تذکرہ قلندر با با اولیاء
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)3. تعارف:ابدالِ حق، سلسلہ اویسیہ عظیمیہ کے بانی مبانی، رسالہ ”روحانی ڈائجسٹ“ کے روحِ رواں مرشدنا و سیدنا حسن اخریٰ محمد عظیم برخیاؒ کے حالاتِ زندگی کا ذکرِ جمیل پیش کرنے سے قبل، ہم آپ کے نامِ نامی اسمِ گرامی پر روشنی ڈالیں گے تاکہ قارئین حضور بابا صاحبؒ کے مقام اور مرتبۂ ولایت کو پہچان لیں۔
حضور بابا صاحبؒ کا پورا اسمِ گرامی:
حسن اخریٰ سید محمد عظیم برخیاؔ
المعروف: حضور قلندر بابا اولیاءؒ
حسن اخریٰ: حضور بابا صاحبؒ کا خطاب ہے۔ یہ خطاب بطریقِ اویسیہ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہِ اقدس سے عطا ہوا ہے اور بارگاہِ رسول ﷺ میں ان ہی مقدس کلمات سے حضور باباجیؒ مخاطب فرمائے جاتے ہیں۔
محمد عظیم: حضور بابا جیؒ کی پیدائش کے بعد رکھا گیا۔ آپ نجیب الطرفین سادات میں سے ہیں اور آپ کا خاندانی سلسلہ حضرت امام حسن عسکریؑ سے جا ملتا ہے، اس لیے آپ سید کہلاتے ہیں۔
برخیاؔ: آپ کا تخلّص ہے۔ تکمیلِ وابستگیِ شوقِ شعر و سخن کے لیے حضور بابا صاحبؒ نے برخیاؔ کا تخلص اختیار کیا تھا۔
قلندر بابا اولیاءؒ: حضور بابا صاحبؒ کا عرف ہے۔ مرتبۂ قلندریت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہونے کی وجہ سے ملائکہِ ارضی و سماوی اور حاملانِ عرش میں ”قلندر بابا اولیاءؒ“ کے نام سے مشہور ہیں اور یہی عرفیت عامۃ الناس میں زبان زدِ عام ہے۔
جائے پیدائش
حضور قلندر بابا اولیاءؒ 1898ء میں قصبہ خورجہ، ضلع بلند شہر، یو پی (بھارت) میں پیدا ہوئے۔
تعلیم و تربیت
قلندر بابا اولیاءؒ نے قرآنِ پاک اور ابتدائی تعلیم محلے کے مکتب میں حاصل کی۔ کہتے ہیں کہ ”ہونہار بروا کے پات چکنے ہوتے ہیں“ (یا ہونہار پوت کے پاؤں پالنے میں نظر آجاتے ہیں)۔ چنانچہ قلندر بابا اولیاءؒ بچپن ہی سے انتہائی ذہین، باادب، خلیق اور ملنسار تھے اور اچھے برے کی تمیز رکھتے تھے۔ پڑھنے کے وقت نہایت توجہ سے پڑھتے اور ساتھیوں کے ساتھ محبت و سلوک سے پیش آتے تھے۔
قلندر بابا اولیاءؒ نے ابتدائی تعلیم خورجہ میں حاصل کرنے کے بعد ہائی اسکول تک بلند شہر میں پڑھا اور پھر انٹر (Inter) میں داخلہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیا۔
روحانی تربیت
علی گڑھ میں قیام کے دوران آپ کی طبیعت میں درویشی کی طرف میلان بہت زیادہ بڑھ گیا اور وہاں مولانا کابلیؒ کے پاس قبرستان کے حجرے میں زیادہ وقت گزارنے لگے۔ صبح تشریف لے جاتے اور رات گئے واپس آتے۔ اسی اثناء میں قلندر بابا اولیاءؒ اپنے نانا بابا تاج الدین ناگپوریؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ناناؒ نے انھیں وہاں روک لیا۔ قلندر بابا اولیاءؒ کے والد صاحب کو جب یہ پتہ چلا تو وہ ناگپور تشریف لے گئے اور بابا تاج الدینؒ صاحب سے عرض کیا کہ اس کی تعلیم نامکمل رہ جائے گی، اسے واپس علی گڑھ بھیج دیجیے۔ استادوں کے استاد، واقفِ اسرار و رموز، حاملِ علمِ لدنی بابا تاج الدینؒ نے فرمایا کہ اس کو اگر اس سے زیادہ پڑھایا گیا جتنا یہ اب تک پڑھ چکا ہے تو یہ میرے کام کا نہیں رہے گا۔ قلندر باباؒ کے والد صاحب نے ایک مشفق باپ کی طرح بیٹے کو سمجھایا اور جب دیکھا کہ بیٹے کا میلانِ طبع فقر کی طرف مائل ہے تو انھوں نے یہ کہہ کر: ”بیٹے! تم خود سمجھ دار ہو، جس طرح سے چاہو اپنا مستقبل تعمیر کرو“، انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا۔
