وادیِ حیرت
معانی کے پوشیدہ جہان
حصہ سوم: سفرِ درونِ جاں
قسط 06: چوتھا اور پانچواں بطن
سفرِ باطن جب ابتدائی مدارج اور معنوی لطائف سے آگے بڑھتا ہے، تو سالک کا قدم ایک ایسے مقام پر آ پہنچتا ہے جہاں مادی دنیا کے تمام پیرائے، عقل کی وضع کردہ تمام منطقیں اور الفاظ کے روایتی سانچے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ یہی تصوف اور معرفت کی زبان میں “وادیِ حیرت” کا مقام ہے۔
یہاں قرآنِ حکیم کے انوار کا نزول دل پر اس شدت اور صفائی سے ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی تمام تر کتابی تحصیل اور عقلِ ظاہری کے عجز کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں علمِ ظاہر کی روشنی دھندلا جاتی ہے اور صرف “علمِ لدنی” کی وہ شمع جلتی ہے جو غیب کے پردوں کے پیچھے مستور حقائق کو روشن کرتی ہے۔
سرکارِ دو عالم ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں جب ذاتِ الٰہی کے غیبی اسرار کا تذکرہ ہوتا، تو آپ اکثر یہ جامع دعا مانگتے:
اللَّهُمَّ زِدْنِي فِيكَ تَحَيُّراً (اے اللہ اپنی ذات اور صفات کے مشاہدے میں میری حیرت کو اور بڑھا دے)۔
یہ حیرت جہالت یا شک و شبہے کی حیرت نہیں، بلکہ یہ تجلیاتِ الٰہی کے بے پناہ انوار کو دیکھ کر عقلِ انسانی کا مبہوت اور ششدر رہ جانا ہے، جیسے قطرہ سمندر کے سامنے اپنی حقیقت بھول جائے۔ یہی وہ وادی ہے جہاں پہنچ کر قرآنِ مجید کے چوتھے اور پانچویں بطن کے دروازے سالکِ راہِ طریقت پر وا ہوتے ہیں۔
اس دقیق اور ماورائے عقل مقام کو ایک لطیف تمثیل کے ذریعے سمجھیے۔
ایک شخص جو صرف رات کی تاریکی میں دیے کی روشنی کا عادی ہو، وہ دیے کی روشنی میں چیزوں کو ناپتا اور دیکھتا ہے۔ لیکن اگر اسے اچانک دوپہر کے چمکتے ہوئے سورج کے سامنے کھڑا کر دیا جائے، تو سورج کی بے پناہ روشنی کی وجہ سے اس کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں اور وہ کچھ بولنے کے قابل نہیں رہتا۔
یہاں روشنی کا نہ ہونا اندھیرا نہیں، بلکہ “روشنی کی شدت” ہی اس کی حیرت اور خاموشی کا سبب بنتی ہے۔
بعینہٖ، قرآنِ پاک کے چوتھے اور پانچویں بطن پر جب انوارِ الٰہی کا سورج چمکتا ہے، تو الفاظ اور لغوی تعبیرات ختم ہو جاتی ہیں اور باطن میں صرف ایک بے ساختہ سجدہ اور حیرت باقی رہ جاتی ہے۔
چوتھا بطن: مقامِ سر اور افعالِ ربانی کا مشاہدہ (مقامِ حیرت و تسلیم)
قرآنِ مجید کا چوتھا بطن وہ عالمِ سر ہے جہاں سالک کائنات کے تمام حوادث، تغیرات، خوشی و غمی، اور نفع و نقصان کے ظاہری اسباب سے پردہ اٹھتا دیکھتا ہے۔ یہاں قاری آیاتِ قرآنی کو پڑھتے ہوئے اس حقیقت کا عین مشاہدہ کرتا ہے کہ کائنات میں کوئی حرکت اور کوئی سکون اللہ تعالیٰ کے “فعل” اور اس کے “امر” کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
جب چوتھے بطن کا عارف قرآنی آیت پڑھتا ہے.
وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ
اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی، تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی تھی.
سورۃ الانفال، آیت 17
تو اس کی نظر ظاہری ہاتھ یا مٹی کی مٹھی پر نہیں رکتی۔ وہ دیکھتا ہے کہ بظاہر کام انسان کے ہاتھ سے ہو رہا ہے، مگر اس کے اندر کارفرما ہاتھ اور قدرت صرف اور صرف ربِ ذوالجلال کی ہے۔
حجۃ الاسلام امام محمد غزالی علیہ الرحمہ “مشکاۃ الانوار” میں فرماتے ہیں کہ چوتھے بطن کا سالک اس درجے پر پہنچ جاتا ہے جہاں اسے کائنات کی ہر شے اپنے وجود کی نفی کرتی اور صرف صانعِ حقیقی کے وجود اور اس کے فعل کا اعلان کرتی نظر آتی ہے۔ یہاں پہنچ کر عقلِ حسی کا یہ اعتراض ختم ہو جاتا ہے کہ “یہ کیوں ہوا اور وہ کیوں نہ ہوا؟” کیونکہ سالک کو ہر حادثے کے پیچھے اللہ کی حکمتِ بالغہ کا جلوہ صاف دکھائی دیتا ہے، اور شکایت کی جگہ تسلیم و رضا لے لیتی ہے۔
پانچواں بطن: مقامِ روح اور تجلیِ ذات (مقامِ محو و استغراق)
اگر چوتھا بطن افعالِ ربانی کا مشاہدہ ہے، تو قرآنِ مجید کا پانچواں بطن صفات سے گزر کر “ذاتِ الٰہی” کے انوار میں استغراق اور محو ہو جانے کا مقام ہے۔ یہ قرآن کا وہ باطنی درجہ ہے جسے صوفیائے کرام “عالمِ روح” اور “فنا فی کلام اللہ” سے تعبیر کرتے ہیں۔
یہاں پہنچ کر جب سالک قرآن کی یہ آیت سنتا یا پڑھتا ہے.
كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ
ہر شے فنا ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے.
سورۃ القصص، آیت 88
تو وہ اسے مستقبل میں ہونے والا کوئی واقعہ نہیں مانتا، بلکہ وہ اسی لمحے کائنات کی ہر شے کو عدم سے وجود میں اور وجود سے فنا کی طرف جاتے ہوئے دیکھتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ سوائے ذاتِ باری تعالیٰ کے، باقی تمام کائنات کا وجود ایک سائے کی مانند ہے جس کی اپنی کوئی مستقل حقیقت نہیں۔
تصوف کے امام، سیدنا جنید بغدادی علیہ الرحمہ سے جب اس باطنی استغراق کی حالت کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا.
جب پانچویں بطن کا نور سالک کے دل پر گرتا ہے، تو کلام اور متکلم کے درمیان تمام مادی فاصلے مٹ جاتے ہیں۔ انسان قرآن پڑھتا نہیں، بلکہ خود کلامِ الٰہی کا آلہ بن جاتا ہے۔ اس مقام پر عقل گونگی ہو جاتی ہے، زبان عاجز ہو جاتی ہے، اور انسان کا وجود وحدتِ الٰہی کے سمندر میں تنکے کی طرح بہنے لگتا ہے۔
سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ “فتوح الغیب” میں اس گہرے راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے فرماتے ہیں.
جب تم پانچویں بطن کے مقامِ روح پر پہنچتے ہو، تو تم سے تمہاری ‘خودی’ چھین لی جاتی ہے۔ تم اپنے نفع و نقصان، اپنی خواہشات اور اپنے علمی تکبر سے بالکل فارغ ہو جاتے ہو۔ اس وقت تمہیں قرآن کا وہ علمِ لدنی عطا کیا جاتا ہے جو نہ کسی قلم نے لکھا اور نہ کسی کاغذ پر منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں صرف سکوت اور تسلیم ہی انسان کا واحد اوڑھنا بچھونا ہوتا ہے۔
شیخِ اکبر ابنِ عربی علیہ الرحمہ اس فکری ارتقا کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ پانچویں بطن کا طالب وہ ہے جو الفاظ کی کثرت سے نکل کر “معنیِ واحد” تک پہنچ گیا ہو۔
اس کے لیے پورا قرآن، سورتوں سے لے کر آیات تک، اور آیات سے لے کر ایک ایک حرف تک، صرف ایک ہی بات کا ترجمان بن جاتا ہے. “اللہ اور صرف اللہ”
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باہو علیہ الرحمہ اپنے بے مثال کلام میں اسی وادیِ حیرت اور پانچویں بطن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں.
الف اللہ چنبے دی بوٹی، مرشد من وچ لائی ھو
نفی اثبات دا پانی ملیا، ہر رگے ہر جائی ھو
اندر بوٹی مشک مچایا، جاں پھل پر آئی ھو
جیوے مرشد کامل باہو، جیں اہو بوٹی لائی ھو
آپ فرماتے ہیں کہ جب توحید کا یہ پودا (الف اللہ) مرشدِ کامل کے فیض سے دل کے اندر جڑ پکڑ لیتا ہے، اور جب نفی (لا الٰہ) اور اثبات (الا اللہ) کے پانی سے اس کی آبیاری ہوتی ہے، تو انسان کا اندرون الٰہی خوشبو اور حیرت انگیز معارف سے مہک اٹھتا ہے۔ یہی وہ پانچواں بطن ہے جہاں انسان کا روم روم ذکرِ خداوندی اور خشیتِ الٰہی کا مرکز بن جاتا ہے۔
پس ثابت ہوا کہ قرآنِ مجید کا چوتھا اور پانچواں بطن انسان کو ظاہر کی پرپیچ گلیوں سے نکال کر باطن کی اس کشادہ شاہراہ پر لے آتا ہے جہاں شائبۂ شرک بالکل ختم ہو جاتی ہے اور صرف اور صرف ذاتِ احدیت کی یکتائی اور عظمت کا راج ہوتا ہے۔
وادیِ حیرت کے اس فیض کو حاصل کرنے کے لیے اپنے اندر “سکوتِ قلب” اور “تسلیمِ مطلق” کی مشق کریں۔ دن میں کم از کم ایک بار، تنہائی کے کچھ لمحات میں بیٹھ کر کائنات کے تمام شور اور اپنے خیالات کی بھیڑ کو خاموش کریں۔
دل ہی دل میں قرآنِ پاک کی آیت “وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَمَا كُنتُمْ” کا تصور کریں اور یہ محسوس کریں کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بے پناہ تجلیات اور اس کی حضوری کے احاطے میں ہیں۔ اس کے بعد زبان سے کوئی لفظ ادا کیے بغیر، صرف دل کے دباؤ اور عاجزی سے بارگاہِ الٰہی میں عرض کریں: “اے میرے رب مجھے اپنی ذات کی وہ سچی حیرت اور معرفت عطا کر جو مجھے میرے نفس کی قید سے آزاد کر کے تیرے قرب تک پہنچا دے۔”
آمین یا رب العالمین
#Khaak_e_rawan
![]()

