یہ واقعہ غزوۂ تبوک کے موقع پر پیش آیا۔
ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل )یہ واقعہ غزوۂ تبوک کے موقع پر پیش آیا۔ اُس وقت مسلمان طرح طرح کی مشکلات میں گھرے ہوئے تھے۔
سخت گرمی کا موسم تھا۔ سفر بہت لمبا اور بہت مشکل تھا۔ ایسا وقت بھی آیا کہ ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے۔ صرف ایک کھجور پر ہی رات گزارنی پڑتی۔ پانی اتنا کم تھا کہ اونٹ ذبح کرکے ان کے پیٹ میں جو پانی ہوتا اس سے پیاس بجھاتے۔ حالات کی سختی کی وجہ سے بعض سچے مسلمان بھی کمزور پڑ گئے تھے لیکن الله تعالیٰ کی خاص مدد سے وہ جہاد کے سفر پر نکلے۔
صحیح بخاری اور مسلم میں جو روایت آئی ہے، اس کے راوی خود ان تین صحابیوں میں سے ایک حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ متفق علیہ روایت کا خلاصہ دیکھیں۔
جن دنوں غزوہ تبوک کی تیاری ہو رہی تھی میری صحت اور مالی حالت بہت اچھی تھی۔ میرے پاس سواری کے لیے دو اونٹنیاں تھیں۔ اس سے پہلے کبھی میرے پاس دو سواری کے جانور نہیں تھے۔ جمعرات کے دن حضور نبی اکرم ﷺ اپنے تیس ہزار جان نثار ساتھیوں کے ساتھ تبوک کی طرف روانہ ہوئے۔ میں نے دل میں سوچا کہ کچھ ضروری کام جلدی ختم کر کے لشکر کے ساتھ جا ملوں گا۔ پہلا دن گزر گیا لیکن میں فارغ نہ ہو سکا۔ دوسرا دن پھر تیسرا دن بھی اسی طرح گزر گیا لیکن میں فارغ نہ ہوا۔ جب کئی دن گزر گئے تو میں نے سوچا کہ اب تو لشکر بہت دور جا چکا ہوگا اور اب میرا جانا ہے
فائدہ ہے۔ اس لیے میں نے جانے کا ارادہ چھوڑ دیا۔ جب میں بازار جاتا تو مجھے ان لوگوں کے علاوہ جو منافق سمجھے جاتے تھے یا جو بیمار تھے اور جنگ کے قابل نہیں تھے، کوئی مسلمان نظر نہیں آتا تھا۔ مجھے اپنی اس محرومی پر بہت افسوس ہوتا۔ ایک بار دل میں آیا کہ صلى الله ابھی بھی چلا جاتا ہوں، کاش میں ایسا کر لیتا لیکن میں نہ جا سکا۔ وقت گزرتا گیا یہاں تک کہ حضور نبی اکرم کے خیریت سے واپس آنے کی خبر آ گئی۔ مجھے بہت غم ہوا۔ میں سوچنے لگا کہ حضور ﷺ کے سامنے اپنی غیر حاضری کی کیا وجہ پیش کروں۔ میں نے خود بھی سوچا اور دوسروں سے بھی مشورہ کیا۔ جب حضور نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لے آئے تو میرا دل مضبوط ہو گیا اور میں نے فیصلہ کیا کہ سچ ہی بولوں گا، کیونکہ اسی میں نجات ہے، جھوٹ بول کر تو میں مزید مشکل میں پڑ جاؤں گا۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی عادت تھی کہ جب سفر سے واپس آتے تو پہلے مسجد میں جا کر دو نفل پڑھتے، پھر حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر جاتے اور پھر ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے۔ جب حضور ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور نماز کے بعد بیٹھے تو منافقین ایک ایک کر کے آئے اور جھوٹے بہانے پیش کرنے لگے۔ حضور ﷺ ان کے ظاہر کو قبول کر لیتے اور ان کا معاملہ اللہ کے سپرد کر دیتے۔ مجھے بھی لوگوں
نے مشورہ دیا کہ میں بھی ایسا ہی کر لوں لیکن میں حضور ﷺ کے پاس گیا اور سچ سچ سب کچھ بتا دیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے میری بات سن کر فرمایا آما هُذَا فَقَدْ صَدَقَ فَقُمْ حَتَّى يَقْضِيَ اللهُ فیک۔ یعنی اس نے سچ کہا ہے، جاؤ کھڑے رہو یہاں تک کہ اللہ تمہارے بارے میں فیصلہ کرے۔
