Daily Roshni News

تخلیقِ آدم کا کائناتی مکالمہ: فرشتوں کا استدلال، زمین کا ماضی اور ارادۂ الٰہی کی الٹیمیٹ حکمت!

تخلیقِ آدم کا کائناتی مکالمہ: فرشتوں کا استدلال، زمین کا ماضی اور ارادۂ الٰہی کی الٹیمیٹ حکمت!

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کائنات کی طویل، پراسرار اور اربوں سال پر محیط تاریخ میں ایک لمحہ ایسا آیا جس نے زمین اور آسمان کے تمام پچھلے ضابطوں کو ہمیشہ کے لیے بدل کر رکھ دیا۔

یہ وہ لمحہ تھا جب کائنات کے خالق اور ماسٹر مائنڈ نے ملاءِ اعلیٰ (فرشتوں کی سب سے اونچی اور مقرب محفل) میں اپنا ایک نیا، انوکھا اور عظیم الشان الہامی منصوبہ پیش کیا۔

سورۃ البقرہ کی آیت نمبر 30 اسی کائناتی بساط پر ہونے والے اس عظیم مکالمے کی عکاسی کرتی ہے، جہاں خالقِ کائنات نے فرشتوں کے سامنے اپنا ارادہ ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ

“میں زمین میں ایک خلیفہ (نائب) بنانے والا ہوں”۔

اس اعلان پر فرشتوں کی طرف سے جو ردعمل سامنے آیا، وہ انسانی عقل، فلسفے اور الہیات (Theology) کے طالب علموں کے لیے آج بھی ایک حیرت انگیز فکری دروازہ کھولتا ہے۔

فرشتوں نے انتہائی ادب، حیرت اور ایک سائنسی استفسار کے انداز میں پوچھا کہ کیا تو زمین پر اسے بسائے گا جو اس میں فساد مچائے گا اور خون بہائے گا، حالانکہ ہم تیری حمد کے ساتھ تسبیح اور تیری پاکیزگی بیان کرتے ہیں؟

فرشتوں کا یہ سوال محض کوئی اعتراض نہیں تھا، بلکہ یہ ایک انتہائی گہرا اور کائناتی سطح کا تجزیہ تھا۔ اب یہاں عقلِ انسانی کے پردے پر یہ انتہائی حساس، منطقی اور سائنسی سوال پوری شدت سے ابھرتا ہے کہ جب انسان ابھی تختیِ وجود پر ابھرا ہی نہیں تھا، اس کا کوئی مادی خاکہ تک تیار نہیں ہوا تھا، تو فرشتوں کو اس کے کردار، اس کی خصلتوں، اس کے ہاتھوں ہونے والے فساد اور خون ریزی کا ادراک کیونکر ہو گیا؟

کیا انسان کی تخلیق سے پہلے بھی ان خصلتوں کا کوئی وجود اس کائنات میں یا اس زمین پر موجود تھا؟ اور اگر ایسا تھا، تو اس کی الہامی اور تاریخی حقیقت کیا ہے؟ آج ہم اس پورے واقعے کا خالص علمی، منطقی اور تفاسیر کی مستند روشنی میں ایک ایسا تجزیہ کریں گے جو اس کائناتی پہیلی کے ہر پہلو کو شیشے کی طرح عیاں کر دے گا۔

اس سوال کا سب سے پہلا اور منطقی جواب یہ ہے کہ جی ہاں، انسان کی تخلیق سے پہلے بھی زمین پر فساد اور خون ریزی کی خصلتیں اور ان کے عملی نمونے موجود تھے۔

اس کائنات کی تاریخ صرف اتنی نہیں ہے جتنی ہم انسانوں کو نظر آتی ہے۔ اللہ کی یہ زمین انسان کی آمد سے پہلے کوئی بنجر، ویران یا زندگی سے خالی پتھر کا ٹکڑا نہیں تھی۔

