الہام اور وسوسے کا فرق
دل کا آئینہ کیسے صاف ہو؟
ظاہری کیفیت
دل کا زنگ اور صفائی کی تڑپ
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )اے متلاشیِ حق جب سالک نفسِ امارہ کے فریب و مکر کے تاریک جنگل سے نکل کر اپنے باطن کی سمت پلٹتا ہے، تو سب سے پہلے اسے اپنے دل کے آئینے پر برسوں کی غفلت اور گناہوں کی جمی ہوئی گرد دکھائی دیتی ہے۔
یہ آئینہ کبھی روشن اور شفاف تھا، مگر دنیا کی گرد و غبار نے اسے دھندلا کر دیا۔ صوفیائے کرام فرماتے ہیں: جب تک یہ آئینہ صیقل نہ ہو، نہ اس میں محبوبِ حقیقی کا جلوہ اترتا ہے، نہ غیب سے آنے والے انوارِ الٰہی اس میں منعکس ہو پاتے ہیں۔
حضرت مولانا رومیؒ مثنوی شریف میں ایک نہایت لطیف تمثیل بیان فرماتے ہیں۔
ایک بادشاہ نے رومیوں اور چینیوں کے مابین مصوری کا مقابلہ کرایا کہ دیکھیں کون بہتر نقاش ٹھہرتا ہے۔ چینیوں نے رنگ، برش اور بیش قیمت سامان طلب کیا اور دیوار پر عجیب و غریب نقش و نگار بنانے میں جت گئے۔
دوسری جانب رومیوں نے کوئی رنگ، کوئی برش نہ مانگا، بلکہ اپنے حصے کی دیوار کو دن رات صیقل کرنے میں مصروف ہو گئے، یہاں تک کہ وہ آئینے کی مانند چمکنے لگی۔ جب مقابلہ اختتام کو پہنچا اور درمیان کا پردہ ہٹایا گیا،
تو چینیوں کی رنگا رنگ تصویر کا عکس رومیوں کی اس صاف و شفاف دیوار پر ایسا پڑا کہ وہ عکس اصل تصویر سے بھی ہزار درجہ زیادہ حسین، گہرا اور دل موہ لینے والا معلوم ہوا۔
اے طالبِ راہِ محبت یہ چینی، اہلِ عقل و علم کی مثال ہیں جو ظاہر کو کتابوں اور رنگینیوں سے سجاتے ہیں، اور رومی وہ صوفیائے کرام ہیں جو اپنے دل کے آئینے کو ذکرِ الٰہی اور عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے مانجھتے اور چمکاتے ہیں۔
یاد رکھو، جب تمہارا دل صاف ہو جائے گا، تو کائنات کی سب سچائیاں اور حقیقتیں خود بخود تمہارے باطن میں جلوہ گر ہونے لگیں گی، بغیر کسی کتاب کے، بغیر کسی سبق کے۔
باطن طریقت
الہام، وسوسہ اور باطنی خیالات کی حتمی پہچان
جوں جوں دل کا آئینہ صاف ہونا شروع ہوتا ہے، توں توں سالک کے باطن میں غیبی آوازیں اور مختلف نوعیت کے خیالات دستک دینے لگتے ہیں۔ یہی وہ نازک مقام ہے جہاں طریقت کے جملہ مشائخ ، قادریہ، چشتیہ، نقشبندیہ اور سہروردی سالک کو خبردار کرتے ہیں کہ دل میں اترنے والا ہر خیال ایک ہی جنس کا نہیں ہوتا۔ حقیقت میں یہ خواطر چار قسموں میں بٹے ہوتے ہیں، اور انہی میں تمیز کرنا ہی سچ اور جھوٹ کی پہچان ہے۔
-
1. خاطرِ رحمانی (الہام)
یہ وہ غیبی نداء ہے جو براہ راست اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے دل پر اترتی ہے۔ اس کی علامت یہ ہے کہ یہ اچانک وارد ہوتی ہے اور دل میں گہرا ٹھہراؤ، پختہ یقین، عاجزی اور روحانی سرور جگاتی ہے۔ یہ خیال کبھی شریعتِ مطہرہ کے ظاہری احکام سے متصادم نہیں ہوتا۔
-
2. خاطرِ ملکی (فرشتے کا خیال)
یہ وہ باطنی سرگوشی ہے جو فرشتہ سالک کے دل میں القا کرتا ہے۔ یہ ہمیشہ نیکی کی جانب مائل کرتی ہے کبھی تہجد کی ترغیب، کبھی کسی مسکین کی خدمت کا داعیہ اور اس کے ساتھ کوئی خوف یا اضطراب نہیں ہوتا۔
-
3. خاطرِ نفسانی (نفس کی خواہش)
یہ انسان کے اپنے نفسِ امارہ کی آواز ہے۔ اس کی سب سے نمایاں علامت ضد ہے یہ جس گناہ یا دنیاوی جاہ و جلال کی طرف بلائے، اسی پر اڑا رہتا ہے۔ اور عجیب بات یہ کہ اگر انسان کوئی نیکی کر بھی لے، تو یہ اس نیکی کے اندر بھی خودپسندی یا تکبر کا کوئی گوشہ ڈھونڈ نکالتا ہے۔
-
4. خاطرِ شیطانی (وسوسہ)
یہ ابلیس کا وار ہے، جو دل میں شک، خوف، مایوسی، حسد یا گناہ کی تحریک ابھارتا ہے۔ اس کی پہچان یہ ہے کہ یہ ضدی نہیں بلکہ متلون رنگ بدلتا ہے۔ اگر بندہ استغفار کرے اور شیطان ایک گناہ میں ناکام ہو جائے، تو وہ فوراً پینترا بدل کر کوئی نیا وسوسہ لے آتا ہے۔
دل کے آئینے کو صاف کرنے کا صوفیانہ نسخہ
