جنگِ موتہ — وہ معرکہ جس نے رومی سلطنت کو پہلی بار اسلام کی قوت کا احساس دلایا
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )زمینِ شام کی ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھیں۔ افق پر گرد کے بادل چھائے ہوئے تھے۔ دور تک پھیلے میدان میں لاکھوں قدموں کی چاپ، گھوڑوں کی ہنہناہٹ، تلواروں کی جھنکار اور نیزوں کی چمک ایک غیر معمولی منظر پیش کر رہی تھی۔ ایک طرف دنیا کی عظیم ترین طاقت، رومی سلطنت اور اس کے اتحادی قبائل تھے، جبکہ دوسری طرف صرف تین ہزار ایسے مسلمان کھڑے تھے جن کے دل ایمان سے لبریز تھے۔ تعداد کا فرق اتنا زیادہ تھا کہ بظاہر نتیجہ پہلے ہی معلوم ہوتا تھا، مگر تاریخ صرف تعداد سے نہیں لکھی جاتی؛ تاریخ ایمان، حکمت، قربانی اور عزم سے بھی لکھی جاتی ہے۔
یہ جنگ صرف ایک فوجی معرکہ نہیں تھی، بلکہ اسلامی تاریخ کا وہ باب تھی جس نے آنے والی عظیم فتوحات کی بنیاد رکھی۔
—
جنگِ موتہ کا تاریخی پس منظر
ہجرت کے آٹھویں سال (8 ہجری) تک اسلامی ریاست مدینہ میں مضبوط ہو چکی تھی۔ صلحِ حدیبیہ کے بعد رسول اللہ ﷺ نے مختلف بادشاہوں اور حکمرانوں کی طرف دعوتِ اسلام کے خطوط بھیجے۔
ان ہی خطوط میں سے ایک خط رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابی حضرت حارث بن عمیر الأزدی رضي الله عنه کے ذریعے شام کے علاقے بصرٰی کے حکمران تک بھیجا۔ لیکن راستے میں غسانی سردار شرحبیل بن عمرو نے، جو رومی سلطنت کا حلیف تھا، انہیں گرفتار کر لیا اور سفارتی اصولوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہید کر دیا۔
قدیم دنیا میں سفیر کا قتل ایک انتہائی سنگین جرم سمجھا جاتا تھا۔ یہی وہ واقعہ تھا جس نے مسلمانوں کو اس ظلم کا جواب دینے پر آمادہ کیا۔
—
لشکر کی تیاری
رسول اللہ ﷺ نے تقریباً تین ہزار مجاہدین پر مشتمل ایک لشکر تیار فرمایا۔ یہ اس وقت تک شام کی طرف روانہ ہونے والا مسلمانوں کا سب سے بڑا لشکر تھا۔
آپ ﷺ نے قیادت کا ایک غیر معمولی نظام مقرر فرمایا۔
پہلے امیر:
حضرت زید بن حارثہ رضي الله عنه
اگر وہ شہید ہو جائیں تو:
حضرت جعفر بن ابی طالب رضي الله عنه
اگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو:
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضي الله عنه
اگر تینوں شہید ہو جائیں تو مسلمان باہمی مشورے سے اپنا امیر منتخب کر لیں۔
یہ روایت صحیح بخاری اور دیگر معتبر کتب حدیث میں محفوظ ہے۔
—
شام کی سرزمین کی طرف سفر
مدینہ سے روانہ ہونے والا قافلہ اللہ پر کامل بھروسے کے ساتھ شمال کی طرف بڑھتا گیا۔
راستے میں صحابہ کرام رضي الله عنہم کو اطلاع ملی کہ رومیوں نے بہت بڑی فوج جمع کر لی ہے۔ کلاسیکی مؤرخین جیسے ابن اسحاق، ابن ہشام اور طبری نے ایک لاکھ یا دو لاکھ تک کی تعداد ذکر کی ہے، لیکن بہت سے جدید محققین اس تعداد کو مبالغہ قرار دیتے ہیں۔ البتہ اس پر تقریباً اتفاق ہے کہ رومی اور ان کے اتحادی مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ تھے۔
یہ اطلاع سن کر کچھ دیر کے لیے مسلمانوں نے مشورہ کیا کہ مدینہ اطلاع بھیجی جائے یا نہیں۔