امت کے عظیم ترین مفسرین، جن میں امام محمد بن جریر الطبری، حافظ ابن کثیر، امام قرطبی اور دیگر محققین شامل ہیں، انہوں نے اپنی تفاسیر اور تاریخ کی کتب میں قرآنی آیات اور احادیث کے حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق سے ہزاروں سال قبل اللہ تعالیٰ نے اس زمین پر “جنّات” کو آباد کیا تھا۔

جنات آگ کے شعلے سے پیدا کی گئی ایک ایسی مخلوق تھے جنہیں انسانوں کی طرح “آزادئ ارادہ” (Free Will) اور انتخاب کا اختیار دیا گیا تھا۔ اللہ نے انہیں بھی اس زمین پر ایک امتحان کے لیے بھیجا تھا اور انہیں بھی اچھے اور برے کا شعور عطا کیا گیا تھا۔ لیکن جب انہیں اس زمین کے مادی وسائل اور طاقت ملی، تو انہوں نے اپنے اس آزادئ ارادہ کا بدترین اور بھیانک استعمال کیا۔

انہوں نے زمین پر بے پناہ فساد برپا کیا، ایک دوسرے کے حقوق غصب کیے، حدوں سے تجاوز کیا اور اس قدر خون ریزی کی کہ زمین ان کے مظالم سے کانپ اٹھی۔ ان کی اس سرکشی اور خون ریزی کو روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے لشکر زمین پر بھیجے، جن کی قیادت خود ابلیس (جو اس وقت فرشتوں کا مقرب اور معلم تھا) کر رہا تھا۔

ان فرشتوں نے جنات سے جنگ کی، انہیں مار بھگایا اور انہیں زمین کے دور دراز جزیروں اور پہاڑوں کی غاروں تک محدود کر دیا۔ فرشتوں نے اس زمین پر آزادئ ارادہ رکھنے والی مخلوق کی تباہ کاریوں، ان کے فساد اور ان کے بہائے گئے خون کو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔

لہٰذا، جب اللہ تعالیٰ نے یہ اعلان کیا کہ وہ زمین پر ایک اور مخلوق کو “خلیفہ” بنا کر بھیجنے والا ہے، تو فرشتوں کا شعور فوراً اپنے ماضی کے اس تلخ تجربے کی طرف چلا گیا۔ انہوں نے سوچا کہ اگر اس نئی مخلوق کو بھی جنات کی طرح ارادے کی آزادی اور انتخاب کا حق دیا گیا، تو اس کا انجام بھی اسی فساد اور خون ریزی کی صورت میں نکلے گا جو وہ پہلے اس زمین پر دیکھ چکے تھے۔ فرشتوں کا یہ استدلال ماضی کی تاریخ، تجربے اور زمین پر موجود پچھلی مخلوق کی خون آشام داستان پر مبنی تھا۔

لیکن اس واقعے کی گہرائی صرف جنات کی تاریخ تک محدود نہیں ہے۔ اگر ہم قرآنی الفاظ کے چناؤ اور فرشتوں کی بے مثال عقلی اور منطقی صلاحیتوں پر غور کریں، تو ہمیں ایک اور انتہائی شاندار اور سائنسی پہلو نظر آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے جو لفظ استعمال کیا، وہ محض “مخلوق” یا “انسان” نہیں تھا، بلکہ اللہ نے فرمایا

“اِنِّیۡ جَاعِلٌ فِی الۡاَرۡضِ خَلِیۡفَۃً”

(میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں)۔

عربی زبان کی لغت، فلسفے اور سیاسیات میں “خلیفہ” اس ہستی کو کہا جاتا ہے جو کسی کا نائب ہو، جو اس کے احکامات نافذ کرے، جو زمین پر قانون بنائے، عدل قائم کرے، تنازعات کو حل کرے اور حدود کا نفاذ کرے۔

فرشتوں جیسی اعلیٰ اور شفاف عقل رکھنے والی مخلوق نے محض اس ایک لفظ “خلیفہ” پر غور کر کے اس نئی مخلوق کا پورا بائیولوجیکل اور نفسیاتی ڈی این اے ڈی کوڈ (Decode) کر لیا تھا۔

