Daily Roshni News

کوہِ البرز کا ناقابلِ تسخیر قلعہ، خاموش دراندازی اور 3000 دینار کا ریاستی الٹی میٹم (483 ہجری / 1090 عیسوی)

کوہِ البرز کا ناقابلِ تسخیر قلعہ، خاموش دراندازی اور 3000 دینار کا ریاستی الٹی میٹم (483 ہجری / 1090 عیسوی)

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )شمالی ایران کے سنگلاخ پہاڑی سلسلے ‘البرز’ میں سطح سمندر سے 6,000 فٹ کی بلندی پر ایک قلعہ واقع تھا، جسے ‘الموت’ (عقاب کا گھونسلا) کہا جاتا تھا۔ اس قلعے پر سلجوقی سلطنت کا ایک علوی کمانڈر، ‘مہدی’ مقرر تھا۔ ایک صبح مہدی نے محسوس کیا کہ قلعے کی سیکیورٹی پر مامور محافظ اس کے احکامات ماننے سے انکاری ہیں اور پوری گیریژن (Garrison) کی وفاداریاں تبدیل ہو چکی ہیں۔

مہدی فوراً قلعے کے اندر مقیم ایک خاموش طبع اور زاہدانہ خدوخال والے سکول ٹیچر کے پاس گیا، جو کچھ عرصہ قبل ‘دہخدا’ کے فرضی نام سے قلعے میں داخل ہوا تھا۔ اس ٹیچر نے مہدی کی آنکھوں میں دیکھا اور اپنا فرضی روپ ہٹا دیا۔ وہ کوئی عام استاد نہیں، بلکہ سلجوقی سلطنت کا سب سے مطلوب انٹیلی جنس ماسٹر مائنڈ، حسن بن صباح تھا۔

حسن نے کوئی تلوار نہیں نکالی، نہ خون کا ایک قطرہ بہایا۔ اس نے خالصتاً نفسیاتی اور فکری دراندازی (Ideological Infiltration) کے ذریعے سلجوقی فوجیوں کو برین واش کر کے اپنے کنٹرول میں کر لیا تھا۔ اس نے مہدی کے ہاتھ میں ایک تحریری پروانہ (Draft) تھمایا، جس پر دامغان کے ایک امیر رئیس (مظفر مستوفی) کے نام 3,000 طلائی دینار ادا کرنے کا حکم درج تھا، اور مہدی کو بحفاظت قلعے سے باہر نکال دیا۔ دنیا کی سب سے طاقتور سلجوقی سلطنت کا مضبوط ترین قلعہ بغیر کسی جنگ کے فتح ہو چکا تھا۔ یہیں سے تاریخِ اسلام کی اس سب سے پراسرار، سفاک اور متوازی ریاست کا آغاز ہوا، جس نے ‘غیر متوازی جنگ’ (Asymmetric Warfare) کی بنیاد رکھی اور جس کے انڈر کور ایجنٹوں نے مشرقِ وسطیٰ کے طاقتور ترین حکمرانوں کو ان کے بیڈ رومز کے اندر نشانہ بنایا۔

حسن بن صباح کی پیدائش 1050 عیسوی کی دہائی میں قُم (موجودہ ایران) میں ایک اثنا عشری شیعہ خاندان میں ہوئی۔ اوائل عمری میں ہی وہ ‘رے’ (Rayy) منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے ریاضی، فلکیات اور فلسفے کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ جسمانی خدوخال کے اعتبار سے مستند دستاویزی خاکے انہیں ایک انتہائی سخت گیر، دراز قد اور گہری، کاٹ دار نگاہوں والے شخص کے طور پر بیان کرتے ہیں جس کے چہرے پر ہمیشہ ایک سرد اور بیوروکریٹک متانت طاری رہتی تھی۔

رے میں ان کی ملاقات فاطمی داعیوں (مشنریز) سے ہوئی، جس کے بعد انہوں نے اسماعیلی عقیدہ اختیار کر لیا۔ 471 ہجری (1078 عیسوی) میں وہ اعلیٰ انٹیلی جنس اور نظریاتی تربیت کے لیے فاطمی سلطنت کے دارالحکومت، قاہرہ پہنچے۔ وہاں ان کی ملاقات فاطمی خلیفہ ‘المستنصر باللہ’ سے ہوئی۔ لیکن مصری دربار اس وقت ایک عسکری ڈکٹیٹر اور آرمی چیف، ‘بدر الجمالی’ کے کنٹرول میں تھا۔

جب خلافت کی جانشینی پر سیاسی تنازع کھڑا ہوا، تو حسن نے خلیفہ کے بڑے بیٹے ‘نزار’ کی حمایت کی۔ بدر الجمالی نے اس سیاسی مداخلت پر حسن کو گرفتار کر کے مصر سے جلاوطن کر دیا۔ ایک بحری جہاز کے حادثے اور طویل روپوشی کے بعد، حسن بن صباح واپس اصفہان (سلجوقی سلطنت کے مرکز) پہنچ گئے، لیکن اب وہ فاطمی خلافت کے بجائے اپنی ایک متوازی ‘نزاری’ ریاست قائم کرنے کا خاکہ بنا چکے تھے۔

