Daily Roshni News

تھکن اب نہیں!۔۔چند تدابیر سے اس پر قابو پایا  جا سکتا ہے۔

تھکن اب نہیں!

چند تدابیر سے اس پر قابو پایا  جا سکتا ہے۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ عام سی بات ہے کہ کام کے دوران ہم تھکن محسوس کرنے لگیں۔ جیسے نیند آتی ہے، بھوک لگتی ہے ویسے ہی ہمیں تھکن بھی محسوس ہوتی ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ سخت جسمانی محنت کے بعد ہی تھکن محسوس ہو کیونکہ کبھی کبھی صرف ذہنی مشقت سے بھی تھکاوٹ اور بے زاری محسوس ہونے لگتی ہے۔

کیا تھکن کم کی جاسکتی ہے….؟ پنسل سے ڈرائنگ بنانا اور گھر سجانا، پودے لگانا اور شاپنگ پر چلے جانا، غرضیکہ ہر انسان کے لیے لیکن سے نمٹنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ درج ذیل طریقوں کی مدد سے تھکن کم کی جاسکتی ہے۔

مشکل کام پہلے نمٹا لیں: کوشش کیجیے کہ مشکل کام مسلسل کام کرنا پڑے لیکن بہتر یہی ہے کہ اہم کام پہلے ہی مکمل کر لیے جائیں۔ اس طرح دو پہر یا شام تک دوسرے کاموں پر توجہ مرکوز کر لینے کا موقع ملے گا۔

ورزش کو زندگی کا حصہ بنائیں: کیوں نہ روزانہ گھر سے باہر محض کسی قریبی پارک تک چہل قدمی کر لی جائے ؟ یہ مشکل کام نہیں۔ جن لوگوں کے پاس جم جانے کا وقت نہیں، لیکن روزانہ ایک آدھا گھنٹہ ورزش کرنا تو کوئی ایسا کام نہیں جسے معمول کا حصہ نہ سمجھا جائے۔ چہل قدمی بہترین ورزش ہے۔ کھائیں پئیں، لطف اندوز رہیں… مطلب یہ نہیں کہ جو بھی چیز ملے اسے کھاتے جاؤ، بلکہ زندگی میں  صحت مند غذا بہترین انداز میں شامل رہے، یہ نہایت اہم ہے۔ کھانا وقت پر کھائیں، اس بات پر خاص توجہ رکھیں کہ کیا کھا رہی ہیں، کیوں کھارہی ہیں۔ دفتر ہو یا کوئی دوسرا کام ، اپنے لیے کھانا تیار کر کے ساتھ لے جائیں اور کھانے کے ہر لقمے سے لطف اندوز ہوتی رہیں۔

دوستی ضروری ہے:

یہ نہایت اہم ہے کہ ہم اپنے دوستوں کا ساتھ کبھی نہ چھوڑیں۔ دوستوں کا ساتھ اچھے تعلقات، خوشی اور سکون کا سبب بنتا ہے۔ ہم سب کو اپنے دوستوں کے ساتھ تعلقات بحال رکھنا چاہیے۔ یہ دوستی نا صرف فکر و پریشانی سے نجات دے گی بلکہ طمانیت کا سبب بھی بنے گی۔ دوستوں کے ساتھ یوں تو ہر قسم کی گفتگو کی جاسکتی ہے لیکن دفتر اور گھر یلو پریشانی کے علاوہ گفتگو کرنے کا اصول اپنا لیجیے ، دل کو سکون ملے گا۔

دفتر میں مثبت تعلق: ایک اچھا اصول ہے کہ دفتر کے ساتھیوں کے ساتھ مثبت تعلقات ہوں۔ یہ ساتھ منفی نوعیت کا ہو گا تو ساتھ، منفی جذبات لائے گا۔ اس لیے روزانہ ان کی خیریت، حال احوال معلوم کیجیے ، ساتھ کھانے کا موقع ہو تو یہ بھی معاشرتی تعلقات بنانے میں اہم ہے۔

پانچ منٹ دلچسپ سرگرمی کے لیے

جس کام میں دلچسپی ہو اسے انجام دینا سکون و اطمینان کا سبب بنتا ہے۔ صرف پانچ منٹ ہی سہی لیکن اپنی دلچسپی کے کام ضرور کیجیے۔

