا نے ملک کی پہلی ایئر لائن شروع کی، جبکہ ہومی بھابھا نے انڈیا کے جوہری پروگرام کا آغاز کیا۔ بمبئی کے بڑے ہسپتال، تعلیمی ادارے اور تاریخی عمارتیں اس برادری کی سخاوت اور دور اندیشی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

🔹 کراچی (شہرِ قائد کی تعمیر و ترقی): 🏢⚓

کراچی کی تاریخ پارسی برادری کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ اس شہر کو ایک جدید اور صاف ستھرا تجارتی مرکز بنانے میں پارسیوں کا احسان ہے۔ کراچی کے پہلے منتخب میئر جمشید نسروانجی کو “بابائے کراچی” کہا جاتا ہے، جنہوں نے شہر کی ایسی بے لوث خدمت کی جس کی مثال نہیں ملتی۔ اس کے علاوہ ماما پارسی اسکول، بی ایم ایچ پارسی ہسپتال،  این ای ڈی یونیورسٹی اور جہانگیر کوٹھاری پریڈ جیسی نشانیاں آج بھی کراچی کے ماتھے کا جھومر ہیں جو اس برادری نے شہر کو تحفے میں دیں۔

💡 اصل طاقت کردار میں ہے:

پارسی برادری نے کبھی تعداد کے بل بوتے پر سیاست نہیں کی، نہ کبھی کوئی ہنگامہ کھڑا کیا، اور نہ ہی کبھی اقلیت ہونے کا رونا رویا۔ انہوں نے ہمیشہ قانون کی پاسداری، اعلیٰ تعلیم، اور بلا تفریقِ رنگ و نسل انسانیت کی خدمت (Philanthropy) کو اپنا شعار بنایا۔ 🤝❤️

حاصلِ کلام:

تعداد کا زیادہ ہونا بسا اوقات محض ایک ہجوم پیدا کرتا ہے، جبکہ معیار، اصول پسندی اور بے لوث خدمت ایک بہت چھوٹی اقلیت کو بھی تاریخ میں لازوال اور معزز بنا دیتی ہے۔ ✨✍🏼

#شیردل

بابائے کراچی جمشید نسروانجی

Loading