ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل ) علمِ اسماء، فرشتوں کا امتحان، سجدۂ آدم اور ابلیس کی سرکشی۔«گزشتہ قسط میں آپ نے پڑھا: اللہ تعالیٰ نے زمین میں اپنا خلیفہ پیدا کرنے کا فیصلہ فرمایا، فرشتوں سے مکالمہ ہوا، حضرت آدمؑ کی مٹی سے تخلیق کے مراحل بیان ہوئے، ابلیس کے دل میں حسد نے جنم لیا، اور پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ میں روح پھونکی۔ اب ابلیس اور انسان کی تاریخ کا سب سے فیصلہ کن مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔»
—
جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق مکمل ہوئی تو وہ محض ایک جسم نہیں تھے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی خاص حکمت کا مظہر تھے۔ اب وہ مرحلہ آنے والا تھا جس کے ذریعے پوری مخلوق پر یہ حقیقت واضح ہونی تھی کہ انسان کی اصل فضیلت طاقت، جسم یا عمر میں نہیں بلکہ علم، ہدایت اور اطاعت میں ہے۔
علمِ اسماء کی عظیم نعمت
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا﴾
ترجمہ: "اور اللہ نے آدم کو تمام (اشیاء کے) نام سکھا دیے۔”
(سورۃ البقرۃ: 31)
مفسرین نے اس آیت کی مختلف تشریحات کی ہیں۔
امام ابن عباسؓ سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو انسانوں، جانوروں، پرندوں، نباتات اور دیگر مخلوقات کے نام اور ان کی پہچان سکھائی۔
امام طبری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ اس آیت کا ظاہر یہی ہے کہ حضرت آدمؑ کو وہ علم عطا کیا گیا جو اس وقت فرشتوں کے پاس نہ تھا۔
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدمؑ کو علم دے کر یہ ظاہر فرمایا کہ خلافتِ ارضی کا اصل معیار علم اور ہدایت ہے۔
—
فرشتوں کا امتحان
پھر اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا:
"میں ان سب کو ضرور گمراہ کروں گا، سوائے تیرے ان بندوں کے جنہیں تو نے خالص کر لیا ہے۔”
(سورۃ ص: 82–83)
اسی دن سے انسان اور شیطان کی جنگ شروع ہوئی، جو قیامت تک جاری رہے گی۔
—
اس قسط سے حاصل ہونے والے اسباق
– علم اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔
– عبادت کے ساتھ عاجزی نہ ہو تو انسان ہلاک ہو سکتا ہے۔
– تکبر سب سے پہلی نافرمانی تھی۔
– اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے عقل اور خواہش کو مقدم کرنا گمراہی ہے۔
– شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے، اس لیے ہر وقت اس کے وسوسوں سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
—
مراجع
– القرآن الكريم: سورۃ البقرۃ (31–34)
– سورۃ الأعراف (11–18)
– سورۃ الحجر (28–43)
– سورۃ ص (71–85)
– تفسیر ابن کثیر
– جامع البیان، امام طبری
– زاد المعاد، ابن قیم
– البدایہ والنہایہ، ابن کثیر
– فتح الباری، حافظ ابن حجر
اگلی قسط (قسط سوم):
حضرت حواءؑ کی تخلیق، جنت میں حضرت آدمؑ کی زندگی، ممنوعہ درخت، ابلیس کا دھوکہ، زمین پر نزول، حضرت آدمؑ کی توبہ، قبولیتِ توبہ، اور پوری انسانیت کے لیے عظیم اسباق۔