فرشتوں نے یہ منطقی استدلال قائم کیا کہ قاضی، منصف یا خلیفہ کی ضرورت صرف اسی معاشرے میں پڑتی ہے جہاں ظلم ہونے کا امکان ہو، جہاں لوگوں کے درمیان حقوق کی جنگ ہو، اور جہاں کوئی کسی کا حق مارنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

اگر سب نے فرشتوں کی طرح معصوم ہونا ہے، اگر سب نے صرف سجدے اور تسبیح ہی کرنی ہے، تو پھر وہاں خلیفہ یا جج کی کیا ضرورت ہے؟

عدل اور قانون کا نظام تو وہیں نافذ کیا جاتا ہے جہاں جرائم اور فساد کا وجود ممکن ہو۔ اس لیے، فرشتوں نے اللہ کے لفظ “خلیفہ” سے ہی یہ حتمی اور منطقی نتیجہ اخذ کر لیا کہ یہ جو نئی مخلوق زمین پر جا رہی ہے، اس کی فطرت میں مادیت، خواہشات، غصہ، لالچ اور شہوت رکھی جائے گی، کیونکہ ان خصلتوں کے بغیر تنازعات پیدا نہیں ہوتے، اور تنازعات کے بغیر کسی خلیفہ کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ فرشتوں کا یہ ادراک کمالِ عقل اور کمالِ منطق کا مظہر تھا، انہوں نے کائنات کے خالق کے سامنے کوئی بے ادبی نہیں کی تھی، بلکہ انہوں نے اس ڈیزائن کے مادی اور نفسیاتی نتائج کو ایک فارمولے کی طرح خالق کے سامنے پیش کیا تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ، فرشتوں کے اس ادراک کی ایک تیسری اور انتہائی اہم وجہ اس زمین کی فزکس اور اس کے مادی وسائل کی نوعیت تھی۔

فرشتے کائنات کے انتظام پر مامور ہیں، وہ جانتے ہیں کہ زمین (الارض) ایک مادی اور محدود جگہ ہے۔ زمین پر موجود وسائل، خوراک، پانی، اور رہنے کی جگہ لامحدود نہیں ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے اس نئی مخلوق کا خاکہ مٹی اور گارے سے بنانے کا ارادہ کیا، تو فرشتے یہ بات بخوبی سمجھ گئے کہ جو مخلوق مٹی سے بنے گی، اس کی بقا کا انحصار بھی اسی مٹی سے اگنے والی چیزوں پر ہوگا۔ اسے بھوک لگے گی، اسے پیاس لگے گی، اسے رہنے کے لیے زمین کا ٹکڑا چاہیے ہوگا، اور اسے اپنے خاندان کو بڑھانے کی خواہش ہوگی۔

اور جب زمین کے وسائل محدود ہوں گے اور اس پر بسنے والی اس نئی مخلوق کی خواہشات لامحدود ہوں گی، تو ایک بقا کی جنگ (Struggle for Survival) شروع ہوگی۔ اس جنگ میں ایک انسان دوسرے انسان کا حصہ چھیننے کی کوشش کرے گا، طاقتور کمزور کو دبائے گا، زمین کے ٹکڑوں اور وسائل پر قبضے کی ہوس پیدا ہوگی، اور اس کشمکش کا حتمی نتیجہ لا محالہ ایک دوسرے کا خون بہانے اور فساد پھیلانے کی صورت میں ہی نکلے گا۔

فرشتوں نے انسان کے مادی خمیر (مٹی)، زمین کی محدودیت، اور انسان کے اندر رکھی جانے والی بقا کی جبلت (Survival Instinct) کو ایک مساوات میں رکھا اور یہ درست سائنسی نتیجہ نکالا کہ مادیت اور آزادئ ارادہ کا یہ ملاپ آخر کار خون ریزی پر ہی منتج ہوگا۔

