Daily Roshni News

تمہارا رب کون ہے؟

تمہارا رب کون ہے؟

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )توحید: صرف ایک عقیدہ نہیں، زندگی کی سمت

کبھی آپ نے خود سے یہ سوال کیا ہے: “میں اللہ کو مانتا تو ہوں… لیکن کیا میری زندگی واقعی اللہ کے لیے ہے؟”یہ سوال بظاہر بہت آسان ہے، مگر اگر انسان اس کا جواب پوری سچائی سے دے تو شاید اسے اپنی زندگی کے کئی فیصلے دوبارہ دیکھنے پڑیں۔

ہم اللہ کو مانتے ہیں۔

اس کی عبادت بھی کرتے ہیں۔

اس سے دعا بھی مانگتے ہیں۔

لیکن پھر کبھی لوگوں کی خوشی کے لیے فیصلے کرتے ہیں، کبھی رزق کے خوف سے حق چھوڑ دیتے ہیں، کبھی مستقبل کی فکر میں اللہ پر اعتماد کھو دیتے ہیں، اور کبھی اپنی خواہش کو اتنی اہمیت دے دیتے ہیں کہ اللہ کا حکم پیچھے رہ جاتا ہے۔

یہیں سے توحید کا اصل سوال شروع ہوتا ہے۔

مکہ کا ماحول: مسئلہ اللہ کے وجود کا نہیں تھا

سورۃ الانعام ایک ایسے ماحول میں نازل ہوئی جہاں بہت سے لوگ اللہ کو خالق مانتے تھے، مگر عبادت اور اختیار میں دوسروں کو بھی شریک کرتے تھے۔

وہ اللہ کو مانتے تھے، لیکن اللہ کی حاکمیت کو اپنی زندگی کے ہر شعبے میں قبول نہیں کرتے تھے۔

یہ بات آج کے انسان کے لیے بھی بہت اہم ہے۔

کیونکہ شرک ہمیشہ کسی پتھر کے بت کے سامنے جھکنے کا نام نہیں۔

کبھی انسان اپنی خواہش کا غلام بن جاتا ہے۔

کبھی مال اس کے دل کا سب سے بڑا سہارا بن جاتا ہے۔

کبھی لوگوں کی رائے اللہ کی رضا سے زیادہ اہم ہو جاتی ہے۔

کبھی انسان زبان سے کہتا ہے:

“اللہ سب سے بڑا ہے”

لیکن فیصلہ کرتے وقت دنیا سب سے بڑی بن جاتی ہے۔

یہی وہ مقام ہے جہاں قرآن انسان کو صرف معلومات نہیں دیتا، بلکہ اسے اپنے اندر جھانکنے پر مجبور کرتا ہے۔

آغاز ہی اللہ سے

سورۃ الانعام کے آغاز میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

«الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ۖ ثُمَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ»

سادہ ترجمہ:

سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور اندھیروں اور روشنی کو بنایا، پھر بھی کافر لوگ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہراتے ہیں۔

یہ آیت ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے رکھتی ہے:

جس نے سب کچھ پیدا کیا، انسان کبھی کبھی اسی کے ساتھ دوسروں کو برابر کیسے کر دیتا ہے؟

یہ صرف بت پرستی کا مسئلہ نہیں۔

یہ انسانی ذہن کا مسئلہ ہے۔

انسان اپنی آنکھوں کے سامنے موجود چیزوں سے جلد متاثر ہوتا ہے۔

جو چیز دکھائی دے، اس پر زیادہ بھروسا کرنے لگتا ہے۔

جو شخص طاقتور نظر آئے، اس سے زیادہ ڈرنے لگتا ہے۔

جو چیز فوری فائدہ دے، اسے زیادہ اہم سمجھنے لگتا ہے۔

مگر اللہ نظر نہیں آتا، اس لیے انسان کبھی کبھی اس حقیقت کو بھولنے لگتا ہے کہ اصل اختیار اسی کے پاس ہے۔