کئی لوگوں نے مجھے ڈانٹا کہ تم نے سچ بول کر اپنے آپ کو مشکل میں ڈال لیا۔ میں نے سوچا کہ واپس جا کر کوئی بہانہ بنا لوں لیکن پھر خیال آیا کہ ایک غلطی تو یہ کی کہ جہاد میں شامل نہ ہوا اور دوسری غلطی یہ کروں کہ جھوٹ بولوں، یہ میں نہیں کر سکتا۔ میں نے پوچھا کیا کسی اور کو بھی ایسا کہا گیا ہے ؟ تو بتایا گیا کہ ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع کو بھی یہی کہا گیا ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے لوگوں کو ہمارے ساتھ بات کرنے سے بھی منع کر دیا۔ اب کوئی ہم سے بات نہیں کرتا تھا اور نہ ہمارے سلام کا جواب دیتا تھا۔ ہمیں ایسا لگتا تھا جیسے یہ وہی لوگ نہیں اور یہ وہی شہر نہیں جس میں ہم رہتے تھے۔ مجھے یہ ڈر تھا کہ اگر میں اسی حالت میں مر گیا اور حضور ﷺ نے میرا جنازہ نہ پڑھایا تو کیا ہوگا؟ میرے دونوں ساتھی تو دن رات روتے رہتے تھے۔ انہوں نے گھر سے نکلنا بھی چھوڑ دیا تھا۔ لیکن میں کبھی کبھی بازار جاتا، مگر کوئی مجھ سے بات نہ کرتا۔ ایک دن میں اپنے چچا زاد بھائی ابو قتادہ کے پاس گیا جو باغ میں تھا۔ میں اسے بہت چاہتا تھا۔ میں نے اسے سلام کیا مگر اس نے جواب نہ دیا۔ میں نے کہا: کیا تم نہیں جانتے کہ میں الله اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں؟ وہ خاموش رہا۔ میں نے تین بار یہی بات کہی مگر وہ کچھ نہ بولا۔ چوتھی بار اس نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو نکل آئے اور میں واپس آ گیا۔ جب میں بازار سے گزر رہا تھا تو شاہ غسان کا ایک آدمی مجھے تلاش کر رہا تھا۔ لوگوں نے اسے صلى الله
بتایا کہ یہ کعب ہیں۔ وہ میرے پاس آیا اور اپنے بادشاہ کا خط دیا۔ اس میں لکھا تھا کہ ہم نے سنا ہے کہ تمہارے نبی نے تمہارے ساتھ سختی کی ہے، تم ہمارے پاس آ جاؤ ہم تمہیں عزت دیں گے۔ ۔ یہ پڑھ کر مجھے بہت غصہ آیا اور میں نے وہ خط جلا دیا اور کہا اپنے بادشاہ سے کہہ دینا یہی میرا جواب ہے۔
میں نے دل میں کہا کہ یہ میری بدقسمتی ہے کہ ایک كافر مجھے میرے دین سے ہٹانا چاہتا ہے۔ اسی حالت میں چالیس دن گزر گئے۔ چالیس دن کے بعد حکم آیا کہ ہم اپنی بیویوں سے بھی الگ ہو جائیں، چنانچہ میں نے اپنی بیوی کو اس کے گھر بھیج دیا۔ میں مسجد میں نماز کے لیے جاتا اور حضور ﷺ کو سلام کرتا اور دیکھتا کہ کیا وہ جواب دیتے ہیں۔ جب میں نماز پڑھتا تو حضور ﷺ میری طرف دیکھتے اور جب میں فارغ ہوتا تو نظر ہٹا لیتے۔ یہ وقت میرے لیے بہت مشکل تھا۔
ابھی تک آپ لوگوں نے میرے چینل کو سبسکرائب نہیں کیا، لائک نہیں کیا، شیئر نہیں کیا اور فالو نہیں کیا تو لازمی کریں تاکہ آنے والی ہر ویڈیو کا نوٹیفکیشن آپ تک پہنچتا رہے
پچاسویں رات ہماری توبہ قبول ہونے کی آیت نازل ہوئی۔ صبح کی نماز کے بعد حضور نبی اکرم ﷺ نے اعلان فرمایا۔ صحابہ کرام خوشی سے دوڑتے ہوئے آئے اور مبارک
باد دینے لگے۔ سب سے پہلے جس نے مجھے خوشخبری دی وہ حضرت حمزه الاسلمی تھے۔ خوشی میں میں نے اپنے کپڑے بھی انہیں دے دیے۔ پھر میں حضور ﷺ کے پاس گیا۔ سب لوگ مجھے مبارک باد دے رہے تھے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ مجھے دیکھ کر فرمایا جب سے تم پیدا ہوئے ہو یہ تمہاری زندگی کا
سب سے بہترین دن ہے مبارک ہو۔ یہ ان تین نیک لوگوں کا واقعہ ہے جنہوں نے منافقوں کی طرح جھوٹ نہیں بولا اور آخر کار اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرما لی اور قیامت تک ان کا ذکر قرآن میں رکھا۔ واللہ اعلم و رسول اعلم۔ اگر آپ نے یہ مکمل تحریر پڑھی ہے تو اسے دوسروں تک ضرور پہنچائیں تاکہ کسی کو توبہ کی توفیق مل جائے اور آپ کے لیے بھی اجر کا سبب بنے۔ جزاک اللہ خیرا۔ نوٹ: اس تصویر کا ان ہستیوں سے کوئی تعلق نہیں۔
آخر میں آپ سب سے ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ کمنٹ باکس میں اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں میں سے کوئی ایک نام ضرور لکھیں. #VillageLife
#DesiVibes
#Rural Beauty
#GoldenFields
#Pakistan Village
#SimpleLife
#HarvestSeason
#CulturalLife
#NatureLovers
#DesiCulture
#PeacefulLife
#VillageVibes
#TraditionalLife
#OrganicLiving
#FarmLife
#BeautifulPakistan
#ContentCreator
#ViralVideo
#Facebook Viral
#Trending Now
#Reels Pakistan
#ExplorePage
#AurangzebOfficial
![]()