ایران واپس آ کر حسن بن صباح نے زمینی حقائق کا ایک بے رحم عسکری تجزیہ کیا۔ سلجوقی سلطنت کے پاس دسیوں ہزار بھاری زرہ پوش ترکمان کیولری (Cavalry) تھی جو کھلے میدانِ جنگ میں کسی بھی بغاوت کو کچلنے کی صلاحیت رکھتی تھی۔

حسن نے کھلی جنگ لڑنے کے بجائے ایک نئی اور ہولناک عسکری ڈاکٹرائن متعارف کروائی: ‘ٹارگٹڈ ایلیمینیشن’ (Targeted Assassination)۔ ان کا ٹھوس نظریہ یہ تھا کہ ہزاروں فوجیوں کو مارنے کے بجائے ریاست کے ‘دماغ’ (وزیر، جرنیل، اور سلاطین) کو نشانہ بنایا جائے۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک انتہائی منظم، برین واشڈ اور بے خوف ملٹری ونگ تیار کیا جسے ‘فدائین’ (Assassins) کہا جاتا تھا۔

یہ فدائین دشمن کے کیمپوں میں تاجروں، صوفیوں اور فقیروں کے روپ میں سلیپر سیلز (Sleeper Cells) بنا کر سالوں تک انٹیلی جنس جمع کرتے، اور پھر ایک انتہائی قریبی وار (عموماً زہر آلود خنجر سے) کر کے اپنے ہدف کو ہلاک کر دیتے۔ وار کرنے کے بعد وہ فرار ہونے کی کوشش نہیں کرتے تھے، بلکہ موقع پر ہی گرفتاری اور موت کو گلے لگا لیتے تھے۔

قلعہ الموت پر قبضے کے بعد حسن بن صباح نے اسے ایک خود کفیل فوجی چھاؤنی میں تبدیل کر دیا۔ وہاں پانی کی نہریں بنائی گئیں، زراعت شروع کی گئی اور ایک وسیع ریاستی لائبریری قائم کی گئی۔

ان کے اس نیٹ ورک کا پہلا اور سب سے بڑا ہدف سلجوقی سلطنت کا طاقتور ترین وزیرِ اعظم، نظام الملک طوسی تھا۔ اکتوبر 1092 عیسوی میں، نہاوند کے مقام پر سلجوقی کیمپ لگا ہوا تھا۔ ایک فدائی نے صوفی کا بھیس بدلا، نظام الملک کی پالکی کے قریب پہنچا اور ایک زہر آلود خنجر اس کے سینے میں اتار دیا۔

نظام الملک کی موت نے پوری سلجوقی بیوروکریسی اور فوج کو مفلوج کر دیا۔ اس واقعے کے محض ایک ماہ بعد سلطان ملک شاہ کا بھی پراسرار حالات میں انتقال ہو گیا، اور پوری سلجوقی سلطنت ایک ہولناک خانہ جنگی کا شکار ہو گئی۔ حسن بن صباح کے ایک خنجر کے وار نے وہ کام کر دیا جو ایک لاکھ کی منظم فوج نہیں کر سکتی تھی۔

حسن بن صباح کی ریاست کی بنیاد کسی جذبے یا خاندانی لگاؤ پر نہیں، بلکہ انتہائی سفاکانہ اور اندھے قانون (Blind Law) پر تھی۔ وہ اپنے قریبی ساتھیوں اور اپنے خون کو بھی کوئی رعایت دینے کے قائل نہیں تھے۔ ان کی اس سرد مہری اور ریاستی کنٹرول کا ثبوت ان کے دو سگے بیٹوں کے قتل سے ملتا ہے:

محمد بن حسن: اس نے قلعے کے اندر شراب نوشی کی، جو الموت کے سخت عسکری قانون کی کھلی خلاف ورزی تھی۔ حسن بن صباح نے کسی خاندانی مصلحت کے بغیر، قانون کے عین مطابق اپنے ہی سگے بیٹے کو سزائے موت دے دی۔

استاد حسین: اس پر قلعے کے ایک اہم داعی (حسین قائنی) کے قتل کا الزام لگا۔ شواہد اس کے خلاف تھے۔ حسن بن صباح نے فوری طور پر اس کا سر قلم کروا دیا۔ (تاریخ میں بعد ازاں ثابت ہوا کہ یہ الزام جھوٹا تھا، لیکن اس وقت جو ٹھوس شواہد پیش کیے گئے، حسن نے اسی بنیاد پر ریاست کی رٹ قائم رکھی)۔

جب نیا سلجوقی سلطان، سنجر بن ملک شاہ تخت نشین ہوا، تو اس نے الموت کے گرد گھیرا تنگ کرنے اور حسن بن صباح کو ختم کرنے کے لیے ایک بھاری فوجی مہم کی تیاری شروع کی۔

