Daily Roshni News

سرابِ ہجوم اور شعور کی موت: ریوڑ کی نفسیات اور حق کی تنہائی کا عمرانی تجزیہ! – بلال شوکت آزاد

سرابِ ہجوم اور شعور کی موت: ریوڑ کی نفسیات اور حق کی تنہائی کا عمرانی تجزیہ! – بلال شوکت آزاد

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل۔۔۔ سرابِ ہجوم اور شعور کی موت: ریوڑ کی نفسیات اور حق کی تنہائی کا عمرانی ۔ تجزیہ۔۔۔ – بلال شوکت آزاد )انسانی شعور کے ارتقاء، فکری کشمکش اور نظریاتی تصادم کی تاریخ کا اگر ہم خالصتاً نفسیاتی اور عمرانی سطح پر مطالعہ کریں تو ایک انتہائی تلخ، پراسرار اور پیچیدہ حقیقت ہمارے سامنے پوری برہنگی کے ساتھ آشکار ہوتی ہے۔

ہم اکثر اپنی روزمرہ کی فکری نشستوں، سوشل میڈیا کے مباحثوں اور علمی مکالموں میں اس بات پر حیران ہوتے ہیں اور ایک شدید ذہنی کوفت کا شکار رہتے ہیں کہ آخر کیا وجہ ہے کہ جب ہم انتہائی واضح، منطقی، مستند اور ناقابلِ تردید دلائل پیش کرتے ہیں، تو سامنے بیٹھا ہوا فریق ان حقائق کو تسلیم کرنے سے یکسر انکاری کیوں ہو جاتا ہے؟

یہ فریق چاہے نیم روافض کا ہو، غالی روافض کا ہو، اندھے مسلک پرستوں کا ہو، مغرب زدہ ملحدین کا ہو، یا پھر نام نہاد روشن خیالوں اور ماڈرن فیمنسٹس کا ہو، ان سب کے ہاں ایک عجیب سی فکری ضد اور ہٹ دھرمی پائی جاتی ہے۔

ہم دلائل کے انبار لگا دیتے ہیں، تاریخ کے مستند ترین حوالے ان کے سامنے رکھ دیتے ہیں، قرآن و سنت کی واضح نصوص پیش کر دیتے ہیں، لیکن ان کے چہروں پر نہ تو کوئی ندامت نظر آتی ہے اور نہ ہی ان کے خیالات میں کوئی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔

محترم قارئین، اس فکری جمود کی وجہ یہ نہیں ہے کہ آپ کے دلائل میں کوئی خامی ہے یا آپ کا استدلال کمزور ہے، بلکہ اس کی اصل اور بھیانک وجہ یہ ہے کہ یہ طبقات حق کی طرف خود سے آ ہی نہیں سکتے، اور اگر یہ بظاہر چاہیں بھی تو ان کے لیے حق کو قبول کرنا نفسیاتی طور پر ناممکن ہو چکا ہوتا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ ان کی وہ مخصوص ذہنی اور نفسیاتی تربیت ہے جس نے ان کے انفرادی شعور کو مکمل طور پر مفلوج کر کے انہیں ایک ہجوم، ایک قطیع، اور ایک ریوڑ کا حصہ بنا دیا ہے۔

علمِ عمرانیات اور جدید نفسیات کی دنیا میں اس رویے کو “ہرڈ مینٹیلٹی” (Herd Mentality) یعنی ‘ریوڑ کی نفسیات’ یا ‘قطیع کی نفسیات’ کہا جاتا ہے۔

یہ انسانی ذہن کی وہ تاریک ترین اور خطرناک ترین حالت ہے جہاں ایک انسان اپنا انفرادی سوچنے سمجھنے کا اختیار، اپنی تنقیدی صلاحیت اور اپنی عقل کا کنٹرول رضاکارانہ طور پر ایک ہجوم کے حوالے کر دیتا ہے۔

اس نفسیات کے حامل افراد کی سب سے بڑی نشانی یہ ہوتی ہے کہ ان کے نزدیک کسی بھی بات کے سچ یا جھوٹ ہونے کا معیار کوئی عقلی، منطقی یا الہامی دلیل نہیں ہوتی، بلکہ ان کے نزدیک حق کا واحد معیار یہ ہوتا ہے کہ اس بات کے پیچھے کتنا بڑا ہجوم کھڑا ہے۔

ان کی نفسیاتی تربیت اور فکری نشوونما اسی خول کے اندر ہوتی ہے کہ وہ اپنے مخصوص ریوڑ کے اندر رہ کر ہی خود کو محفوظ، مطمئن اور حق پر سمجھتے ہیں۔