اگر آپ آج کی انسانی تاریخ کو اٹھا کر دیکھ لیں، تو ہابیل اور قابیل کے پہلے قتل سے لے کر آج کی جدید ترین ایٹمی اور عالمی جنگوں تک، انسان نے جو بھی خون بہایا ہے وہ یا تو زمین کے قبضے کے لیے تھا، یا وسائل کے لیے، یا پھر اپنی انا کی تسکین کے لیے تھا۔ فرشتوں کا وہ دعویٰ تاریخ کے ہر موڑ پر سو فیصد سچ ثابت ہوا۔

لیکن اس پورے کائناتی مکالمے کا سب سے دلفریب، طاقتور اور روح پرور حصہ وہ ہے جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اس منطقی، سائنسی اور تاریخی استدلال کا جواب دیا۔

اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو یہ نہیں کہا کہ تمہارا استدلال غلط ہے، اللہ نے یہ نہیں کہا کہ انسان فساد نہیں کرے گا یا خون نہیں بہائے گا۔ اللہ کائنات کا سچا رب ہے، وہ جانتا تھا کہ انسان خون بہائے گا، وہ زمین کو بارود سے بھر دے گا، وہ ظلم کی انتہا کرے گا۔ لیکن اللہ نے فرشتوں کی بات کے جواب میں صرف ایک چھوٹا سا، مگر لامحدود گہرائی والا جملہ ارشاد فرمایا:

“اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ”

(بیشک میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے)۔

یہ جملہ دراصل اس کائنات کا سب سے بڑا راز اور انسان کی تخلیق کا اصل الہامی فلسفہ ہے۔ فرشتوں نے انسان کی تخلیق کے صرف تاریک پہلو (Dark Side) کو دیکھا تھا۔ ان کی نظر انسان کی مادی کمزوریوں، اس کی ہوس اور اس کی تباہ کاریوں پر تھی۔ وہ سوچ رہے تھے کہ اگر مقصد صرف اللہ کی عبادت اور تقدیس ہی ہے، تو وہ تو ہم فرشتے پوری کامل اطاعت اور بغیر کسی گناہ کے کر رہے ہیں، پھر ایک ایسی مخلوق کی کیا ضرورت ہے جو نافرمانی کرے؟

اللہ تعالیٰ کے اس جواب “میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے” میں انسانیت کی وہ معراج چھپی ہے جس تک فرشتوں کی نورانی عقل بھی نہیں پہنچ سکتی تھی۔

اللہ تعالیٰ فرشتوں کو یہ بتا رہا تھا کہ تمہاری عبادت، تمہاری تسبیح اور تمہاری پاکیزگی بے شک اپنی جگہ کامل ہے، لیکن تمہاری یہ اطاعت تمہاری فطرت میں پروگرام کر دی گئی ہے۔ تم گناہ کر ہی نہیں سکتے، تمہارے اندر بھوک، پیاس، لالچ اور شہوت نام کی کوئی چیز رکھی ہی نہیں گئی، تمہارے لیے میری نافرمانی کرنا ناممکن ہے۔

جب کوئی گناہ کرنے کی صلاحیت ہی نہ رکھتا ہو، تو اس کی اطاعت اس کا کمال نہیں ہوتی، بلکہ وہ تو اس کی مجبوری اور اس کی بناوٹ ہوتی ہے۔ لیکن میں جس انسان کو مٹی سے پیدا کر رہا ہوں، میں اس کے اندر غصہ بھی رکھوں گا اور معاف کرنے کی صفت بھی، میں اسے لالچ بھی دوں گا اور سخاوت کا جذبہ بھی، میں اسے دنیا کی رنگینیاں بھی دوش بدوش رکھ کر دوں گا اور اپنے جہنم کا خوف بھی۔