حسن نے کھلی جنگ کے بجائے ایک خالصتاً نفسیاتی آپریشن (Psy-Op) کی چال چلی۔ اس نے سلطان سنجر کے انتہائی قریبی اور نجی خادم (ایک خواجہ سرا) کو بھاری رشوت دے کر اپنا ایجنٹ بنا لیا۔ ایک صبح جب سلطان سنجر اپنے سخت پہرے والے شاہی خیمے میں بیدار ہوا، تو اس نے دیکھا کہ اس کے سر سے چند انچ کے فاصلے پر زمین میں ایک تیز دھار خنجر گڑا ہوا ہے، اور اس کے ساتھ ایک رقعہ (نوٹ) نتھی ہے۔

اس پر لکھا تھا: “اگر میں تمہاری خیر خواہی نہ چاہتا، تو یہ خنجر جو سخت زمین میں اترا ہے، تمہارے نرم سینے میں اتارا جا سکتا تھا۔”

اس انٹیلی جنس رسائی اور ہولناک نفسیاتی وار نے سلطان سنجر کے اعصاب توڑ دیے۔ اس نے فوراً فوجی مہم منسوخ کی اور حسن بن صباح کے ساتھ باقاعدہ ایک امن معاہدہ (Peace Treaty) کر لیا، جس کے تحت قلعہ الموت کی متوازی ریاست کو عملی طور پر تسلیم کر لیا گیا اور انہیں ٹیکس جمع کرنے کی اجازت مل گئی۔

قلعہ الموت پر قبضہ کرنے کے بعد سے لے کر اپنی موت تک، یعنی پورے 35 سال، حسن بن صباح کبھی قلعے سے باہر نہیں نکلا۔ وہ اپنے ایک چھوٹے سے حجرے میں محصور رہا، جہاں سے وہ پوری دنیا میں اپنے جاسوسوں، فدائین اور داعیوں کا نیٹ ورک کنٹرول کرتا تھا۔ وہ اپنا زیادہ تر وقت مطالعے، ریاستی مسودات کی تیاری، اور پیچیدہ فلکیاتی اور ریاضیاتی حسابات میں گزارتا تھا۔

مئی 1124 عیسوی (518 ہجری) میں ایک مختصر بیماری کے بعد اس کا انتقال ہوا۔ مرنے سے پہلے، اس نے خاندانی جانشینی کے بجائے خالص میرٹ اور بیوروکریٹک اصول کے تحت اپنے سب سے قابل کمانڈر، ‘کیا بزرگ امید’ (Kiya Buzurg Ummid) کو الموت کی ریاست کا نیا سربراہ مقرر کیا۔ حسن بن صباح تاریخ کا وہ واحد غیر ریاستی کردار (Non-State Actor) ہے جس نے قلعوں کی دیواروں کے پیچھے بیٹھ کر، بغیر کسی بڑی فوج کے، محض انٹیلی جنس اور ‘ٹارگٹڈ کلنگ’ کے ذریعے نصف صدی تک مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کو اپنے کنٹرول میں رکھا۔

تاریخی سوال:

کیا کسی بھی کمزور گروہ کے لیے بھاری ریگولر آرمی کا مقابلہ کرنے کے لیے حسن بن صباح کی متعارف کردہ ‘غیر متوازی جنگ’ (Asymmetric Warfare / Targeted Assassination) ایک جائز اور ناگزیر عسکری حکمتِ عملی ہے، یا یہ ریاستوں کے ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر کے صرف ایک لاقانونیت (Anarchy) کو جنم دیتی ہے؟ ٹھوس تاریخی حوالوں کے ساتھ کمنٹس میں بحث کریں۔

تاریخی حوالہ جات:

تاريخ جہانگشای — عطاء ملک جوینی (Tarikh-i Jahangushay — Ata-Malik Juvayni) – قلعہ الموت اور نزاری اسماعیلی تاریخ کا بنیادی ترین اور مستند ماخذ

جامع التواریخ (تاریخ اسماعیلیہ) — رشید الدین فضل اللہ ہمدانی (Jami al-Tawarikh — Rashid al-Din Hamadani)

زبدۃ التواریخ — ابوالقاسم کاشانی (Zubdat al-Tawarikh — Abu al-Qasim Kashani)

الکامل فی التاریخ — ابن الاثیر (Al-Kamil fi al-Tarikh — Ibn al-Athir)

سیرتِ حسن بن صباح (سرگزشتِ سیدنا — مفقود تاریخی متن جو جوینی نے الموت کے کتب خانے سے نقل کیا)

دی اسماعیلیز ان مڈیول مسلم سوسائٹیز — فرہاد دفتری (The Isma’ilis in Medieval Muslim Societies — Farhad Daftary)

دی ارڈر آف اسیسنز — مارشل ہوڈگسن (The Order of Assassins — Marshall G. S. Hodgson)

دی اسیسنز: اے ریڈیکل سیکٹ ان اسلام — برنارڈ لوئس (The Assassins: A Radical Sect in Islam — Bernard Lewis)

اگر آپ سلطنت سلجوقیہ کےسب سے خطرناک شخص حسن بن صباح  کی پوری کہانی اینیمیشن میں دیکھنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ 👇

Hassan ibn Sabbah Animated Documentary:

https://www.facebook.com/reel/791456834004024

Loading