جب تک کسی حق بات پر باطل سے زیادہ بڑا ریوڑ جمع نہ ہو جائے، جب تک انہیں اپنے اردگرد تالیاں بجانے والا ہجوم نظر نہ آئے، تب تک دنیا کے تمام مستند دلائل، تمام آفاقی سچائیاں اور تمام سائنسی حقائق ان کے نزدیک بالکل بے اثر اور بے معنی رہتے ہیں۔

وہ سچائی کو اس کی ذات سے نہیں، بلکہ اس کے ماننے والوں کی تعداد سے ناپتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جب ایک ملحد یا لبرل آپ سے بحث کر رہا ہوتا ہے تو اسے اپنی دلیل کی مضبوطی پر نہیں بلکہ مغرب کے اس پورے مادی ہجوم پر ناز ہوتا ہے جو اس کے نظریے کی پشت پناہ ہے۔

اور بالکل اسی طرح جب ایک مسلک پرست، رافضی یا نیم رافضی کسی تاریخی واقعے پر بحث کرتا ہے تو وہ مستند تاریخ یا اجماعِ امت کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ اپنے اس ماتمی و پر شور اور جذباتی ہجوم کو دیکھتا ہے جو صدیوں سے ایک ہی من گھڑت بیانیے پر سینہ کوبی کر رہا ہے۔

تاریخِ انسانی کا اگر ہم بے رحم اور غیر جذباتی مطالعہ کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کو اپنی پوری الہامی تاریخ میں جس سب سے بڑی، ہولناک اور اعصاب شکن رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا، وہ کوئی فرعونیت کی تلوار یا نمرود کی آگ نہیں تھی، بلکہ وہ معاشرے کی یہی ‘قطیع کی نفسیات’ تھی۔

جب حضرت نوح علیہ السلام نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو حق کی طرف بلایا، تو قوم کا جواب کیا تھا؟

ان کا جواب یہی تھا کہ ہم اس بات کو کیسے مان لیں جسے ماننے والے محض چند غریب اور مٹھی بھر لوگ ہیں، جبکہ ہمارے باطل نظریات کے پیچھے سرداروں اور عوام کا ایک سمندر موجزن ہے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب بتوں کو توڑا اور اپنی قوم کو توحید کی خالص اور منطقی دلیل دی، تو اس پوری قوم کے پاس کوئی عقلی جواب نہیں تھا، لیکن ان کی ‘ریوڑ کی نفسیات’ نے انہیں یکجا کر کے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے پر مجبور کر دیا۔

ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب مکہ کی گلیوں میں توحید کا پرچم بلند کیا تو مکہ کے سرداروں کا سب سے بڑا اعتراض یہی تھا کہ کیا ہم اپنے ان آباؤ اجداد اور اس اکثریتی ہجوم کے راستے کو چھوڑ دیں جس پر ہم صدیوں سے چلتے آ رہے ہیں؟

انبیاء علیہم السلام نے ہمیشہ انسان کو اس ہجوم کی اندھی تقلید سے نکال کر انفرادی شعور، تدبر اور تفکر کی دعوت دی، اور اسی وجہ سے انہیں قدم قدم پر مصائب، جہدِ مسلسل اور ان ہجوموں کی بدترین مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔

ہجوم کبھی سچائی کا دوست نہیں ہوتا کیونکہ سچائی انسان سے قربانی، تنہائی اور فکری بیداری کا تقاضا کرتی ہے، جبکہ ہجوم انسان کو ایک جھوٹا سکون، اندھی تقلید اور بغیر کسی محنت کے ایک جعلی شناخت فراہم کرتا ہے۔

اس ریوڑ کی نفسیات کا ایک اور انتہائی دلچسپ اور حیرت انگیز پہلو یہ ہے کہ ان ہجوموں کی تعداد چاہے جتنی مرضی بڑھ جائے۔ یہ لاکھ ہوں، کروڑ ہوں، یا دس کروڑ ہوں، ان کی عقل، ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور ان کے شعور کا مجموعی وزن ہمیشہ برابر ہی رہتا ہے، یعنی صفر۔

ماہرینِ نفسیات بتاتے ہیں کہ جب ایک انسان کسی ہجوم کا حصہ بنتا ہے تو اس کا انفرادی آئی کیو (IQ) اور اس کا ضمیر سو جاتا ہے اور وہ بالکل اسی طرح برتاؤ کرتا ہے جس طرح وہ ہجوم برتاؤ کر رہا ہوتا ہے۔

آپ ایک بکری کو دیکھیں اور پھر دس ہزار بکریوں کے ریوڑ کو دیکھیں، ان کے شعور کے وزن میں کوئی فرق نہیں ہوگا، کیونکہ وہ دس ہزار بکریاں دس ہزار مختلف طریقوں سے نہیں سوچ رہیں، بلکہ وہ صرف اس ایک بکری کے پیچھے چل رہی ہیں جو سب سے آگے ہے۔

