Daily Roshni News

سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے میں 8 منٹ کیوں لیتی ہے؟ ایک روزمرہ حقیقت کے پیچھے چھپا کائناتی راز۔۔تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

سورج کی روشنی زمین تک پہنچنے میں 8 منٹ کیوں لیتی ہے؟ ایک روزمرہ حقیقت کے پیچھے چھپا کائناتی راز

تحقیق و ترتیب: طارق اقبال سوہدروی

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ تحقیق و ترتیب۔۔۔ طارق اقبال سوہدروی )ہر صبح جب مشرق سے سورج طلوع ہوتا ہے، تو اس کی چمکتی ہوئی روشنی چند ہی لمحوں میں ہماری پوری دنیا کو اجالے سے بھر دیتی ہے۔ بظاہر ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے سورج کی روشنی ادھر سے نکلی اور فوراً ہی اسی سیکنڈ میں زمین تک پہنچ گئی، مگر حقیقت اس روایتی دیسی حساب سے کہیں زیادہ حیران کن اور انوکھی ہے۔ جدید فلکیات کے مطابق، سورج کی وہ سنہری روشنی جو اس وقت آپ کے چہرے یا ہاتھوں پر پڑ رہی ہے، دراصل وہ اب سے تقریباً آٹھ منٹ پہلے سورج کی سطح سے اپنے سفر پر روانہ ہوئی تھی۔

یہ بات پہلی بار سننے والے کے لیے شدید حیرت کا باعث بنتی ہے، کیونکہ ہماری روزمرہ کی زندگی میں آٹھ منٹ کا وقت کوئی زیادہ لمبا محسوس نہیں ہوتا، لیکن جب بات کائنات کی سب سے تیز ترین چیز یعنی روشنی کی رفتار (Speed of Light) کی ہو، تو اس آٹھ منٹ کا مطلب ایک ایسا فاصلہ ہوتا ہے جسے عام انسانی ذہن سوچ بھی نہیں سکتا۔

جدید سائنسدانوں کے مطابق، خلا میں روشنی کی رفتار تقریباً 299,792 کلومیٹر فی سیکنڈ (یعنی تقریباً تین لاکھ کلومیٹر فی سیکنڈ) ہوتی ہے۔ یہ اس کائنات میں معلوم ہونے والی سب سے آخری اور تیز ترین رفتار ہے۔ اس عظیم رفتار کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اگر کوئی چیز روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کے قابل ہو جائے، تو وہ صرف ایک سیکنڈ کا پلک جھپکنے جتنا وقت گزرنے میں ہماری پوری زمین کے گرد تقریباً ساڑھے سات چکر کاٹ سکتی集中۔

اب یہاں ایک انتہا درجے کا اہم سائنسی سوال پیدا ہوتا ہے کہ: اگر روشنی اتنی حیران کن حد تک تیز رفتار ہے، تو پھر اسے سورج سے چل کر ہماری زمین تک پہنچنے میں یہ آٹھ منٹ کا وقت کیوں لگ جاتا ہے؟

اس کی اصل وجہ سورج اور ہماری زمین کے درمیان موجود وہ عظیم اور بہت بڑا فاصلہ ہے جسے کائنات کا بہترین ڈیزائن کہا جاتا ہے۔ ہماری زمین سورج سے اوسطاً تقریباً 149.6 ملین (یعنی تقریباً 15 کروڑ) کلومیٹر دور واقع ہے۔ فلکیات (Astronomy) کی زبان میں اس بڑے فاصلے کو ایک “فلکیاتی اکائی” (Astronomical Unit یا AU) کا نام دیا جاتا ہے۔ جب سورج کی روشنی اس طویل فاصلے کو اپنی تیز ترین رفتار سے طے کرنا شروع کرتی ہے، تو اسے یہاں تک پہنچنے کے لیے مینوئل کے مطابق تقریباً 8 منٹ اور 20 سیکنڈ درکار ہوتے ہیں۔

