Daily Roshni News

سقوطِ ڈھاکہ کے تاریخی حقائق۔۔

سقوطِ ڈھاکہ کے تاریخی حقائق۔۔

ہالینڈ(ڈیلی روشنی نیوز انٹرنیشنل)نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزرنے کے باوجود ہمارے اسکولوں میں آج بھی یہی پڑھایا جاتا ہے کہ 16 دسمبر 1971 کو سقوطِ ڈھاکہ ہماری سیاسی و عسکری ناکامی نہیں تھا بلکہ “چند شرپسند بنگالیوں اور بھارت کی سازش” تھی۔ یہ بیانیہ جان بوجھ کر اس شدومد سے دہرایا گیا کہ یہی سچ لگنے لگا۔ اصل وجہ یہ ہے کہ اگر تاریخ دیانت داری سے لکھی جائے تو یحییٰ خان، بھٹو، فوجی آپریشن اور حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کا ذکر لازمی ہو جاتا ہے۔ اور یہاں طاقتور حلقوں کی ساکھ داؤ پر لگ جاتی ہے۔ اس لیے آسان حل یہ نکالا گیا کہ “ننگے حقائق کو خوشنما جامہ پہنا دیا جائے” اور کہانی کو “مشرقی پاکستان تھا، پھر بنگلہ دیش بن گیا” پر ختم کر دیگئ جس دن سے خلیج شروع ہوئ وہ  4 مارچ 1948 – ڈھاکہ یونیورسٹی تھی جس دن کہاگیا کہ “اردو اور صرف اردو ہی قومی زبان ہوگی”۔  طلبا کھڑے ہو گئے، مجلس الٹ دی۔  اوراسی شام شیرِ بنگال مولوی فضل الحق نے انکو جواب دیا “زبان کونسی ہوگی یہ عوام طے کریں گے، گورنر جنرل نہیں”۔ یہاں احساسِ محرومی کا بیج بویا گیا۔ جنوری تا 21 فروری 1952 – زبان کی تحریک شروع ہوئی جب  اسمبلی میں اردو کو واحد قومی زبان کی سفارش آئی تو بنگالی سڑکوں پر نکلے۔  اکیس فروری کو کرفیو کے باوجود جلوس نکلا۔ فائرنگ ہوئی۔ پانچ  طلبارفیق، جبار، سلام، برکت، شفیع شہید ہوئے۔  اورجہاں ابو برکت گرا، وہاں طلبا نے راتوں رات “شہید مینار” بنا دیا۔

یہ مینار 1971 میں آپریشن سرچ لائٹ میں توڑا گیا، پھر کارکنوں نے دوبارہ بنا دیا جیتنے کے بعد شیخ مجیب اور کارکنوں نے سب سے پہلے اسی شہید مینار پر حاضری دی۔ 21 فروری کا زخم کبھی نہیں بھرا تھا۔ 6 نکات، 1970 کے انتخابات، آپریشن سرچ لائٹ – یہ سب اسی دن کی توسیع تھے۔ لیک۔ لیکن چھ  نکات بھی اصل میں  علیحدگی کا اعلان نہیں وفاق بچانے کا اعلامیہ  تھا

6 فروری 1966 کو لاہور کے اپوزیشن کنونشن میں شیخ مجیب نےیہ نکات پیش کیے خود ان کے الفاظ تھے یہ تھے  “میرا مقصد دونوں حصوں کو ایک سیاسی وحدت کے طور پر رکھنا ہے”۔ یہ مطالبات کنفیڈریشن طرز کے تھے دفاع و خارجہ وفاق کے پاس اور  باقی سب صوبوں کے پاس۔ سبجیکٹ کمیٹی میں چوہدری محمد علی، مودودی، نوابزادہ نصراللہ خان جیسے بڑے نام تھے جنہوں نے مطالبات ایجنڈے میں شامل کرنے سے انکار کر دیا۔ اگلے دن مغربی میڈیا نے مجیب کو “علیحدگی پسند” قرار دے دیا۔ نوائے وقت نے لکھا “یہ علاج ایسا ہے کہ مریض ہی ختم ہو جائے گا”۔ ابتدا میں مشرقی بنگال  کی اپنی قیادت نے بھی نکات مسترد کیے۔ لیکن 1965 کی جنگ میں “دفاع مشرق کا مغرب میں” والے نظریے نے بنگالیوں کو قائل کر دیا کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔

1970 کے انتخابات میں عوامی لیگ نے 300 میں سے 167 سیٹیں جیتیں۔ یعنی اکثریت۔ مگر اقتدار دینے کے بجائے “لاڑکانہ سازش” کے ذریعے نتائج کو روکنے کا فیصلہ ہوا۔ مذاکرات ناکام ہوئے تو 25/26 مارچ 1971 کی رات “آپریشن سرچ لائٹ” شروع ہوا۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان شیخ مجیب نے نہیں کیا۔ مجیب کی ہر تقریر میں “اپنی قسمت کا خود مالک” کا مطالبہ تھا۔ اعلان میجر ضیا الرحمن نے چٹاگانگ ریڈیو سے فوجی آپریشن کے بعد کیا۔ آپریشن کے بعد مجیب کو گرفتار کر کے ساہیوال اور لائل پور جیل میں رکھا گیا۔ ان پر بغاوت کا مقدمہ چلانے کے لیے ٹریبونل بنا جس کا کوئی ریکارڈ نہیں۔ 20 دسمبر کو بھٹو نے اقتدار لیا اور 10 جنوری 1972 کو مجیب کو رہا کر کے لندن بھیج دیا۔

سقوط کے بعد حمودالرحمن کمیشن بنا۔ 300 سے زائد گواہوں کے بعد کمیشن نے یحییٰ خان، جنرل گل حسن، جنرل نیازی، جنرل پیرزادہ، جنرل مٹھا اور دیگر کے خلاف کورٹ مارشل کی سفارش کی۔ الزامات بدانتظامی، لوٹ مار، غبن، اخلاقی بے راہروی اور فوجی ناکامی۔ مگر ہوا کیا؟ یحییٰ نظربند رہے پھر رہا ہوئے۔ گل حسن کو برطرف کرنے کے بجائے کمانڈر انچیف بنا دیا گیا۔ باقی سب باعزت ریٹائر ہوئے۔ کمیشن کی رپورٹ آج تک مکمل پبلک نہیں ہوئی۔ یہی وہ “شرمسار ماضی” ہے جسے چھپانے کے لیے تاریخ مسخ کی گئی

بنگلہ دیش میں بھی وہی کہانی دہرائی گئی۔ 1975 میں شیخ مجیب کا پورا خاندان قتل ہوا۔ پھر 3 بار مارشل لا اور موروثی سیاست۔ اب 2024 کے بعد مجیب کے مجسمے گرائے جا رہے ہیں، حسینہ واجد جلاوطن ہیں اور پاکستان-بنگلہ دیش تعلقات بہتر ہو رہے ہیں۔ سبق صاف ہے کہ جب اکثریت کو حق نہ دیا جائے، جب صوبوں کو اعتماد میں نہ لیا جائے، اور جب تاریخ کو سچ کے بجائے سہولت کے مطابق لکھا جائے تو قومیں ٹوٹتی ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم نصاب سے “اللہ اللہ خیر صلہ” والا باب نکالیں اور نئی نسل کو سچ بتائیں تاکہ ماضی کی غلطیاں نہ دہرائیں۔.✍️

Loading