تاریخ کا انصاف: بنو امیہ کی خدمات اور ہمارا طرزِ فکر !
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )مسلمانوں کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ تاریخ کے کسی دور یا کسی خاندان کے بارے میں صرف جذبات، تعصبات یا یک طرفہ روایات کی بنیاد پر رائے قائم کریں۔ عدل اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ خوبیوں اور کمزوریوں دونوں کو دیکھا جائے، اور کسی شخصیت یا خاندان کی مجموعی خدمات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔
بنو امیہ ان خاندانوں میں سے ہیں جن کا اسلامی تاریخ میں بہت نمایاں کردار رہا ہے۔ اگرچہ ان کے بعض افراد کے بعض فیصلوں پر اہلِ علم نے نقد بھی کیا ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسلام کی سیاسی، عسکری، انتظامی اور تمدنی تاریخ میں ان کی خدمات بہت وسیع ہیں۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ بنو امیہ کے دور کی فتوحات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کے زمانے میں جہاد اور فتوحات کا دائرہ بے حد وسیع ہوا اور اسلامی ریاست کی سرحدیں مشرق و مغرب تک پھیل گئیں۔ (البدایہ والنہایہ)
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ، جو بنو امیہ میں سے تھے، ان کے دور میں قرآنِ مجید کو ایک مصحف پر جمع کیا گیا اور اس کی سرکاری اشاعت عمل میں آئی۔ (صحیح البخاری، کتاب فضائل القرآن)
ام المؤمنین حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کی متعدد احادیث امت تک پہنچائیں۔ (صحیح مسلم)
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے کاتبینِ وحی میں شمار کیا جاتا ہے۔ (صحیح مسلم، فضائل الصحابہ)
حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے شام کے محاذوں پر اہم خدمات انجام دیں اور فتوحاتِ شام میں نمایاں کردار ادا کیا۔ (البدایہ والنہایہ)
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلامی تاریخ کی پہلی منظم بحری قوت قائم ہوئی اور قبرص سمیت کئی بحری مہمات سرانجام پائیں۔ (صحیح البخاری، کتاب الجہاد)
بنو امیہ کے عہد میں شمالی افریقہ کی فتوحات ہوئیں، جن میں عقبہ بن نافع رحمہ اللہ کا کردار نمایاں ہے۔ (البدایہ والنہایہ، تاریخ الطبری)
711ء میں اندلس کی فتح اسلامی تاریخ کا ایک عظیم باب ہے، جو اموی خلافت کے دور میں رونما ہوئی۔ (تاریخ ابن خلدون)
خلیفہ عبد الملک بن مروان نے سرکاری دفاتر کو عربی زبان میں منتقل کیا، اسلامی سکّوں کا اجرا کیا اور ریاستی نظام کو مضبوط بنایا۔ (البدایہ والنہایہ)
خلیفہ ولید بن عبد الملک کے زمانے میں اسلامی ریاست اپنی جغرافیائی وسعت کے اعتبار سے تاریخ کی عظیم ترین وسعتوں میں سے ایک تک پہنچی۔ (تاریخ الطبری)
خلیفہ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی عدالت، زہد اور اصلاحات کو امت ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی رہی ہے، یہاں تک کہ بہت سے علماء نے انہیں خلفائے راشدین کے طرز پر چلنے والا حکمران قرار دیا ہے۔ (سیر أعلام النبلاء للذہبی)
اسی طرح حدیثِ نبوی کی باقاعدہ تدوین کا آغاز بھی عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے حکم سے ہوا۔ (صحیح البخاری، کتاب العلم)
یہ تمام حقائق ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ تاریخ کا مطالعہ انصاف کے ساتھ کیا جائے۔ کسی فرد یا خاندان کی غلطیوں کو بیان کرنا اگر ضروری ہو تو اس کی خوبیوں کو فراموش کرنا بھی انصاف کے خلاف ہے۔ خصوصاً صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں زبان کو محتاط رکھنا اور ان کے باہمی اختلافات میں غیر ضروری بحث سے اجتناب کرنا اہلِ سنت کا معروف منہج ہے۔
لہٰذا بنو امیہ کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ جن لوگوں کے دور میں اسلام دنیا کے وسیع خطوں تک پہنچا، جنہوں نے ریاستی نظام کو مضبوط کیا، علم و دعوت کے فروغ میں کردار ادا کیا اور امت کی خدمت کی، ان کے بارے میں گفتگو بھی عدل، دیانت اور تقویٰ کے ساتھ ہونی چاہیے۔
اللہ تعالیٰ صحابۂ کرام، تابعین، بنو امیہ کے نیک حکمرانوں اور اسلام کی خدمت کرنے والے تمام مسلمانوں پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے، اور ہمیں انصاف اور اعتدال کے ساتھ تاریخ کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
طالب دعا محمد طارق ! ( mtrss ) 30 مئی 2026
![]()