قلندر بابا اولیاءؒ اپنے نانا تاج الدین اولیاءؒ کے پاس نو سال تک مقیم رہے۔ نو سال کے عرصے میں بابا تاج الدینؒ نے ان کی روحانی تربیت فرمائی۔ تربیت کے زمانے کے بے شمار واقعات میں سے چند واقعات کا تذکرہ اور اس کی علمی توجیہ ابدالِ حق قلندر بابا اولیاءؒ نے کتاب ”تذکرہ تاج الدین باباؒ“ میں فرمائی ہے۔
درونِ خانہ
”کلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ“ کے مصداق، تربیت کے اسی زمانے میں حضور بابا صاحبؒ کی والدہ ماجدہ سعیدہ بی بی چار بیٹیوں اور دو بیٹوں کو چھوڑ کر عالمِ بقا میں تشریف لے گئیں۔ حضور بابا صاحبؒ کی ایک ہمشیرہ کے علاوہ سب بچے بابا صاحبؒ سے چھوٹے تھے اور ان میں سے کوئی بھی سنِ شعور کو نہیں پہنچا تھا۔ قلندر بابا اولیاءؒ اپنے بہن بھائیوں کی تربیت میں کمر بستہ ہو گئے؛ اور بچیوں کی تربیت کے سلسلے میں دقت پیش آئی تو بابا تاج الدین ناگپوریؒ کے ارشاد کے مطابق ان کے ایک عقیدت مند کی صاحبزادی سے دہلی میں آپ کی شادی ہوئی۔
تقسیمِ ہند کے بعد حضور قلندر بابا اولیاءؒ مع اہل و عیال، والد اور بہن بھائیوں کے ساتھ کراچی تشریف لے آئے۔ کراچی میں لی مارکیٹ کے محلے میں ایک نہایت خستہ و بوسیدہ مکان کرائے پر لیا۔ کچھ عرصے کے بعد خان بہادر عبد اللطیف (کمشنر بحالیات / Rehabilitation Commissioner) جو حضور بابا تاج الدین ناگپوریؒ کے عقیدت مند تھے، نے حضور بابا صاحبؒ سے عرض کیا کہ ایک درخواست لکھ کر دے دیجیے تاکہ آپ کے لیے کوئی اچھا سا مکان الاٹ (Allot) کر دیا جائے۔ حضور بابا صاحبؒ نے خان بہادر کی درخواست پر توجہ نہیں دی اور اسی مکان میں رہتے رہے۔
قلندر باباؒ نے زندگی میں کبھی صابن سے ہاتھ نہیں دھوئے۔ گرم پانی سے ہاتھ دھو کر تولیے سے صاف کر لیا کرتے تھے۔ ہاتھ دھونے میں کافی وقت صرف ہو جاتا تھا، جب تک ہاتھ میں لگی چکنائی دور نہیں ہو جاتی تھی، ہاتھ دھوتے رہتے تھے۔ روزمرہ استعمال کی چیزوں کی ایک جگہ مقرر تھی؛ کوئی چیز جگہ سے بے جگہ ہو جاتی تو طبیعت پر گراں گزرتی۔
ایک دور ایسا بھی آیا کہ حضور قلندر بابا اولیاءؒ پر جذب و مستی اور عالمِ استغراق کا غلبہ ہو گیا۔ اکثر اوقات خاموش رہتے اور گاہے گاہے گفتگو بھی بے ربط ہو جایا کرتی تھی، لیکن جذب و کیفیت کی یہ مدت زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہتی تھی۔
علمِ لدنی کی تعلیم کے دوران اور اس کے بعد بھی حضور بابا صاحبؒ ڈھائی تین گھنٹے سے زیادہ کبھی نہیں سوئے۔ نیند پر ان کو پوری طرح غلبہ اور دسترس حاصل تھی۔ غذا کے معاملے میں بہت زیادہ محتاط تھے۔ چوبیس گھنٹے میں زیادہ سے زیادہ دو چپاتی اور کبھی ایک چپاتی تناول فرمایا کرتے۔
روزگار