آج کے انسان کے بت کیسے ہیں؟

ذرا رک کر سوچیں۔

آپ کے سامنے کوئی بت نہیں رکھا۔

آپ کسی بت کو سجدہ نہیں کرتے۔

لیکن کیا آپ کے دل میں کوئی ایسی چیز ہے جس کے سامنے آپ حق کو قربان کر دیتے ہیں؟

لوگ کیا کہیں گے؟

میرا کاروبار متاثر نہ ہو جائے۔

میری شہرت خراب نہ ہو جائے۔

مجھے نقصان نہ اٹھانا پڑے۔

میری خواہش پوری ہونی چاہیے۔

یہ سب چیزیں اپنی جگہ حلال یا جائز ہو سکتی ہیں، لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب یہ اللہ کی رضا سے زیادہ اہم ہو جائیں۔

یہاں توحید ہمیں اندر سے درست کرتی ہے۔

توحید کا مطلب صرف یہ نہیں کہ اللہ ایک ہے

اللہ ایک ہے۔

وہی خالق ہے۔

وہی مالک ہے۔

وہی رازق ہے۔

وہی حقیقی معبود ہے۔

لیکن توحید کا عملی مطلب یہ بھی ہے کہ:

میرے خوف کا آخری مرکز اللہ ہو۔

میری امید کا آخری مرکز اللہ ہو۔

میری محبت کا سب سے بلند مقام اللہ کے لیے ہو۔

میرے فیصلوں کا آخری معیار اللہ کی رضا ہو۔

تب انسان کی زندگی کا مرکز بدل جاتا ہے۔

پہلے سوال ہوتا ہے:

“لوگ کیا کہیں گے؟”

پھر سوال بنتا ہے:

“اللہ کیا پسند کرے گا؟”

پہلے انسان پوچھتا ہے:

“مجھے کیا ملے گا؟”

پھر وہ پوچھتا ہے:

“اللہ مجھ سے کیا چاہتا ہے؟”

یہی توحید کا اثر ہے۔

انسان کا سب سے بڑا اندرونی تضاد

ہم میں سے بہت سے لوگ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، مگر ہمارے اندر دو دنیا ایک ساتھ چل رہی ہوتی ہیں۔

ایک طرف ایمان کہتا ہے:

اللہ میرے لیے کافی ہے۔

دوسری طرف خوف کہتا ہے:

اگر یہ شخص میرے ساتھ نہ رہا تو میں کیا کروں گا؟

ایمان کہتا ہے:

رزق اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

دل کہتا ہے:

اگر میری آمدنی کم ہوگئی تو سب ختم ہو جائے گا۔

ایمان کہتا ہے:

آخرت ہمیشہ کی زندگی ہے۔

خواہش کہتی ہے:

پہلے دنیا حاصل کر لو، آخرت بعد میں دیکھیں گے۔

یہ اندرونی کشمکش انسانی زندگی کا بڑا امتحان ہے۔

اور قرآن ہمیں اس کشمکش سے فرار نہیں سکھاتا۔

وہ ہمیں اپنے دل کو دوبارہ اللہ کے مرکز پر رکھنے کی دعوت دیتا ہے۔

فکری وضاحت: خالق اور مخلوق ایک کیسے ہو سکتے ہیں؟

سورۃ الانعام انسان کو کائنات کی طرف دیکھنے کے لیے کہتی ہے۔

آسمان کس نے بنایا؟

زمین کس نے بنائی؟

روشنی کس نے پیدا کی؟

زندگی کس نے دی؟

موت کس کے اختیار میں ہے؟

رزق کہاں سے آتا ہے؟

انسان خود کو وجود میں نہیں لایا۔

وہ اپنے دل کی دھڑکن کا بھی مکمل مالک نہیں۔

وہ ایک لمحے میں طاقتور سے بے بس ہو سکتا ہے۔

پھر وہ کس بنیاد پر اپنے آپ کو خود مختار سمجھتا ہے؟

جو خود پیدا ہوا ہو، وہ خود اپنا رب کیسے ہو سکتا ہے؟

یہی توحید کی فکری بنیاد ہے۔

انسان کو اپنی حقیقت پہچاننی ہوگی۔

ہم مالک نہیں ہیں۔

ہم امانت دار ہیں۔

ہمیں اختیار دیا گیا ہے، مگر اختیار کا مالک نہیں بنایا گیا۔

خیر اور شر کا پہلا فیصلہ

جب انسان اللہ کو اپنا رب مان لیتا ہے تو خیر اور شر کا معیار بھی بدل جاتا ہے۔

پھر خیر وہ نہیں رہتی جو صرف مجھے فائدہ دے۔

اور شر وہ نہیں رہتا جو صرف مجھے نقصان پہنچائے۔

خیر وہ ہے جسے اللہ خیر قرار دے۔

ممکن ہے سچ بولنے سے وقتی نقصان ہو، مگر وہ خیر ہو۔

ممکن ہے حرام چھوڑنے سے وقتی مالی نقصان ہو، مگر وہ خیر ہو۔

ممکن ہے کسی خواہش کو اللہ کے لیے چھوڑنا مشکل ہو، مگر اسی میں اصل کامیابی چھپی ہو۔

دوسری طرف:

کوئی چیز بظاہر بہت خوبصورت ہو سکتی ہے، مگر اگر وہ اللہ سے دور کر رہی ہے تو اس کی چمک دھوکا بھی ہو سکتی ہے۔

ہر آسان راستہ کامیابی کی طرف نہیں جاتا۔

اور

ہر مشکل راستہ نقصان کی طرف نہیں لے جاتا۔

نیت اور عمل: توحید دل سے ہاتھ تک کیسے پہنچتی ہے؟

توحید صرف زبان کا جملہ نہیں۔

اگر دل میں اللہ کی عظمت ہے تو اس کا اثر عمل میں نظر آئے گا۔

آپ تنہائی میں کیا کرتے ہیں؟

جب کوئی دیکھ نہیں رہا تو آپ کا فیصلہ کیا ہوتا ہے؟

جب گناہ آسان ہو اور پکڑے جانے کا کوئی خوف نہ ہو، تب آپ کس سے ڈرتے ہیں؟

یہیں نیت اور عمل کا اصل امتحان ہوتا ہے۔

لوگوں کے سامنے نیک بننا آسان ہے۔

اللہ کے لیے نیک رہنا اصل کامیابی ہے۔

کیونکہ انسان لوگوں کی آنکھ سے بچ سکتا ہے، مگر اللہ کی نظر سے نہیں۔

دنیا یا آخرت؟

دنیا ہمیں فوری نتیجہ دکھاتی ہے۔

آخرت ہمیں آخری نتیجہ دکھائے گی۔

دنیا کہتی ہے:

“ابھی فائدہ اٹھاؤ۔”

قرآن کہتا ہے:

“انجام کو دیکھو۔”

دنیا کہتی ہے:

“جو تمہیں خوش کرے، وہ کر لو۔”

ہدایت کہتی ہے:

“جو اللہ کو راضی کرے، اسے اختیار کرو۔”

دنیا کہتی ہے:

“لوگ تمہیں کامیاب سمجھیں۔”

ایمان کہتا ہے:

“اللہ تمہیں کامیاب قرار دے۔”

فرق بہت بڑا ہے۔

کیونکہ دنیا کا فیصلہ چند سالوں کا ہے۔

اللہ کا فیصلہ ہمیشہ کے لیے ہے۔

ذرا اپنے دل سے پوچھیں

کیا آپ نے کبھی ایسا فیصلہ کیا جس میں آپ جانتے تھے کہ صحیح کیا ہے، مگر لوگوں کے خوف سے صحیح راستہ اختیار نہ کر سکے؟

کیا کبھی آپ نے اللہ کی رضا کو جانتے ہوئے اپنی خواہش کو ترجیح دی؟

کیا کبھی ایسا ہوا کہ مصیبت میں آپ نے اللہ کو یاد کیا، مگر آسانی میں اسی اللہ کو بھول گئے؟