اسی وقت حضرت عبداللہ بن رواحہ رضي الله عنه کھڑے ہوئے اور فرمایا:
«”جس چیز کی تم تمنا کرتے تھے، آج وہی تو سامنے ہے؛ یعنی شہادت۔ ہم تعداد یا طاقت کے بل پر نہیں بلکہ اللہ کے دین کے لیے لڑتے ہیں۔”»
ان کے یہ الفاظ لشکر کے دلوں میں نئی روح بن کر اتر گئے۔
—
میدانِ موتہ
بالآخر مسلمان اردن کے موجودہ علاقے موتہ کے میدان میں پہنچے۔
سامنے منظم رومی لشکر تھا۔
زرہیں…
لمبے نیزے…
بھاری گھڑسوار…
اور ہزاروں تربیت یافتہ سپاہی۔
ادھر مسلمان تھے جن کے پاس ایمان تھا، یقین تھا، اور رسول اللہ ﷺ کی دعائیں تھیں۔
—
حضرت زید بن حارثہ رضي الله عنه کی شہادت
جنگ شروع ہوئی۔
اسلامی پرچم حضرت زید بن حارثہ رضي الله عنه کے ہاتھ میں تھا۔
وہ بے مثال شجاعت کے ساتھ دشمن کی صفوں میں داخل ہوئے۔
شدید حملوں کے باوجود انہوں نے جھنڈا نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ نیزوں اور تلواروں کی ضربیں برداشت کرتے ہوئے شہادت پا گئے۔
اسلام کا پرچم زمین پر گرنے نہ پایا۔
—
حضرت جعفر بن ابی طالب رضي الله عنه کی عظیم قربانی
اب پرچم حضرت جعفر رضي الله عنه نے سنبھال لیا۔
انہوں نے اپنے گھوڑے سے اتر کر دشمن کا مقابلہ کیا تاکہ پیچھے ہٹنے کا خیال بھی دل میں نہ آئے۔
وہ نہایت بہادری سے لڑتے رہے۔
ایک ہاتھ کٹ گیا۔
انہوں نے پرچم دوسرے ہاتھ میں لے لیا۔
دوسرا ہاتھ بھی کٹ گیا۔
تب انہوں نے پرچم اپنے بازوؤں اور سینے سے لگا لیا تاکہ وہ زمین پر نہ گرے۔
آخرکار وہ شہید ہو گئے۔
صحیح روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے جعفر رضي الله عنه کو جنت میں دو پر عطا فرمائے جن کے ذریعے وہ جہاں چاہیں پرواز کرتے ہیں، اسی لیے انہیں جعفرِ طیار کہا جاتا ہے۔
—
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضي الله عنه
اب پرچم حضرت عبداللہ بن رواحہ رضي الله عنه کے ہاتھ میں آیا۔
روایات میں آتا ہے کہ ایک لمحے کے لیے انسانی فطرت کے مطابق ان کے دل میں تردد پیدا ہوا، لیکن انہوں نے فوراً اپنے نفس کو ملامت کی، اللہ کی راہ میں آگے بڑھے اور بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت پا گئے۔
یوں رسول اللہ ﷺ کے مقرر کردہ تینوں سپہ سالار یکے بعد دیگرے جامِ شہادت نوش کر گئے۔
—
خالد بن ولید رضي الله عنه کی قیادت
اب مسلمانوں نے باہمی مشورے سے حضرت خالد بن ولید رضي الله عنه کو سپہ سالار منتخب کیا۔
یہ ان کی اسلام قبول کرنے کے بعد پہلی بڑی جنگ تھی۔
بعد میں رسول اللہ ﷺ نے انہیں سیف اللہ (اللہ کی تلوار) کا لقب عطا فرمایا۔
حضرت خالد رضي الله عنه نے فوراً صورتحال کا جائزہ لیا۔
انہوں نے محسوس کیا کہ کھلے میدان میں مسلسل لڑائی پوری فوج کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔
رات کے وقت انہوں نے لشکر کی ترتیب تبدیل کر دی۔
آگے والے پیچھے، پیچھے والے آگے، دائیں والے بائیں اور بائیں والے دائیں کر دیے تاکہ صبح دشمن کو محسوس ہو کہ مسلمانوں کو نئی کمک پہنچ گئی ہے۔
یہ ایک غیر معمولی فوجی حکمتِ عملی تھی۔
صبح رومی کچھ دیر تذبذب کا شکار رہے۔