شادی کے بعد حضور بابا صاحبؒ دہلی میں قیام پذیر ہو گئے۔ سلسلۂ معاش قائم رکھنے کے لیے مختلف رسائل و جرائد کی صحافت اور شعراء کے دیوانوں کی اصلاح و ترتیب کا کام اپنے لیے منتخب کیا۔ شب میں شہر کے شعراء و ادباء کی محفلیں جمتیں اور دن کے وقت ان کے پاس صوفی منش لوگ آتے اور تصوف پر سیر حاصل گفتگو اور تبصرے ہوتے۔ آپ کے شاعرانہ ادبی مشوروں سے شعراء مستفید ہوتے اور اہلِ ذوق حضرات آپ کی صحبتِ صالحہ سے مشرف و بامراد ہوتے تھے۔
حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے کراچی میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد ذریعۂ معاش کا یہ طریقہ اختیار کیا کہ لارنس روڈ کے فٹ پاتھ پر روزانہ صبح جا کر بیٹھ جاتے تھے اور بجلی کے فیوز (Fuse) وغیرہ لگا کر اپنی زندگی بسر کرتے۔ رفتہ رفتہ جب لوگوں کو کراچی میں ان کی آمد کی اطلاع ہوئی تو وہ روزنامہ ”اردو ڈان“ میں سب ایڈیٹر (Sub-Editor) کے عہدے پر فائز ہو گئے۔ اس کے بعد ایک عرصے تک رسالہ ”نقاد“ میں کام کرتے رہے۔ کچھ رسالوں کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے اور کئی مشہور کہانیوں کے سلسلے بھی قلمبند کیے جو دوسروں کے نام سے چھپتے رہے۔ سلسلہ وار کہانیوں سے متعلق ایک کتاب بھی زیورِ طبع سے آراستہ ہوئی اور عوام میں اتنی مقبول ہوئی کہ اس کے بے شمار ایڈیشن شائع ہوئے۔
بیعت
1956ء میں سلسلۂ سہروردیہ کے بزرگ قطبِ ارشاد حضرت ابو الفيض قلندر علی سہروردیؒ کراچی تشریف لائے۔ حضور بابا صاحبؒ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بیعت حاصل کرنے کی درخواست پیش کی۔ حضرت ابو الفيض قلندر علی سہروردیؒ نے فرمایا کہ رات کو تین بجے آؤ۔ سخت سردی کا عالم تھا کہ حضور بابا صاحبؒ گرینڈ ہوٹل، میکلوڈ روڈ کی سیڑھیوں پر رات کے دو بجے جا کر بیٹھ گئے اور ٹھیک تین بجے سہروردی بزرگؒ نے دروازہ کھولا اور اندر بلا لیا۔ سامنے بٹھا کر حضور بابا صاحبؒ کی پیشانیِ مبارک پر تین پھونکیں ماریں۔ پہلی پھونک میں عالمِ ارواح منکشف ہو گیا، دوسری پھونک میں عالمِ ملکوت و جبروت سامنے آ گیا اور تیسری پھونک میں حضور بابا صاحبؒ نے عرشِ معلیٰ کا مشاہدہ کیا۔
مقامِ ولایت
حضرت ابو الفيض قلندر علی سہروردیؒ نے قطبِ ارشاد کی تعلیمات تین ہفتے میں پوری کر کے خلافت عطا فرما دی۔
اس کے بعد حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ رحمتہ اللہ علیہ کی روحِ پرفتوح نے حضور بابا صاحبؒ کی روحانی تعلیم شروع کی اور پھر یہ سلسلہ یہاں تک پہنچا کہ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہِ راست علمِ لدنی عطا فرمایا اور سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہمت اور نسبت کے ساتھ بارگاہِ رب العزت میں پیشی ہوئی اور اسرار و رموز کا علم حاصل ہوا۔
اس زمانے میں حضور بابا صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے مسلسل دس رات اور دس دن شب بیداری کی اور تہجد کی نوافل میں کئی کئی سو مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھی۔
۱ حضرت قلندر علی سہروردیؒ کا مزار شریف لاہور (ہنجروال) میں واقع ہے۔
جن بزرگوں کی ارواحِ طیبات اور جن سلسلوں سے حضور قلندر بابا اولیاءؒ کو نسبتِ اویسیہ کے تحت فیض حاصل ہوا ہے، ان کی تفصیل دیے گئے نقشے ”نسبتِ فیضان“ میں بیان کی گئی ہے۔
![]()

