کیا واقعی کائنات بغیر کسی ستارے کے بھی چمک سکتی ہے؟ اگر ہاں، تو پھر یہ روشنی آخر آتی کہاں سے ہے؟
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )ہم ہمیشہ یہی سمجھتے ہیں کہ روشنی کا واحد ذریعہ ستارے ہوتے دوستو! ہیں، لیکن کائنات اس سے کہیں زیادہ حیران کن ہے۔ بعض جگہوں پر ایسی چمک بھی دیکھی جاتی ہے جہاں کوئی ستارہ موجود نہیں ہوتا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کششِ ثقل خود روشنی “بناتی” ہے، بلکہ یہ انتہائی طاقتور کششِ ثقل مادے اور توانائی کو اس طرح متاثر کرتی ہے کہ روشنی پیدا ہونے لگتی ہے۔
مثال کے طور پر جب گیس اور گرد و غبار کسی بلیک ہول یا نیوٹران ستارے کی طرف انتہائی تیزی سے گرتے ہیں تو شدید کششِ ثقل ان مادوں کو لاکھوں ڈگری تک گرم کر دیتی ہے۔ نتیجتاً وہ ایکس ریز، گاما ریز اور مرئی روشنی سمیت مختلف اقسام کی شعاعیں خارج کرتے ہیں۔ اس صورت میں روشنی کا اصل ذریعہ گرم ہوتا ہوا مادہ ہے، جبکہ اس عمل کو ممکن بنانے والی طاقت کششِ ثقل ہوتی ہے۔
اسی طرح بعض اوقات دو نیوٹران ستاروں یا بلیک ہولز کے تصادم کے دوران بھی بے پناہ توانائی خارج ہوتی ہے، جو انتہائی روشن دھماکوں کی صورت میں نظر آ سکتی ہے۔ علاوہ ازیں، کششِ ثقل دور دراز کہکشاؤں کی روشنی کو موڑ کر گریویٹیشنل لینسنگ بھی پیدا کرتی ہے، جس سے وہ پہلے سے زیادہ روشن دکھائی دیتی ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ سائنس دان کششِ ثقل کو صرف ایک کھینچنے والی قوت نہیں بلکہ کائنات کے سب سے طاقتور مظاہر میں سے ایک سمجھتے ہیں، جو بالواسطہ طور پر ایسی روشنی پیدا کرنے یا نمایاں کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے جسے ہم اربوں نوری سال دور سے بھی دیکھ سکتے ہیں۔
آپ کے خیال میں اگر کائنات میں تمام ستارے غائب ہو جائیں، تو کیا صرف بلیک ہولز اور کششِ ثقل کی مدد سے ہمیں کہیں نہ کہیں روشنی نظر آتی رہے گی؟ فالو اور شیئر لازمی کریں۔
Credit: Cosmic Curiosities and Mubeen Ahmad
#Space #Gravity #BlackHole #Astronomy #Science
![]()