اسی طرح ان روافض، ملحدین اور مسلک پرستوں کا معاملہ ہے۔

ان کا یہ ریوڑ ہی ان کی نظر میں حق کی سب سے بڑی دلیل ہوتا ہے۔

جب یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے جلسوں میں، ہماری مجالس میں، یا ہمارے فکری سیمینارز میں ہزاروں اور لاکھوں کا مجمع ہے، تو ان کا دماغ خود بخود یہ سگنل دیتا ہے کہ اتنے سارے لوگ غلط کیسے ہو سکتے ہیں؟

یہ وہ سب سے بڑا فکری دھوکہ ہے جو انسان اپنے آپ کو دیتا ہے۔

وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ سچائی کوئی جمہوری عمل نہیں ہے جہاں کثرتِ رائے سے فیصلہ ہوتا ہو کہ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ۔

سچائی ایک آفاقی اور الہامی اصول ہے جو اپنی ذات میں مکمل ہے، چاہے اس کو ماننے والا اس پوری کائنات میں صرف ایک ہی انسان کیوں نہ ہو۔

اس کے برعکس، جب ہم ایک حقیقی، باشعور اور توحید پر قائم مسلمان کے فکری زاویے کو دیکھتے ہیں تو وہاں ہمیں ایک بالکل مختلف، آزاد اور پروقار نفسیات نظر آتی ہے۔

ایک مسلمان کا فکری قبلہ اور اس کا کمپاس کبھی بھی ہجوم، اکثریت یا کسی معاشرتی ریوڑ کی طرف نہیں ہوتا۔

وہ حق اور باطل، اور ایمان اور کفر کا فرق سمجھنے کے لیے ہمیشہ قرآنِ مجید کی قطعی نصوص، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مستند سنت، اور اجماعِ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرف متوجہ رہتا ہے۔

اس کے لیے حق کی کسوٹی یہ نہیں ہے کہ آج کی ماڈرن دنیا کیا کہہ رہی ہے، یا فلاں فرقے کے پاس کتنا بڑا مجمع ہے۔

اس کے لیے حق کی کسوٹی یہ ہے کہ کیا یہ بات اللہ کے کلام اور اس کے رسول ﷺ کے فرمان سے ثابت ہے؟

اگر ثابت ہے، تو چاہے پوری دنیا اس کے خلاف کھڑی ہو جائے، وہ اس حق کو سینے سے لگائے رکھے گا۔

اور اگر کوئی نظریہ قرآن، سنت اور صحابہ کے اجماع سے ٹکراتا ہے، تو چاہے اسے ماننے والے اربوں میں ہوں، وہ اسے جوتے کی نوک پر رکھے گا۔

مسلمان اپنی فکری غذا آسمان سے لیتا ہے، جبکہ یہ ہجوم اپنی فکری غذا زمین کے اس گند سے لیتے ہیں جسے معاشرے کی اندھی تقلید نے پیدا کیا ہے۔

یہ اپنے ریوڑ کی مستی میں ایسے گم اور مست قلندر ہوتے ہیں کہ انہیں باہر کی کوئی آواز سنائی ہی نہیں دیتی۔

وہ ریوڑ، جو خود ایک ریوڑ کی پیروی کر رہا ہوتا ہے، ایک اندھے کنویں کے گرد گول گول گھومنے کو ہی کائنات کا سب سے بڑا سفر سمجھ لیتا ہے۔

یہاں ایک اور انتہائی اہم اور چشم کشا پہلو پر بات کرنا ناگزیر ہے جس نے اس ہجوم کی نفسیات کو مزید پختہ اور لاعلاج بنا دیا ہے، اور وہ ہے “گھسی پٹی، من گھڑت اور جھوٹی تاریخ” کا کردار۔

آپ نے اکثر غور کیا ہوگا کہ جب آپ ان نیم روافض یا مسلک پرستوں کے سامنے تاریخ کے مستند ترین حوالے، علمِ اسماء الرجال کے کڑے ترین اصول، اور صحیح احادیث پیش کرتے ہیں تو وہ ان سب کو یکسر مسترد کر کے اپنی انہی صدیوں پرانی، ضعیف، اور جذباتی کہانیوں پر اڑے رہتے ہیں۔

اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ ان کہانیوں کی سند یا حقیقت سے ناواقف ہیں، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ من گھڑت تاریخ اس ریوڑ کی ‘لائف لائن’ (Life Line) بن چکی ہے۔