اسی موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حضرت خالد رضي الله عنه نے منظم انداز میں لڑتے ہوئے اسلامی لشکر کو بحفاظت میدان سے نکال لیا۔
صحیح بخاری میں حضرت خالد رضي الله عنه کا بیان منقول ہے کہ اس دن ان کے ہاتھ میں مسلسل لڑتے ہوئے متعدد تلواریں ٹوٹ گئیں۔
—
مدینہ میں رسول اللہ ﷺ
مدینہ میں رسول اللہ ﷺ پر اللہ تعالیٰ نے جنگ کے حالات منکشف فرما دیے۔
صحیح بخاری میں روایت ہے کہ آپ ﷺ نے صحابہ سے فرمایا:
“اب زید نے جھنڈا لیا اور شہید ہو گئے… پھر جعفر نے لیا اور شہید ہو گئے… پھر عبداللہ بن رواحہ نے لیا اور شہید ہو گئے…”
اس کے بعد فرمایا:
“پھر اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار نے جھنڈا سنبھالا، یہاں تک کہ اللہ نے مسلمانوں کو نجات عطا فرمائی۔”
یہی وہ موقع تھا جب حضرت خالد بن ولید رضي الله عنه کو سیف اللہ کا لقب ملا۔
—
جنگ کا نتیجہ
ظاہری اعتبار سے مسلمان میدان میں فیصلہ کن فتح حاصل نہ کر سکے، لیکن حقیقت میں یہ رومی سلطنت کے لیے ایک بڑا نفسیاتی دھچکا تھا۔
صرف تین ہزار مسلمانوں نے ایک عظیم سلطنت کی فوج کا کئی دن تک مقابلہ کیا اور اپنی فوج کو محفوظ واپس لے آئے۔
یہی جنگ بعد میں فتحِ شام اور یرموک جیسی عظیم فتوحات کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
—
مستند تاریخی مآخذ
اس جنگ کی بنیادی تفصیلات درج ذیل معتبر مصادر میں محفوظ ہیں:
– قرآنِ کریم (جہاد، صبر اور شہادت سے متعلق آیات بطور عمومی رہنمائی)
– صحیح بخاری
– صحیح مسلم
– مسند احمد
– سیرت ابن ہشام
– ابن اسحاق (بروایت ابن ہشام)
– الطبری
– ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
جہاں لشکروں کی تعداد یا بعض جزوی واقعات میں اختلاف ملتا ہے، وہاں محدثین اور مؤرخین کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک اصل قابلِ اعتماد بات یہ ہے کہ دشمن مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ تھا، اگرچہ ایک یا دو لاکھ کی تعداد یقینی طور پر ثابت نہیں۔
—
آج کے انسان کے لیے پیغام
جنگِ موتہ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایمان صرف آسان حالات کا نام نہیں۔ سچا ایمان اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وسائل کم ہوں، دشمن طاقتور ہو، اور ظاہری کامیابی کی امید بھی دھندلا جائے۔
حضرت زید رضي الله عنه کی وفاداری، حضرت جعفر رضي الله عنه کی بے مثال قربانی، حضرت عبداللہ بن رواحہ رضي الله عنه کا اخلاص، اور حضرت خالد بن ولید رضي الله عنه کی حکمتِ عملی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ایک کامیاب امت صرف بہادری سے نہیں بلکہ ایمان، نظم، قربانی، تدبر اور اللہ پر کامل توکل سے عظیم بنتی ہے۔
جنگِ موتہ کا میدان آج خاموش ہے، لیکن اس کی مٹی اب بھی گواہی دیتی ہے کہ جب انسان اللہ کے دین کے لیے اخلاص کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو کمزور تعداد بھی تاریخ کے دھارے بدل سکتی ہے، اور شہادت پانے والے کبھی حقیقت میں مرتے نہیں بلکہ اپنے رب کے ہاں زندہ ہوتے ہیں، جیسا کہ قرآنِ کریم نے فرمایا ہے۔
![]()