سلاسلِ اربعہ کے مشائخِ عظام فرماتے ہیں کہ دل کی صفائی کے دو ہی عظیم ہتھیار ہیں۔ ایک مثل تلوار کے ہے تو دوسرا مثل ڈھال کے، ایک سے وہ کاٹتا ہے اور دوسرے سے وہ اپنی حفاظت کرتا ہے، ایک سپاہی (سالک) کے پاس یہ دونوں ہتھیار ہونا بہت ضروری ہیں۔
پہلا ‘ذکرِ الٰہی’، بالخصوص نفی و اثبات کا ذکر یعنی لا الٰہ الا اللہ، اور دوسرا “کثرتِ درود شریف”۔ کیونکہ حضور ﷺ کی محبت کا چراغ ہی دل کے ہر اندھیرے کو کافور کرکے الہام اور وسوسے کے درمیان واضح خط کھینچ دیتا ہے۔
باطنی صفائی اور خیالات کی پہچان پر قرآن، حدیث اور اقوالِ صوفیا کی مستند مہریں درج ذیل ہیں
دل کے زنگ اور صفائی پر
اللہ رب العزت کا ارشادِ گرامی ہے:
كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِم مَّا كَانُوا يَكْسِبُونَ
ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے برے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے۔
[سورہ المطففین، آیت: 14]
حدیثِ مبارکہ الہام اور وسوسے کی حقیقت پر۔
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے:
إِنَّ لِلشَّيْطَانِ لَمَّةً بِابْنِ آدَمَ وَلِلْمَلَكِ لَمَّةً، فَأَمَّا لَمَّةُ الشَّيْطَانِ فَإِيعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيبٌ بِالْحَقِّ، وَأَمَّا لَمَّةُ الْمَلَكِ فَإِيعَادٌ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيقٌ بِالْحَقِّ
بیشک ابنِ آدم کے دل پر ایک اثر شیطان کا ہوتا ہے اور ایک اثر فرشتے کا۔ شیطان کا اثر برائی کا وعدہ کرنا اور حق کو جھٹلانا ہے، اور فرشتے کا اثر نیکی کا وعدہ کرنا اور حق کی تصدیق کرنا ہے۔
[جامع ترمذی، کتاب التفسیر، حدیث نمبر: 2988]
فرمانِ غوثِ پاکؒ معیارِ طریقت پر۔
سیدنا غوثِ اعظم شیخ عبد القادر جیلانیؒ اپنی تصنیف میں رقم فرماتے ہیں۔
اگر تمہارے دل میں کوئی باطنی خیال آئے اور وہ تمہیں نیکی کا حکم دے، تب بھی اسے شریعت کے ترازو میں تولو۔ اگر شریعت اس کی گواہی دے تو اسے قبول کرو، اور اگر وہ شریعت کے خلاف ہو تو سمجھ لو کہ وہ شیطان کا وسوسہ ہے۔
[فتوح الغیب، مقالہ نمبر: 23]
سوال: سائل تڑپ کر عرض کرتا ہے: “مرشدِ پاک کبھی کبھی میرے دل میں ایسے برے اور کفریہ خیالات آتے ہیں جنہیں زبان پر لاتے ہوئے بھی مجھے خوف محسوس ہوتا ہے۔ کیا ان خیالات کی وجہ سے میرا ایمان برباد ہو گیا؟ میں بہت پریشان ہوں۔
جواب: میرے پیارے بچے مایوس مت ہو، یہ خیالات تمہارا ایمان برباد نہیں کر رہے، بلکہ یہ تو تمہارے صاحبِ ایمان ہونے کی روشن دلیل ہیں۔ سوچو، چور اسی گھر کا رخ کرتا ہے جہاں سونا اور مال موجود ہو، کسی ویران کھنڈر کی طرف نہیں جاتا۔ شیطان تمہارے دل پر اسی لیے وسوسوں کے وار کر رہا ہے کہ وہاں “ایمان کا نور” روشن ہے۔ جب ایسے خیالات آئیں، تو ان سے الجھنے یا خوفزدہ ہونے کے بجائے فوراً دھیان پھیر لو، “لا حول ولا قوۃ الا باللہ” پڑھو، اور سرکارِ دو عالم ﷺ پر درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنے لگو۔ یاد رکھو، تمہارا انہیں برا جاننا ہی تمہارے سچے ایمان کی سب سے بڑی گواہی ہے۔
اے سالکِ راہِ حق! جب تجھ پر الہام اور وسوسے کا فرق روشن ہو جاتا ہے، اور تیرے دل کا آئینہ ذکر و درود کی چمک سے جگمگانے لگتا ہے، تو پھر اس آئینے پر کائنات کا سب سے حسین اور سب سے عظیم جلوہ منعکس ہوتا ہے، اور وہ جلوہ ہے “عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نور”۔ طریقت کی ہر راہ، ہر سلسلہ، ہر منزل، اسی ایک چراغِ محبت کی محتاج ہے۔
اگلا حرفِ راز کیا ہے؟
وہ کون سا چراغ ہے جس کے جلتے ہی راستے کی تمام تاریکیاں خود بخود چھٹ جاتی ہیں؟
اور حضور ﷺ کی سچی باطنی محبت آخر کیسے میسر آتی ہے؟
جاننے کے لیے ملاحظہ فرمائیے اگلی قسط۔ “عشقِ مصطفیٰ ﷺ: وہ چراغ جس کے بغیر ہر راستہ اندھیرا ہے”۔
#Khaak_e_rawan #حرفـــــراز
![]()