اگر ایسا ہوا ہے تو مایوس نہ ہوں۔

کیونکہ قرآن آپ کو رسوا کرنے نہیں آیا۔

قرآن آپ کو جگانے آیا ہے۔

اصل تبدیلی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟

توحید کا سفر باہر سے نہیں، اندر سے شروع ہوتا ہے۔

آپ کو پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ آپ کے دل میں سب سے زیادہ خوف کس کا ہے۔

سب سے زیادہ امید کس سے ہے۔

سب سے زیادہ محبت کس سے ہے۔

فیصلے کرتے وقت سب سے زیادہ کس کی رضا اہم ہوتی ہے۔

یہ سوال آپ کو بتا دیں گے کہ آپ کے دل کا حقیقی مرکز کیا ہے۔

اور اگر جواب کمزور ہے تو یہ اختتام نہیں۔

یہ آغاز ہے۔

اللہ کی طرف ایک قدم بڑھانے کا آغاز۔

تدبر کا سوال

آج رات چند لمحے تنہائی میں بیٹھ کر خود سے صرف ایک سوال کریں:

“اگر مجھے یقین ہو جائے کہ اللہ ہی میرے لیے کافی ہے، تو میری زندگی کا کون سا فیصلہ فوراً بدل جائے گا؟”

جو جواب دل میں آئے، اسے نظرانداز نہ کریں۔

ممکن ہے وہی جگہ ہو جہاں قرآن آپ سے بات کر رہا ہے۔

اختتام: رب کو پہچاننے کے بعد زندگی بدل جاتی ہے

انسان ساری زندگی بہت کچھ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

مال۔

عہدہ۔

شہرت۔

لوگوں کی محبت۔

اپنی خواہشوں کی تکمیل۔

لیکن آخرکار اسے ایک حقیقت کے سامنے کھڑا ہونا ہے:

میں کس کا تھا؟

میں کس کے لیے جیا؟

اور کس کے پاس واپس جا رہا ہوں؟

توحید ہمیں یہ جواب دیتی ہے:

میں اللہ کا ہوں۔

میری زندگی اللہ کی امانت ہے۔

میرا انجام اللہ کے پاس ہے۔

جب یہ حقیقت دل میں اتر جاتی ہے تو انسان دنیا سے بھاگتا نہیں، بلکہ دنیا میں رہ کر دنیا کا غلام بننے سے بچ جاتا ہے۔

وہ کام کرتا ہے، مگر رزق کو اپنا مالک نہیں سمجھتا۔

لوگوں سے محبت کرتا ہے، مگر ان کی رضا کو اللہ کی رضا پر مقدم نہیں کرتا۔

مشکل سے گزرتا ہے، مگر امید نہیں چھوڑتا۔

اور جب دنیا کے دروازے بند ہوتے ہیں تو وہ جانتا ہے:

ایک دروازہ ہمیشہ کھلا ہے—اللہ کا دروازہ۔

یہی توحید کی طاقت ہے۔

جس دل نے اپنے رب کو پہچان لیا، وہ دنیا کے سہاروں کا محتاج نہیں رہتا۔

اور شاید یہی سورۃ الانعام کا پہلا بڑا پیغام ہے:

اللہ کو صرف مانیں نہیں…

اللہ کو پہچانیں۔

پھر دیکھیں، آپ کی سوچ، آپ کے فیصلے اور آپ کی پوری زندگی کیسے بدلتی ہے۔

اگلی قسط:

“کائنات خاموش نہیں، گواہی دے رہی ہے”

اگلی قسط میں ہم دیکھیں گے کہ قرآن انسان کو آسمان، زمین، روشنی اور تاریکی کی طرف کیوں متوجہ کرتا ہے—اور ایک ایسی حقیقت کیسے واضح کرتا ہے جسے آنکھ دیکھ سکتی ہے مگر دل اکثر نظرانداز کر دیتا ہے۔

Loading