ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )بادشاہ اُس رات بھی نہیں سو سکا…
حالانکہ اُس کے پاس وہ سب کچھ تھا جس کے لیے لوگ زندگیاں گزار دیتے ہیں۔
سونا، طاقت، اختیار… سب کچھ۔
مگر سکون؟
وہ جیسے اس کے محل کی دیواروں سے ٹکرا کر کہیں باہر رہ جاتا تھا۔
آخرکار ایک دن اس نے فیصلہ کیا کہ وہ خوشی کو ڈھونڈے گا… چاہے اسے اپنی سلطنت سے باہر ہی کیوں نہ جانا پڑے۔
اسی تلاش نے اسے ایک پہاڑ تک پہنچا دیا،
جہاں ایک درویش رہتا تھا۔
درویش کے پاس کچھ بھی نہیں تھا—
نہ خزانے، نہ خادم، نہ تخت۔
صرف ایک کٹیا، دو کمبل… اور چہرے پر عجیب سا اطمینان۔
بادشاہ نے حیرت سے پوچھا،
“تمہارے پاس کچھ نہیں… پھر بھی تم خوش کیسے ہو؟”
درویش ہنسا،
“جواب تمہیں ملے گا… مگر تمہارے دربار میں۔”
اگلے دن دربار لگا۔
ایک ضرورت مند آدمی کو بلایا گیا۔
درویش نے ایک عجیب سی تجویز دی، اور بادشاہ نے حکم جاری کیا:
“دوڑو… اور سورج غروب ہونے تک جتنی زمین کے گرد دائرہ بنا لو گے، وہ سب تمہاری ہو گی۔”
آدمی کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
وہ دوڑا۔
شروع میں وہ محتاط تھا…
پھر تیز ہو گیا…
پھر بےقابو۔
دوپہر تک وہ بہت کچھ حاصل کر چکا تھا۔
وہ رک سکتا تھا… واپس مڑ سکتا تھا…
مگر لالچ نے اس کے کان میں سرگوشی کی:
“بس تھوڑا اور…”
وہ آگے بڑھتا گیا۔
وقت پیچھے رہتا گیا۔
جب سورج ڈھلنے لگا، تو اس کے اندر خوف جاگ اٹھا۔
وہ پلٹا… اور پوری طاقت سے واپس دوڑنے لگا۔
اب یہ دوڑ زمین کے لیے نہیں تھی…
یہ دوڑ اپنی بقا کے لیے تھی۔
اس کے قدم لڑکھڑائے، سانس ٹوٹنے لگی،
مگر وہ رکا نہیں۔
آخرکار وہ دائرے کے آغاز تک پہنچ گیا…
اور اسی لمحے زمین پر گر کر مر گیا۔
دربار خاموش ہو گیا۔
درویش آگے بڑھا، اس کی آنکھیں بند کیں…
اور بادشاہ کی طرف مڑا۔
“یہ شخص ہار گیا ہے…”
بادشاہ چونکا،
“مگر اس نے تو سب کچھ حاصل کر لیا!”
درویش نے آہستہ سے کہا،
“اس نے زمین جیتی… مگر زندگی ہار دی۔”
پھر اس نے گہری نظر سے بادشاہ کو دیکھا:
“حرص انسان کو دوڑاتی ہے…
اور خوشی اسے رکنے کا ہنر سکھاتی ہے۔
دونوں ایک دل میں اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔”
بادشاہ کی آنکھیں نم ہو گئیں۔
“تو میں کیا کروں؟ میں تو بادشاہ ہوں…”
درویش مسکرایا،
“بادشاہ وہ نہیں جو سب کچھ جمع کرے…
بادشاہ وہ ہے جو بانٹنا جانتا ہو۔”
پھر اس نے آخری بات کہی،
جو بادشاہ کے دل پر نقش ہو گئی:
“انسان ساری زندگی زمین کے پیچھے بھاگتا ہے…
اور آخر میں اسے صرف اتنی زمین ملتی ہے
جتنی اس کی قبر کے لیے کافی ہو۔”
اُس دن بادشاہ نے پہلی بار محسوس کیا…
کہ خوشی کہیں باہر نہیں،
بلکہ اُس لمحے میں ہے
جب انسان ‘مزید’ کی خواہش چھوڑ دیتا ہے۔ 🖤
![]()