یہ انسان وہ ہوگا جو گناہ کرنے کی، خون بہانے کی اور فساد کرنے کی پوری پوری صلاحیت، طاقت اور اختیار رکھتا ہوگا، لیکن اس سب کے باوجود، جب یہ اپنے نفس کو کچل کر، اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر، رات کے اندھیرے میں اپنے گرم بستر کو چھوڑ کر میرے سامنے سجدے میں گرے گا، تو اس کے اس اختیار والے سجدے کی قیمت فرشتوں کی کروڑوں سال کی اس عبادت سے زیادہ ہوگی جو بغیر اختیار کے کی گئی ہے۔

اللہ جانتا تھا کہ اسی مٹی کے خمیر میں سے جہاں فرعون، نمرود، ہٹلر اور چنگیز خان جیسے ظالم اور خون آشام درندے پیدا ہوں گے جو دنیا کو فساد سے بھر دیں گے، وہیں اسی مٹی سے ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور محمدِ عربی صلی اللہ علیہ وسلم جیسے الہامی تاجدار بھی جنم لیں گے جن کی ایک سانس پر کائنات کے فرشتے قربان کیے جا سکتے ہیں۔

فرشتوں کو انسان کے ہاتھوں گرنے والے خون کے قطرے تو نظر آ گئے تھے، لیکن انہیں کربلا کے تپتے ہوئے صحرا میں حسین ابن علی  رض کے اس سجدے کا علم نہیں تھا جس نے کائنات کے اصولوں کو نئی زندگی بخشنی تھی۔

انہیں ان راتوں کا علم نہیں تھا جب اللہ کے ولی، اس کے نیک بندے تنہائی میں اپنے گناہوں پر روتے ہوئے اپنے رب کو پکاریں گے۔

انہیں ابوبکر کی صداقت، عمر کے عدل، عثمان کی حیا اور علی کی شجاعت کا کوئی ادراک نہیں تھا۔

کائنات کا رب جانتا تھا کہ انسان کا یہ شعوری ارتقاء، علمِ اسماء (چیزوں کے نام اور حقیقتیں جاننے کی صلاحیت) اور اپنی مرضی سے اپنے رب کو چننے کا عمل، اس قدر عظیم، خوبصورت اور کائناتی ہے کہ اس کی خاطر زمین پر ہونے والے انفرادی اور اجتماعی فساد کی قیمت ادا کی جا سکتی ہے۔

اس پورے واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ فرشتوں کا سوال قطعی طور پر درست اور مبنی بر حقیقت تھا۔ انسان نے زمین پر آنے کے بعد وہ سب کچھ کیا جس کا فرشتوں کو خدشہ تھا۔

انسان کی خصلتوں کی جڑیں اس زمین کی مادی ساخت اور اس پر موجود وسائل کی کشمکش میں چھپی ہوئی تھیں۔ لیکن کائنات کے ماسٹر مائنڈ نے اس خاک کے پتلے میں اپنی روح پھونک کر اسے وہ شعور، وہ محبت، وہ علم اور وہ ظرف عطا کر دیا جو کائنات کی کسی اور مخلوق کے پاس نہیں تھا۔

ہم انسان زمین پر اللہ کے محض کوئی مسافر نہیں ہیں، ہم اس کائنات میں اس کے نائب ہیں، اس کے خلیفہ ہیں، اور ہمارے کاندھوں پر وہ بارِ امانت ہے جسے اٹھانے سے آسمانوں اور پہاڑوں نے بھی انکار کر دیا تھا۔

آج اکیسویں صدی کے اس دور میں، جب انسان اپنی ٹیکنالوجی اور ہوس کی وجہ سے ایک بار پھر اس زمین کو فساد اور خون ریزی سے بھر رہا ہے، ہمیں رک کر اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کرنا چاہیے کہ کیا ہم فرشتوں کے اس خدشے کو سچ ثابت کر رہے ہیں، یا اللہ تعالیٰ کے اس فخر کی لاج رکھ رہے ہیں جب اس نے فرشتوں کے سامنے ہم پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ

“میں وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے”؟

فیصلہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہے کہ ہم مٹی کی پستیوں میں گر کر فسادی بنتے ہیں، یا اپنی روح کو پروان چڑھا کر کائنات کے امام بنتے ہیں۔

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

Loading