Daily Roshni News

حقیقی بیعت کیا ہوتی ہے؟

حقیقی بیعت کیا ہوتی ہے؟
پارٹ 2

کیونکہ معرفت کی دو بنیادی اقسام ہے

1حقیقی معرفت

2.جعلی معرفت

جعلی معرفت مزید دو حصوں میں تقسیم ہے

ایسے جعلی لوگ جنہوں نے کسی کامل مرشد کی کوئی کتاب پڑھی

یا کسی حقیقی ولی کے پاس چند دن بیٹھ کر کچھ باتیں سیکھ لی

یا باپ دادا پیر تھے تو گدی نشین ہو گے

لیکن انکو حقیقی experience نہیں ہے

دوسرے جعلی لوگ جو سوچ خیال و تصور میں رہتے ہیں

کوئی نیلی پیلی روشنی میں لگا ہے۔

کوئی کسی خیال و تصور میں لگا ہے۔

جن میں کوئی دل کی دھڑکن پر اللہ اللہ سوچ و خیال کر رہا ہے

کوئی اسم لکھ رہا ہے

بھائی- اگر آپ ج کو سوچوں و خیال کرو گے تو ج لکھا جائے گا

لیکن یہ حقیقت نہیں

یہ تو تم سوچ رہے ہو

ایسے لوگ کبھی تخلیق کائنات کے زیرو پوائنٹ سے نہیں گزرے

اور نہ ان لوگوں نے کائنات کے زیرو پوائنٹ سے گزر کر کلمہ لا ا لہ الا اللہ کو قائم کیا

ان لوگوں کو حقیقی معرفت کا علم نہیں ہے۔

ایک خاتون سلوا حسین (Salwa Hussain) وہ برطانوی خاتون ہیں جن کا دل جسم سے باہر تھا اور وہ مصنوعی دل کے ساتھ ہسپتال سے گھر واپس آئی تھیں

اب اگر اس خاتون کو دل کی دھڑکنوں پر اللہ اللہ کرنا ہو تو کیسے کرے گی ۔

یا اسکو اپنے دل پر اللہ لکھنا ہو تو کیسے لکھے گی۔

جبکہ حقیقت میں قلب سے مراد سنٹر آف وزڈم ہے۔

یعنی مرکزہ عقل۔

وہ شعور کا پوائنٹ جہاں سے خیالات و سوچ پیدا ہوتی ہے ۔

اس سنںٹر آف وزڈم / مرکزہ عقل پر اللہ پاک کے حقیقی نور کو قائم کرنا ہوتا ہے ۔

نہ کہ سوچوں و خیالوں میں ۔

اسی وجہ سے کتنے لوگ روحانیت کا دعوی تو کرتے ہیں لیکن صفر ہوتے ہیں۔

ایسے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو دعوی تو روحانی ہونے کا کرتے ہیں لیکن صفر ہوتے ہیں۔

حتی کہ کچھ لوگ انڈیا کے ست گرو یا راوی شنکرا سے متاثر دکھائی دیتے ہیں۔

لیکن شاید انکو پتہ ہی نہیں کہ ست گرو و راوی شنکرا بت و پتھروں پر دودھ بہاتے اور ہاتھ باندھے نظر آتے ہیں۔

ست گرو کی ایک مشق جس میں اپنے طالب علموں کو کہتا ہے کہ مشق کریں

میں جسم نہیں۔

میں مائنڈ نہیں

ارے ۔

تم تو خود اپنے طالب علموں کو سوچ و تصوروں میں ڈال رہے ہو۔

اسی طرح کچھ مشقیں ہیں جن میں Who am I پر توجہ کروائی جاتی ہے۔

اس میں پرابلم یہ ہے کہ آپکا شعور مٹی کے جسم کا جانتا ہے تو وہ کیا خاک نور ازل کا تصور کرے گا

اسی طرح کچھ لوگ ٹیلی پیتھی و مسمریزم یا ہپناٹزم کو بہت اعلی سمجھتے ہیں ۔

ان مشقوں میں شعور کو سلایا جاتا ہے

ان تمام کا حقیقی روحانیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یہ تمام جعل سازی و پکھنڈ ہے۔

روحانی ماسٹر سید ظہیر حسین شاہ

قائم مقام سربراہ کل حقیقی سلاسل عالیہ

اگر آپ حقیقی روحانیت سیکھنا چاہتے ہیں جس میں کوئی تصور و خیال نہ ہو اور بس حقیقت خود بخود سامنے آئے تو اپنا واٹس ایپ نمبر کمنٹ کریں آپ کو مرشد کامل روحانی ماسٹر سید ظہیر حسین شاہ صاحب کی جانب سے ہدایات و تفصیلات بھیج دی جائیں گی۔

ہدایات و تفصیلات میں آپ کو مرشد حضور کی کتاب عرفانِ خودی عرفانِ خدا کی فری پی ڈی ایف بھیجی جائے گی۔

اس کتاب مراقبہ و روحانیت کے بارے میں حقیقی تفصیلات لکھی گئی ہیں کیونکہ یہ مرشد کامل روحانی ماسٹر سید ظہیر حسین شاہ صاحب کا اپنا ذاتی و روحانی سفر ہے۔

اور کچھ پیغامات ہوں گے۔

📢 اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں تاکہ حقیقی علم سب تک پہنچ جائے۔

شکریہ

Loading