اس سائنسی سچ کو ایک اور انوکھی مثال سے سمجھیے؛ اگر فرض کریں کہ خلا میں سورج کسی لمحے اچانک غائب ہو جائے (جو کہ نظامِ کائنات میں ممکن نہیں)، تو زمین پر موجود انسانوں کو اس ہولناک واقعے کا علم فوراً نہیں ہوگا، بلکہ پورے آٹھ منٹ بیس سیکنڈ تک زمین پر دن کا اجالا قائم رہے گا، کیونکہ سورج کے غائب ہونے سے پہلے جو آخری روشنی وہاں سے نکلی تھی، اسے بھی زمین تک پہنچنے میں اتنا ہی وقت لگے گا۔

یہ حقیقت ہمیں ایک اور خوبصورت بات سمجھاتی ہے کہ جب ہم دن کے وقت نیلے آسمان پر چمکتے ہوئے سورج کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، تو حقیقت میں ہم سورج کو “اس وقت” یعنی موجودہ سیکنڈ کی حالت میں نہیں دیکھ رہے ہوتے، بلکہ ہم تو اسے آٹھ منٹ پہلے کے پرانے وقت کی حالت میں دیکھ رہے ہوتے ہیں۔

اسی ابدی اصول کا اطلاق ہماری پوری کائنات پر ہوتا ہے:

ہمارے سب سے قریب موجود چاند کی روشنی زمین تک تقریباً 1.3 سیکنڈ میں پہنچ جاتی ہے۔

ہمارے نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری (Jupiter) کی روشنی کو زمین تک پہنچنے میں فاصلے کے لحاظ سے 35 سے 50 منٹ لگ سکتے ہیں۔

جبکہ رات کو نظر آنے والے بعض دور دراز ستاروں کی روشنی سینکڑوں یا ہزاروں سال کا طویل سفر طے کر کے ہم تک پہنچتی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ جب ماہرینِ فلکیات بڑی خلائی دوربینوں سے دور دراز کی کہکشاؤں کو دیکھتے ہیں، تو وہ دراصل کائنات کے ماضی (Past) کے اندر جھانک رہے ہوتے ہیں۔ اگر کوئی کہکشاں ہم سے ایک کروڑ نوری سال دور ہے، تو ہم اسے آج کی حالت میں نہیں دیکھ رہے، بلکہ ہم اسے ایک کروڑ سال پہلے کی حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ گویا یہ جدید دوربینیں صرف فاصلے ناپنے کا آلہ نہیں ہیں، بلکہ وقت کے پردوں کو پیچھے ہٹانے کا ایک سچا ذریعہ بھی ہیں۔

سورج کے اندرونی حصے کا ایک اور پوشیدہ راز

یہاں اس ریسرچ کے پیچھے ایک اور انتہا درجے کا حیران کن سائنسی راز بھی چھپا ہوا ہے۔ سورج کے مرکز (Core) میں نیوکلیئر فیوژن (Nuclear Fusion) کے ذریعے پیدا ہونے والے روشنی کے ذرات جنہیں ہم فوٹونز (Photons) کہتے ہیں، وہ پیدا ہوتے ہی فوراً باہر خلا میں نہیں آ پاتے۔ سورج کے اندر کا دباؤ اور گیسوں کا گھنا پن اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ ان فوٹونز کو مرکز سے نکل کر سورج کی ظاہری سطح تک پہنچنے میں ہی ہزاروں بلکہ بعض سائنسی اندازوں کے مطابق لاکھوں سال کا وقت لگ جاتا ہے۔

لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ جب وہ ایک بار سورج کی سطح سے باہر خلا کے اندھیروں میں نکلتے ہیں، تو وہاں سے ہماری زمین تک کا فاصلہ وہ صرف آٹھ منٹ میں طے کر لیتے ہیں۔ یعنی جو روشنی آج ہمیں زندگی اور حرارت دے رہی ہے، اس کا اصل سفر سورج کے اندر بہت پہلے شروع ہو چکا تھا۔

اگر انسان عقل کے ساتھ غور کرے تو یہ حقیقت ایمان کو ایک عجیب سحر انگیز احساس دلاتی ہے کہ روزانہ نظر آنے والی یہ سادہ سی دھوپ بھی اپنے اندر کائنات کی وسعت کا کتنا بڑا راز چھپائے ہوئے ہے۔ ہم سورج کو اپنے بہت قریب سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں اس کے اور ہمارے درمیان اتنا عظیم فاصلہ ہے کہ روشنی جیسی تیز ترین چیز کو بھی وہاں سے یہاں آنے میں آٹھ منٹ کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