اگر وہ اس جھوٹی تاریخ کو نکال دیں، تو ان کے اس پورے ریوڑ کا وجود ہی ختم ہو جائے گا۔

ان کی مجالس، ان کا ماتم، ان کی ریلیاں، ان کے جلوس، ان کی کانفرنسز، ان کا مظلومیت کا رونا یا کسی بھی طرح کا بدعتی جشن و طرب، اور ان کا وہ خول جس میں وہ صدیوں اور دہائیوں سے چھپے بیٹھے ہیں، وہ سب اسی من گھڑت تاریخ کے سہارے کھڑا ہے۔

لہٰذا، ان کا لاشعور انہیں مجبور کرتا ہے کہ وہ سچائی کو تسلیم نہ کریں، کیونکہ سچائی کو تسلیم کرنے کا مطلب اپنے ریوڑ سے کٹ جانا ہے، اور ریوڑ سے کٹ جانے کا خوف ان کے لیے موت کے خوف سے زیادہ بڑا ہوتا ہے۔

وہ اس جھوٹ کے اس قدر عادی ہو چکے ہوتے ہیں کہ اب وہ جھوٹ انہیں نہ تو برا لگتا ہے، نہ غلط لگتا ہے، اور نہ ہی جھوٹ محسوس ہوتا ہے۔

یہ دراصل انسانی نفسیات کا وہ “ایکو چیمبر” (Echo Chamber) ہے جہاں انسان صرف وہی سنتا ہے جو وہ سننا چاہتا ہے، اور جہاں ایک ہی جھوٹ کو جب لاکھوں لوگ مل کر دہراتے ہیں تو وہ ان کے لیے کائنات کی سب سے بڑی سچائی بن جاتا ہے۔

ہمیں یہ بات پورے ادراک، یقین اور شعور کے ساتھ سمجھ لینی چاہیے کہ ہمارا کام ان ریوڑوں، ان ہجوموں اور ان متکبر گروہوں کو ہدایت دینا، ان کی ذہن سازی کرنا یا انہیں زبردستی گھسیٹ کر حق کے راستے پر لانا ہرگز نہیں ہے۔

ہماری ذمہ داری صرف اتنی ہے کہ ہم حق کو اس کی پوری آب و تاب، منطق، دلیل اور شریعت کی روشنی میں بیان کر دیں، اور اسے اس طرح واضح کر دیں کہ اس میں کوئی ابہام باقی نہ رہے۔

جن کی روحوں میں سچائی کی تڑپ ہوگی، جن کے ضمیر زندہ ہوں گے، اور جو واقعی اس ریوڑ کی نفسیات سے آزاد ہو کر ایک انسان کی طرح سوچنے کا حوصلہ رکھتے ہوں گے، وہ اس حق کو پہچان لیں گے۔

لیکن جو لوگ اپنی انا، اپنے مسلک، اپنی ماڈرن ازم کی اندھی تقلید، اور اپنے ریوڑ کی محبت میں اس قدر غرق ہو چکے ہیں کہ انہیں حق اور باطل کی تمیز ہی بھول چکی ہے، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دینا ہی کائناتی حکمت کا تقاضا ہے۔

ہمیں اس بات پر نہ تو مایوس ہونا چاہیے اور نہ ہی کوئی ذہنی دباؤ لینا چاہیے کہ یہ لوگ ہماری بات کیوں نہیں مان رہے۔

ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ یہ ان کا انتخاب نہیں، بلکہ یہ ان کی وہ نفسیاتی معذوری ہے جس نے ان کے دلوں، ان کی آنکھوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے۔

کائنات کی تاریخ گواہ ہے کہ حق ہمیشہ تنہا، غریب اور مٹھی بھر لوگوں سے شروع ہوتا ہے، لیکن اس کی طاقت اور اس کا غلبہ ان کروڑوں کے ہجوموں اور ریوڑوں پر بھاری ہوتا ہے جو صرف آوازوں کے شور اور جذباتی نعروں کے سہارے زندہ ہوتے ہیں۔

ہمیں اس تنہائی پر فخر کرنا چاہیے اور قرآن و سنت کی اس مضبوط اور ناقابلِ شکست رسی کو تھامے رکھنا چاہیے، کیونکہ جب روزِ قیامت ان تمام ریوڑوں کا یہ جھوٹا سراب ٹوٹے گا اور حقیقت بے نقاب ہوگی، تب انہیں معلوم ہوگا کہ حق کی وہ تنہائی کس قدر پروقار تھی اور ان کے اس ریوڑ کا انجام کس قدر بھیانک اور ذلت آمیز ہے۔

#سنجیدہ_بات

#آزادیات

#بلال #شوکت #آزاد

Loading