*ترکیے میں 15 جولائی 2016 کی ناکام بغاوت کی دسویں برسی، یومِ جمہوریت اور قومی اتحاد منایا گیا..*
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ۔۔۔نمائندہ خصوصی۔۔۔ سید رضوان حیدر بخاری)ترکیے بھر میں 15 جولائی 2016 کی ناکام فوجی بغاوت کی دسویں برسی انتہائی عقیدت اور قومی و ملی جذبے کے ساتھ منائی گئی ۔
یہ دن یومِ جمہوریت اور قومی اتحاد کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ اُن 253 شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا جا سکے جنہوں نے جمہوریت کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، خون بہایا، جبکہ اس رات دو ہزار سات سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔
15 جولائی 2016 کی رات ترک مسلح افواج کے ایک گروہ نے منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی گئی اور اپنی ہی فوج نے اپنے ہی لوگوں پر بارود برسایا۔
بغاوت کے دوران انقرہ کی فضاؤں میں جنگی طیارے پرواز کرتے رہے، استنبول کے پلوں اور سڑکوں پر ٹینک تعینات کیے گئے، جبکہ ترک پارلیمنٹ سمیت کئی اہم سرکاری عمارتوں پر بمباری کی گئی۔
اسی دوران صدر رجب طیب ایردوان نے ایک براہِ راست ویڈیو پیغام کے ذریعے عوام سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر نکل کر جمہوریت کا دفاع کریں۔
صدر کی اپیل پر لاکھوں شہری گھروں سے باہر نکل آئے اور ٹینکوں کے سامنے سینہ سپر ہو کر منتخب حکومت کا ساتھ دیا۔
16 جولائی کی صبح تک بغاوت ناکام بنا دی گئی اور ملک میں آئینی نظام بحال ہو گیا۔
ترک حکومت اس بغاوت کا ذمہ دار فتح اللہ گولن دہشت گرد تنظیم، یعنی فیٹو (FETÖ) کو قرار دیتی ہے، جس کی قیادت فتح اللہ گولن کر رہے تھے۔ ترکیے نے اس تنظیم کو دہشت گرد قرار دیا ہے، اگرچہ تمام ممالک اس درجہ بندی سے متفق نہیں ہیں۔
اس سال ان تاریخی واقعات کو گزرے دس سال مکمل ہو گئے ہیں۔
ترکیے بھر میں مختلف تقاریب، یادگاری اجتماعات، قرآن خوانی، دعائیہ محافل، تصویری نمائشوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا ۔
استنبول کے 15 جولائی شہداء یادگار اور انقرہ میں صدارتی محل سمیت مختلف مقامات پر اعلیٰ حکام، شہداء کے اہلِ خانہ اور شہریوں نے پھول رکھ کر شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
روایت کے مطابق رات 12 بج کر 13 منٹ پر ملک بھر کی مساجد میں اذانیں بھی گونجیں، جو اس تاریخی رات قوم کے اتحاد اور بیداری کی علامت سمجھی جاتی ہے۔
سرکاری عمارتوں، شاہراہوں اور عوامی مقامات پر ترکیہ کے قومی پرچم آویزاں کیے گئے، جبکہ ملک بھر میں جمہوریت، قومی یکجہتی اور آئینی نظام کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی پروگرام بھی منعقد کیے گئے۔
صدر رجب طیب ایردوان نے اپنے پیغام میں کہا کہ ترکیے اپنے جمہوری اداروں، قومی خودمختاری اور عوامی حاکمیت کے تحفظ کے عزم پر قائم رہے گا اور 15 جولائی کے شہداء کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
دس برس بعد بھی ترکیے اس رات کو اپنی جدید تاریخ کے ایک اہم موڑ کے طور پر یاد کرتا ہے، جہاں عوام نے متحد ہو کر جمہوریت اور آئینی نظام کے دفاع کے لیے غیر معمولی قربانیاں دیں۔
![]()