قرآنِ مجید چودہ سو سال پہلے سے انسان کو سورج، چاند اور اس پورے آسمانی نظام کی بناوٹ میں گہرائی سے غور و فکر کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ اللہ رب العزت سورۂ یونس کی لازوال آیت میں ارشاد فرماتا ہے:

﴿هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا﴾

“وہی (اللہ) ہے جس نے سورج کو چمکتا ہوا چراغ (روشن) بنایا اور چاند کو سراپا نور (روشنی) عطا کیا۔” — (سورۃ یونس: 5)

اسی طرح ایک اور جگہ آسمانی اجرام کے اس منظم نظام اور ان کی مقررہ حدود کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سورۂ یٰسین میں فرماتا ہے:

﴿لَا الشَّمْسُ يَنبَغِي لَهَا أَن تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ﴾

“نہ سورج کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ (اپنی حد سے نکل کر) چاند کو جا پکڑے اور نہ ہی رات دن سے پہلے آ سکتی ہے، اور یہ سب کے سب اپنے اپنے مخصوص مدار میں تیر رہے ہیں۔” — (سورۃ یٰسین: 40)

وحیِ الٰہی کی یہ پاک آیات انسان کو کائناتی اجسام کے اس باقاعدہ نظام اور ان کی طے شدہ حرکات کی طرف متوجہ کرتی ہیں۔ آج سائنس جب سورج، روشنی کی رفتار اور ان فلکیاتی فاصلوں کے سچے اصولوں کو سمجھتی ہے، تو ایک سچے محقق کو ان نظاموں کے بنانے والے کی عظمت کا اور زیادہ سچا احساس ہونے لگتا ہے۔

یہ خوبصورت موضوع ہمیں عاجزی کا ایک بہت بڑا اخلاقی سبق بھی دیتا ہے۔ جو چیزیں ہمیں روزمرہ کی زندگی میں بہت عام اور سادہ محسوس ہوتی ہیں، وہ بھی اپنے اندر قدرت کے حیرت انگیز رازوں کا ایک سمندر رکھتی ہیں۔ سورج کی روشنی جسے ہم بس ایک عارضی دھوپ سمجھتے ہیں، وہ دراصل کائنات کے بڑے پھیلاؤ، روشنی کی رفتار کی حدوں اور فلکیاتی دوری کا ایک زندہ اور جاگتا ثبوت ہے۔

انسان دنیاوی مادی طاقت کے زعم میں خود کو کتنا ہی بڑا کیوں نہ سمجھ بیٹھتے، مگر جب وہ خلا کی اس وسعت کو دیکھتا ہے جہاں اس کی پوری زمین ایک ریت کے ذرے سے بھی زیادہ چھوٹی نظر آتی ہے، تو اس کا سارا غرور خاک میں مل جاتا ہے۔ بلاشبہ، سورج کی روشنی کا یہ آٹھ منٹ کا سفر صرف ایک سائنسی حقیقت نہیں ہے، بلکہ یہ تو کائنات کے اصل معمار کی لامتناہی قدرت کا ایک لاجواب مظہر ہے، جس کے بند پردوں کو دریافت کرنا ابھی باقی ہے۔

واللہ اعلم بالصواب۔

حوالہ جات:

ناسا سولر سسٹم ایکسپلوریشن ڈیٹا (NASA)

یورپی اسپیس ایجنسی کائناتی فاصلوں پر رپورٹس (ESA)

انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا — اسپیڈ آف لائٹ (Speed of Light)

ہارورڈ-سمتھسونین سینٹر فار ایسٹروفزکس — سولر فوٹون اسٹڈیز

نیچر ایسٹرونومی پبلیکیشنز — کائناتی فاصلے اور نوری سال کا ارتقاء (Nature)

#سورج_کی_روشنی #کائناتی_فاصلے #روشنی_کی_رفتار #فلکیات #خلائی_سائنس #سائنس_اور_قرآن #اسلام_اور_سائنس #تدبر_قرآن #فوٹونز #وقت_کا_سفر #

Loading