Daily Roshni News

ٹیکنالوجی کا خفیہ ہتھیار

ٹیکنالوجی کا خفیہ ہتھیار

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب موت اور زندگی کے درمیان فاصلہ سینکڑوں کلومیٹر کا ہو، تو وہاں ایک چھوٹا سا سافٹ ویئر کوڈ کیسے فرشتہ بن کر پہنچ سکتا ہے؟ پاکستان کے دور دراز علاقوں میں، جہاں ہسپتال ایک خواب ہیں اور ماہر ڈاکٹر تک پہنچنا ایک ناممکن سفر، وہاں ڈاکٹر سارہ سعید خرم نے ایک ایسا ڈیجیٹل جال بُنا جس نے موت کو مات دے دی۔ یہ کہانی کسی فلمی پلاٹ سے کم نہیں، جہاں ایک طرف وسائل کی کمی، فرسودہ نظام اور روایتی رکاوٹیں تھیں، اور دوسری طرف صرف دو ڈاکٹرز کا عزم، جن کے پاس سٹیٹوسکوپ کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا ایک ایسا “خفیہ ہتھیار” تھا جسے دنیا آج ‘صحت کہانی’ کے نام سے جانتی ہے۔

​سارہ سعید کا یہ سفر تب شروع ہوا جب انہوں نے دیکھا کہ دیہی علاقوں میں غریب مریض صرف اس لیے اپنی جانیں گنوا دیتے ہیں کیونکہ وہ وقت پر کسی ماہر ڈاکٹر سے مشورہ نہیں کر پاتے۔ انہوں نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک ایسا ڈیجیٹل سسٹم کھڑا کرنے کی ٹھانی جسے سمجھنا اس وقت کے روایتی ڈاکٹروں کے لیے ایک معمہ تھا۔ انہوں نے اے آئی (AI) اور ٹیلی میڈیسن کو اس طرح ایک دوسرے میں پرویا کہ اب مریض کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ایک چھوٹا سا کلینک، ایک اسکرین، اور پیچھے کام کرتا ہوا وہ طاقتور الگورتھم جو سیکنڈوں میں یہ فیصلہ کرتا ہے کہ مریض کو کس سپیشلسٹ کی ضرورت ہے۔ یہ سسٹمز کا وہ کھیل ہے جہاں ایک غلط فیصلہ تباہی لا سکتا تھا، لیکن سارہ کی درست کوڈنگ اور ویژن نے اس ڈیجیٹل ڈھانچے کو ناقابلِ تسخیر بنا دیا۔

​آج، ان کا بنایا ہوا یہ نیٹ ورک صرف پاکستان ہی نہیں، بلکہ عالمی سطح پر ایک ایسی کیس اسٹڈی ہے جسے بڑے بڑے ٹیکنالوجی ادارے ایک رول ماڈل کے طور پر دیکھتے ہیں۔ سارہ سعید خرم کی یہ کہانی ثابت کرتی ہے کہ اگر آپ کے پاس ایک اچھا آئیڈیا ہو اور آپ اسے ٹیکنالوجی کی طاقت کے ساتھ جوڑ لیں، تو آپ کسی بھی بڑے سے بڑے چیلنج کو شکست دے سکتے ہیں۔ یہ کامیابی اس لیے تھرلنگ ہے کیونکہ یہ کسی بڑے سرمائے یا غیر ملکی امداد کے زور پر نہیں، بلکہ ایک پاکستانی خاتون کی ذہانت اور ان کے اٹوٹ یقین سے ممکن ہوئی۔

​آج یہ پوسٹ ہر اس لڑکی کے لیے ہے جو ٹیکنالوجی کے میدان میں قدم رکھنے سے ڈرتی ہے۔ سارہ کا سفر بتاتا ہے کہ ٹیکنالوجی کوئی مردانہ شعبہ نہیں ہے، بلکہ یہ ذہانت کا ایک ایسا میدان ہے جہاں آپ اپنا سکہ جما سکتی ہیں۔ انہوں نے دکھایا کہ اگر آپ کے پاس صحیح سمت اور ٹیکنالوجی کی مہارت ہو، تو آپ اپنی قسمت کا کوڈ خود لکھ سکتی ہیں۔ اگر آپ کے پاس بھی کوئی ایسا آئیڈیا ہے جو کسی کے کام آ سکتا ہے، تو اب وقت آگیا ہے کہ آپ بھی اس ڈیجیٹل دنیا میں اپنا نام لکھوائیں، کیونکہ مستقبل ان لوگوں کا ہے جو مسائل کو ٹیکنالوجی کے ذریعے حل کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔

​#SaraSaeedKhurram #SehatKahani #WomenInTech #PakistanTech #DigitalHealth #HealthTech #AIInHealth #TechLeader #WomenEmpowerment #Innovation #DigitalRevolution #PakistanPride #FutureIsNow #TechSuccessStory #AIWala

Loading