صرف سانس لیجیے، اس لمحے کو محسوس کیجیے

چند منٹ ایسے گزاریے جیسے اس دنیا میں صرف آپ ہیں اور آپ تک صرف ایک آواز ہی پہنچ رہی ہے، سانس لینے کی آواز۔ دماغ کو سکون پہنچانے کے یہ چند لمحات مفید ثابت ہوتے ہیں، دس مرتبہ آہستہ آہستہ سانس لیجیے ، اطمینان کا احساس گہر ا ہو تا جائے گا۔

پریشانی کی فہرست

دماغ میں ہر دم پریشان کن باتوں سے بے سکونی رہتی ہے….؟ ایک مرتبہ اس آواز کو سن لینے میں برائی نہیں، بلکہ اس تکنیک کی مدد سے تو سکون حاصل کرنے کا ایک بہتر راستہ ملے گا جو خیالات بھی ذہن میں ہیں ان کو کسی کاغذ پر لکھ لیجیے۔

آخر پریشانی کیا ہے….. ؟ کون کون سی باتیں مشکل کا سبب بن رہی ہیں ؟ اگر کسی سے ناراض ہیں تو اسے بھی لکھ لیجیے، کسی بات پر غصہ ہیں تو اس کا اظہار بھی یہاں کیجیے۔

اب اس فہرست پر نظر ڈالیے، کیا ان معاملات کو حل کرنا ممکن ہے….؟ آپ کو محسوس ہو گا کہ جو باتیں پریشانی کا سبب ہیں، وہ اتنی اہم نہیں جتنا کہ انہیں سمجھا گیا ہے۔

ترتیب و تنظیم میں تبدیلی: ہم جہاں کام کرتے ہیں، وہاں کا ماحول ہمارے مزاج پر اچھے یا برے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اگر میز سامان سے بکھری ہوئی ہو تو اسے سمیٹنے کی کوشش کی جاسکتی ہے اور کچھ اہم چیزوں اور سامان کی جگہ تبدیل کرنا بھی بہتر ہے۔ کمپیوٹر پر نظر کیوں جمی ہے….؟ یہ کی ہے کہ آج کل زیادہ تر سارے کام کمپیوٹر پر ہوتے ہیں، یوں دفتری اوقات کے آٹھ گھنٹے اس کی جانب دیکھتے اور اس کی مدد سے کام کرتے گزرتا ہے۔ ایسے میں یہ بہت اہم ہے کہ آپ دن میں کئی مرتبہ کمپیوٹر سے نظر ہٹائیں اور ذہن کے ساتھ آنکھوں کو بھی سکون پہ چھائیں۔

اکثر دفتر میں کام کے دوران سر درد کی اہم وجہ یہ ہوتی ہے کہ کمپیوٹر اسکرین سے نکلنے والی روشنی کی شعائیں ہماری آنکھوں کو تکلیف میں مبتلا کر دیتی ہیں۔ کمپیوٹر اسکرین کی ان شعاعوں سے بچنے کے لیے کچھ دیر کمرے میں دوسری جانب نظر کر لیجیے، کچھ دیر کا نہ قلم کی مدد سے لکھیے۔

دل سے ہر بوجھ اتار دیجیے

کبھی کبھی ہم اپنی مشکل کو خود بھی نہیں سمجھ رہے ہوتے۔ ایسی صورت میں اپنی والدہ یا کسی دوست سے بات کیجیے ، دل کی ہر بات کہہ ڈالیے، اکثر مسائل اور پریشانی کی بنیاد چپ رہنے میں ہوتی ہے۔ کہہ دینے سے دل ہلکا ہو جاتا ہے اور آپ کے اپنے بھی مدد کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، کہتے ہیں ناخوشی بانٹنے سے بڑھتی ہے اور غم بانٹے سے کم ہوتا ہے، اس اصول کو ایک مرتبہ آزما لیجیے، ان شاء اللہ کامیابی ہی ملے گی۔

بشکریہ ماہنامہ روحانی ڈائجسٹ  اکتوبر 2018

Loading